مہمان کالم - پیارے نبی صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلّم کی پیاری پیاری باتیں!!!!! پیارے نبی صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلّم کی پیاری پیاری باتیں!!!!!

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے فرمایا کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلّم کے پاس لیلة القدر کا تذکرہ کیا تو آپ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلّم نے فرمایا کہ تم میں سے کس کو یاد ہے کہ جس وقت چاند طلوع ہوا لیلة القدر وہ رات ہے کہ جس میں چاند طشت کے ایک ٹکڑے کی طرح طلوع ہوتا ہے۔ حضرت ابی بن کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بارے میں فرماتے ہیں کہ حضرت ابی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے لیلة القدر کے بارے میں فرمایا اللہ کی قسم! میں اس رات کو جانتا ہوں شعبہ نے کہا کہ حضرت ابی فرماتے ہیں کہ مجھے سب سے زیادہ اس بات پر یقین ہے کہ یہ وہی رات ہے کہ جس رات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلّم نے ہمیں قیام کا حکم فرمایا اور وہ ستائیسویں رات ہے شعبہ کو حضرت ابی ؓ کے ان الفاظ میں شک ہے کہ یہ وہی رات ہے کہ جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلّم نے ہمیں حکم فرمایا۔ حضرت سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلّم نے ارشاد فرمایا لیلة القدر کو رمضان کے آخری عشرہ میں تلاش کرو۔ حضرت عبداللہؓ بن انیس سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلّم نے فرمایا کہ مجھے لیلة القدر دکھائی گئی پھر اسے بھلا دیا گیا اور میں نے اس کی صبح دیکھا کہ میں پانی اور مٹی میں سجدہ کر رہا ہوں راوی کہتے ہیں کہ تیئسویں رات بارش ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلّم نے ہمیں نماز پڑھائی آپ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلّم نماز سے فارغ ہوئے تو آپ کی پیشانی اور ناک پر پانی اور مٹی کے نشان تھے حضرت عبیداللہ ابن انیس رضی اللہ تعالیٰ عنہ تیئسویں رات کو لیلہ القدر فرماتے تھے۔ حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلّم نے رمضان کے درمیانی عشرہ میں اعتکاف فرمایا آپ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلّم نے لیلة القدر کے ظاہر ہونے سے پہلے اسے تلاش کیا راوی کہتے ہیں کہ جب درمیانی عشرہ پورا ہوگیا تو آپ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلّم نے خیمہ کو نکالنے کا حکم فرمایا پھر آپ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلّم کو آگاہ کیا گیا کہ لیلة القدر آخری عشرہ میں ہے آپ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلّم نے پھر خیمہ لگانے کا حکم فرمایا پھر آپ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلّم لوگوں کے پاس تشریف لائے اور فرمایا اے لوگوں مجھے لیلة القدر کے بارے میں بتایا گیا تھا اور میں اس کی خبر دینے کےلئے نکلا تھا کہ دو آدمی لڑتے ہوئے نظر آئے ان کے ساتھ شیطان تھا تو میں اسے بھول گیا ہوں تو اب تم لیلة القدر کو رمضان کے آخری عشرہ نویں، ساتویں اور پانچویں رات میں تلاش کرو۔ راوی کہتا ہے کہ میں نے کہا ابو سعید ہم سے زیادہ گنتی کو تم جانتے ہو تو وہ کہنے لگے کہ ہاں اس بارے میں ہم تم سے زیادہ حق رکھتے ہیں راوی نے کہا کہ میں نے عرض کیا کہ نویں اور ساتویں اور پانچویں کا کیا مطلب ہے؟ انہوں نے فرمایا حضرت ابوسعید ؓ فرماتے ہیں کہ اکیسویں رات گزارنے کے بعد جو بائیسویں رات آتی ہے وہی نویں رات ہے اور جب بائیسویں رات گزارنے کے بعد چوبیسویں رات آتی ہے وہی ساتویں رات ہے اور جب پچیسویں رات گزارنے کے بعد چھبیسویں رات آتی ہے تو وہی پانچویں رات ہے۔

حضرت ابی بن کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پوچھا اور عرض کیا کہ آپ کے بھائی حضرت ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ جو آدمی سارا سال قیام کرے گا تو وہ لیلة القدر کو پا لے گا حضرت ابی بن کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ اللہ اس پر رحم فرمائے وہ یہ چاہتے تھے کہ کہیں لوگ ایک ہی رات پر نہ بھروسہ کر کے بیٹھ جائیں ورنہ یقینا وہ اچھی طرح جانتے تھے کہ لیلة القدر رمضان میں ہے اور وہ بھی رمضان کے آخری عشرے میں ہے اور وہ رات ستائیسویں رات ہے پھر انہوں نے بغیر استثناء انشاء اللہ کے بغیر کے قسم کھائی کہ لیلة القدر ستائیسویں رات ہے میں نے عرض کیا اے ابوالمنذر! آپ یہ بات کس وجہ سے فرما رہے ہیں؟ انہوں نے فرمایا کہ اس دلیل اور نشانی کی بنا پر کہ جس کی خبر رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلّم نے ہمیں دی ہے کہ یہ وہ رات ہے کہ اس رات کے بعد کے دن جو سورج طلوع ہوتا ہے تو اس کی شعائیں نہیں ہوتیں۔ 

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلّم نے رمضان کے ابتدائی عشرہ میں اعتکاف فرمایا پھر آپ نے رمضان کے درمیانی عشرہ میں ایک ترکی خیمہ میں اعتکاف فرمایا جس کے دروازے پر چٹائی لگی ہوئی تھی راوی کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلّم نے اپنے ہاتھ سے وہ چٹائی ہٹائی اور خیمہ کے ایک کونے میں اسے رکھ دیا پھر آپ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلّم نے اپنا سر مبارک خیمہ سے باہر نکالا اور لوگوں سے بات فرمائی تو وہ آپ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلّم کے قریب ہوگئے اور آپ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلّم نے فرمایا کہ میں نے اس رات کی تلاش میں پہلے عشرے میں اعتکاف کیا تھا پھر میں نے درمیانی عشرہ میں اعتکاف کیا پھر (میرے پاس کسی کو) لایا گیا اور مجھ سے کہا گیا کہ یہ رات آخری عشرہ میں ہے تو تم میں سے جسے اعتکاف کرنا پسند ہو تو اسے چاہیے کہ وہ اعتکاف کرلے تو لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلّم کے ساتھ اعتکاف کیا آپ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلّم نے فرمایا کہ میں اس رات کو طاق رات میں دیکھا اور میں نے دیکھا کہ میں اسی طاق رات کی صبح کو مٹی اور پانی میں سجدہ کررہا ہوں آپ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلّم نے اکیسویں رات کی صبح تک قیام کیا صبح کے وقت بارش ہوئی اور مسجد سے پانی ٹپکا تو جس وقت آپ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلّم صبح کی نماز سے فارغ ہوئے تو میں نے دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلّم کی پیشانی اور ناک کی چوٹی کا کنارہ مٹی اور پانی سے آلودہ تھا اور یہ صبح آخیر عشرہ کی اکیسویں رات کی تھی۔

آج آخری روزہ ہے یقینا ہم اس بابرکت مہینے کا حق ادا کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہماری کوتاہیوں غلطیوں کو معاف فرمائے اور رمضان المبارک کے دوران کیے گئے اعمال کو قبولیت ا درجہ عطاءفرمائے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں آئندہ برس بھی صحت و تندرستی کے ساتھ رمضان المبارک کی بابرکت گھڑیاں نصیب فرمائے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلّم کی سنتوں پر عمل کرنے انہیں پھیلانے اور اس کے لیے کام کرنے والوں کا ساتھ دینے کی توفیق عطاءفرمائے۔ آمین

بشکریہ روزنامہ آج