تحریر؛مرزا عارف رشید
پنجاب میں ایجوکیشن کے حوالہ سے جس طرح خصوصی توجہ دی جا رہی ہے یہ بہت احسن اقدم ہے ایجوکیشن کو مزید بہتر کرنے کی اہم ضرورت ہے وزیر اعلی پنجاب مریم نواز شریف صاحبہ کے ویژن کے مطابق تعلیم عام ہونی چاہیے معیاری تعلیم کو فروغ دیا جائے تعلیمی سرگرمیوں میں وزیر اعلی کے حکم پر پیف کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے ساتھ میٹنگ بھی کی گئی جس پر بورڈ نے حکومت کے سامنے چند گزارشات بھی رکھی گئی جن پر فوری طور پر کام ہوا جس میں ایلیمنٹری سیکنڈری اور ہائیر سیکنڈری کی سطح پر بچوں کو تعلیم حاصل کرنے کے لئے حکومت پنجاب کو ماہانہ سبسڈی دینا ہوگی جس پر حکومت پنجاب نے 20 فیصد سے 40 فیصد تک کی منظوری دی جماعت سوئم تا پنجم تک موجودہ فیس کی مد میں 750 روپے تھے اب فیس میں اضافہ کرکے 800 کر دی گئی ہے ششم تا ہشتم کی موجودہ فیس 900 روپے تھی اب اس میں 1100روپے تک کا اضافہ کر دیا گیا ہے اسی طرح نہم تا دہم آرٹس موجودہ فیس 1100 تھی اب فیس میں اضافہ کرتے ہوئے 1400 روپے کر دی گئی ہے نہم تا دہم سائنس ٹیک موجودہ فیس 1300 روپے سے اضافہ کرتے ہوئے 1800 تک کر دی گئی ہے گیارہویں تا بارہویں آرٹس 1500 سے اضافہ کر کے 2000 تک کر دی گئی ہے گیارہویں تا بارہویں سائنس 1800 سے اضافہ کرتے ہوئے 2200 تک کرنے کی منظوری دے دی گئی ہے چیرمین پیف ملک شعیب اعوان کی صدارت میں 95 ویں اجلاس کیا گیا بتایا گیا کے فیز 1 میں پانچ ماہ میں بچوں کی تعداد میں اضافہ ہوا جسے کہ پہلے بچوں کی تعداد تھی 242092 جبکہ اب ان بچوں کی تعداد اب 376638 ہوگء ہے اساتذہ کی تعداد میں بھی اضافہ کیا گیا پہلے 8037 تھی اب اساتذہ کی تعداد ہے 16045 ہوگء سکول میں فرنیچر میں بھی اضافہ کر دیا گیا ہے 371042 سے بڑھ کر 523169 ہوگئی ہے مختلف علاقوں میں پبلک سکول اینڈ کالجز کی بھی منظوری دی گئی ہے جبکہ جلال پور پیر والا میں بھی سکول اینڈ کالجز بنانے کی منظوری بھی ہوچکی ہیحکومت پنجاب نے بھاولپور اور سرگودھا میں دو عدد نئے دفاتر کے قائم کرنے کی منظوری دی ہے پیف نے اپنے مطالبات تو حکومت سے منظور کروالی اور پنجاب میں تعلیم کو عام کرنے کے لیے حکومت کا احسن اقدام ہے مگر صوبائی وزیر تعلیم کو پورے پنجاب میں ہنگامی طور پر دورے کرنے چاہئے جب سے پیف کا قیام عمل میں آیا تب سے اب تک ریکارڈ چیک کرنا ضروری ہے پنجاب کے ہر پرائیویٹ سکول میں ٹیچر کی تعداد کیا ہے اور موجودہ سکول ٹیچر کو تنخواہ کتنی ادا کرتا ہے سب معلومات پیف حکومت پنجاب کو دے زیادہ تر سکول کے پرنسپل تنخواہ کی ادائیگی پر ٹیچروں سے دستخط کروا لیتے ہیں جو کہ انتہائی غلط ہے ٹیچروں کی تنخواہ حکومت ادا کریں اور ٹیچروں کے تنخواہ ان کے بینک اکاؤنٹ میں جانی چاہیے ہر سکول ٹیچر کا بینک اکاؤنٹ ہونا ضروری ہے پنجاب میں پرائیویٹ سکولوں زیادہ تر عمارتیں بوسیدہ ہیں سکولوں کو کلیرنس سرٹیفیکیٹ دینے والے اداروں کے خلاف بھی ایکشن لیا جائے بچوں کے لئے پینے کے پانی کا خاص انتظام بھی نہیں ہوتا عام سے کولر لگا کر کہا جاتا ہے پانی صاف ہے جس سے بیماریاں عام ہو رہی ہیں خاص طور پر گرمیوں میں سکول کے پرنسپل آفس جہاں پرنسپل براجمان ہوتے ہیں وہاں اے سی کا بہترین نظام ہوتا ہے لیکن جن کمروں میں بچے یا پھر ٹیچرز ہوتی ہیں وہاں پنکھے لگائے جاتے ہیں کسی بھی کلاس روم میں ائر کولر نہیں لگایا جاتا حالانکہ پرائیویٹ ادارے اپنی من مانیوں سے بھاری فیسیں وصول کرتے ہیں افسران کو دیکھانے کے لیئے پرانے کولر رکھ دیے جاتے ہیں صرف خانہ پوری کرنے کے لیے ہوتے ہیں اعلی تعلیم یافتہ ٹیچرز جن کی تعلیم بی اے ایم اے تک یا اس بھی زیادہ ہوتی ہے اجرت نہ ہونے کے برابر ہوتی ہے پرائیویٹ اور دوسری طرف سرکاری سکولوں میں سکیل کے مطابق تنخواہ ہوتی ہے سالانہ چھٹیاں تک دی جاتی ہیں پینشن حکومت دیتی ہے پرائیویٹ سکولوں میں تنخواہ تک پوری نہیں دی جاتی حکومت پرائیویٹ سکولوں پر ضرور نظر رکھے پرائیویٹ سکولوں کی ٹیچروں کو تنخواہ کچھ اس طرح دی جاتی ہے جیسے اونٹ کے منہ میں زیرہ پرائیویٹ سکولوں میں بھی ٹیچروں کو قانون کے مطابق تنخواہ ادا کرنی چاہیے حکومت پنجاب ہنگامی طور پر محکموں کو ٹھیک کرنے میں لگی ہوئی ہے جس بھی محکمہ پر نظر ڈالی جائے وہ محکمہ بری حالت میں ہوتا ہے بچوں میں تعلیم کا شوق پیدا کیا جانا بہت ضروری ہوگیا ہے وہی قومیں ترقی کی طرف گامزن ہوگی جن کی نسلیں تعلیم پر توجہ دیتی ہیں جو تعلیم پر توجہ نہیں دیتی وہ قومیں کبھی ترقی نہیں کر پاتی پنجاب میں پیف پر توجہ دی جائے اور جو بچے دکانوں پر کام کرتے ہیں فوری طور پر ان کو سکولوں میں داخل کیا جائے ہر ضلع کے ڈی سی اوز اور تحصیل کے اسسٹنٹ کمشنر کو ہدایات دی جائے کہ ان بچوں کو سکولوں میں داخل کروائے پنجاب کے پرائیویٹ سکولوں کی عمارت کو بھی چیک کیا جائے بوسیدہ عمارتوں کو ختم کیا جائے خاص طور پر ہر کمرے میں بچوں کی تعداد پر خاص توجہ دی جائے چھوٹے چھوٹے سکول تعمیر کروا کر پیف کے زیر سایہ کام شروع کر دیا جاتا ہے کمروں کی تعداد میں اضافہ بہت ضروری ہے حکومت پنجاب کو فروغ تعلیم کے لیے اور بھی بہت کچھ کرنا ہوگا تعلیم کے ساتھ ساتھ کھیل بھی بچوں کے لئے بہت ضروری ہے سکولوں میں کمپیوٹر روم اور ایک بڑا حال ہو جہاں چھوٹے بچوں کو مختلف طریقوں سے کچھ نہ کچھ سیکھایا جائے گراؤنڈ کا ہونا بہت ضروری ہے جہاں گراونڈ آباد ہوتے ہیں وہاں صحت مند زندگی ہوتی ہے جب سے گراونڈ برباد ہوئے ہیں ہماری نسلیں بھی برباد ہورہی ہیں بچوں کے ہاتھوں میں اب موبائلز کی بھرمار ہے حکومت پنجاب تمام سرکاری اور پرائیویٹ سکولوں میں کھیل کے میدانوں کو آباد کریں وزیر اعلی پنجاب اپکو ابھی بھی بہت کچھ کرنا ہوگا انے والی نسلوں کو ایک ایسے رہنما کی ضرورت جو ترقی یافتہ ملکوں کے ساتھ ہماری نسلوں کو لے کر آئے تب ہی ہمارے ہاں تعلیم کا نظام بہتر ہوسکتا ہے
سرکاری اور پرائیویٹ و پیف سکولوں کی کارکردگی