پانی کا مستقبل یا مستقبل کا بحران؟
پانی کے دانشمندانہ استعمال کے حوالے سے عوامی آگاہی کی مہمات بھی ضروری ہیں کیونکہ کمیونٹی کی سطح پر طرز عمل میں تبدیلی کے بغیر کوئی تکنیکی حل کامیاب نہیں ہوسکتا
ماہرین نے متنبہ کیا ہے کہ اگر اس صورتحال پر فوری قابو نہ پایا گیا یا قابو پانے کے اقدامات سنجیدگی سے نہ کئے گئے تو خیبرپختونخوا کو اگلی دہائی میں زیادہ بڑے آبی بحران کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے‘ جس کا اثر صرف زراعت پر نہیں بلکہ شہروں کی پینے کے پانی کی فراہمی اور صنعتی سرگرمیوں پر بھی پڑے گا۔
اَبوالحسن اِمام
خیبر پختونخوا حکومت نے بالآخر ایسا قدم کیا ہے جس کے بارے میں بہت سے ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ طویل عرصے سے زیر التوأ تھا یعنی اِس کی ضرورت (کمی) محسوس کی جا رہی تھی۔ آبی وسائل میں کمی اور موسمیاتی تبدیلی کے بڑھتے ہوئے خطرات سے دوچار صوبے نے پانی کے بڑھتے ہوئے بحران سے نمٹنے کے لئے انٹرنیشنل واٹر مینجمنٹ انسٹی ٹیوٹ (ایمی) کے ساتھ مفاہمت کی یادداشت (ایم او یو) پر دستخط کئے ہیں۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب اقوام متحدہ کے ادارے بار بار خبردار کر رہے ہیں کہ پاکستان پانی کی کمی والے ممالک کی فہرست میں خطرناک حد تک نیچے جا رہا ہے۔
خیبرپختونخوا میں پانی نایاب ہو رہا ہے۔ واٹر گورننس کمزور ہے اور پانی کی طلب غیر مستحکم رفتار سے بڑھ رہی ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں فی کس پانی کی دستیابی جو کہ 1954 میں میں 5600 مکعب میٹر تھی سال 2024 میں 1000 مکعب میٹر سے بھی رہ ہو گئی ہے، جو کہ عالمی سطح پر پانی کی قلت کی حد (1700 مکعب میٹر) سے کم ہے۔ خیبرپختونخوا اپنے دریاؤں اور پہاڑی چشموں کے باوجود پانی کی قلت جیسے خطرے سے محفوظ نہیں۔ صوبہ زراعت کے لئے آبپاشی پر بہت زیادہ انحصار کر رہا ہے، جو اس کی تقریباً 50 فیصد آبادی کو روزگار فراہم کرتا ہے لیکن ناقص منصوبہ بندی اور فضول طریقوں سے وسائل کی کمی بڑھتی جا رہی ہے۔ سیکرٹری محکمۂ آبپاشی ایاز خان اور آئی ڈبلیو ایم آئی کے نمائندوں کی جانب سے دستخط کئے گئے مذکورہ مفاہمتی یاداشت (ایم او یو) میں تبدیلی کا وعدہ کیا گیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ معاہدہ ’’خیبرپختونخوا واٹر ایکٹ 2020 اور نیشنل واٹر پالیسی 2018 کے بنیادی مقصد سے ہم آہنگ ہے۔ مذکورہ دونوں حکمت عملیوں میں پانی کے پائیدار استعمال اور اِس کی منصفانہ تقسیم پر زور دیا گیا ہے۔ اس شراکت داری میں مانسہرہ اور چارسدہ میں کنوؤں کے مقامات کی نشاندہی ’’جیو ٹیگنگ‘‘ سے لے کر پانی کے بہتر ضوابط وضع کرنے تک سائنسی حل پر توجہ مرکوز کی جائے گی۔ برطانیہ کے کامن ویلتھ ڈیولپمنٹ آفس اور سی جی آئی اے آر کے نیکسس گینز انیشی ایٹو کی مدد سے جیو ٹیگنگ کے اس اقدام کا مقصد اس شعبے میں شفافیت اور کارکردگی کا احتساب بھی متعارف کرانا ہے، جو اکثر بدانتظامی کا شکار رہتا ہے۔ مذکورہ معاہدے پر دستخط کی تقریب میں آئی ڈبلیو ایم آئی کے ڈاکٹر محسن حفیظ سمیت ماہرین نے شرکت کی اُور اس موقع ہوئی بات چیت میں کہا کہ سائنسی نقشہ سازی اور اعدادوشمار پر مبنی فیصلوں کے بغیر اصلاحات خاطرخواہ نتائج کی حامل نہیں ہوں گی۔ انہوں نے خیبرپختونخوا میں پانی کے قابل اعتماد اعداد و شمار کی دیرینہ کمی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ’’ہمیں پانی کے استعمال کی منصوبہ بندی کرنے سے پہلے معلوم ہونا چاہیئے کہ ہمارے پاس کل کتنی مقدار میں پانی موجود ہے اُور اُن کا یہ کہنا اپنی جگہ بجا ہے کیونکہ پچھلی دہائیوں میں صوبائی حکومتیں زیادہ تر فوری ردعمل پر زور دیتی رہی ہیں جبکہ طویل مدتی منصوبہ بندی کو پس پشت ڈال دیا گیا۔ اس اقدام کی اہمیت کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ پانی کی قلت پہلے ہی دیہی معاش کو متاثر کرتے ہوئے نئی شکل دے رہی ہے۔
صوابی اور مردان کے کسان نہروں کے بہاؤ میں کمی کی شکایت کرتے ہیں جس کی وجہ سے وہ مہنگے ٹیوب ویلوں پر انحصار کرنے پر مجبور ہیں۔ ڈیرہ اسماعیل خان (ڈی آئی خان) جیسے جنوبی اضلاع میں پانی کی قلت براۂ راست غذائی تحفظ کو متاثر (کمزور) کر رہی ہے۔ ماہرین نے متنبہ کیا ہے کہ اگر اس صورتحال پر فوری قابو نہ پایا گیا یا قابو پانے کے اقدامات سنجیدگی سے نہ کئے گئے تو خیبرپختونخوا کو اگلی دہائی میں زیادہ بڑے آبی بحران کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے‘ جس کا اثر صرف زراعت پر نہیں بلکہ شہروں کی پینے کے پانی کی فراہمی اور صنعتی سرگرمیوں پر بھی پڑے گا۔ اِس حوالے سے قابل عمل تجاویز پہلے ہی وضع ہیں جن میں شامل ہے کہ آبپاشی کو جدید بنا کر پانی ضیاع کو کم کیا جائے۔ شہری علاقوں میں بارش کے پانی کو جمع کرنے کی حوصلہ افزائی کی جائے اور زیر زمین پانی نکالنے کی کڑی نگرانی کی جائے۔ پانی کے دانشمندانہ استعمال کے حوالے سے عوامی آگاہی کی مہمات بھی ضروری ہیں کیونکہ کمیونٹی کی سطح پر طرز عمل میں تبدیلی کے بغیر کوئی تکنیکی حل کامیاب نہیں ہوسکتا ہے۔ ماہرین یہ بھی کہتے ہیں کہ اگر پانی کی تقسیم کے معاملات میں سیاسی دباؤ یا مقامی اشرافیہ کے مفادات حاوی رہے تو کوئی بھی منصوبہ پائیدار نہیں ہو پائے گا یقینا خیبرپختونخوا کے آبی چیلنجز بہت زیادہ ہیں لیکن انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ’ایمی‘ جیسے بین الاقوامی اداروں کے ساتھ شراکت داری انتہائی ضروری مہارت حاصل کر سکتی ہے۔ یہ صرف نہروں اور ڈیموں کی آبپاشی کے بارے میں نہیں ہے‘ یہ گورننس، سائنس اُور سب سے بڑھ کر پانی کی تقسیم میں مساوات کے بارے میں ہے۔ ان کے اس جملے نے واضح کر دیا کہ پانی کا مسئلہ محض تکنیکی نہیں بلکہ سماجی اور سیاسی بھی ہے۔ اس معاہدے پر دستخط کرنا بہت سے لوگوں کے درمیان ایک اور رسمی کاروائی لگ سکتا ہے لیکن ایک ایسے صوبے میں جہاں آب و ہوا کی تبدیلیاں سیلاب اور خشک سالی کو یکساں طور پر تیز کر رہی ہیں‘ یہ طویل مدتی حل کا آغاز ہو سکتا ہے۔ اس کے باوجود اصل سوال اپنی جگہ قائم ہے۔ کیا یہ تعاون زمینی سطح پر ٹھوس نتائج میں تبدیل ہوگا یا پالیسی پیپرز اور ورکشاپس تک محدود رہے گا؟ کیونکہ پاکستان کے باقی حصوں کی طرح خیبرپختونخوا میں بھی پانی کی گھنٹی بج رہی ہے اور اگر اس کا جواب ابھی نہ دیا گیا تو آنے والی نسلوں کے لئے موجودہ آبی بحران‘ انسانی المیہ کی شکل میں بدل سکتا ہے۔
پانی کا مستقبل یا مستقبل کا بحران؟