نئے سال کی روٹی 172

نئے سال کی روٹی

آج نئے سال کا پہلا دن ہے ۔ آئیے یہ سال اپنے غربا کے ساتھ مل کر گزاریں۔ سوچیں کہ ان کے بنیادی مسائل کے حل کیلئے ہم کیا کر سکتے ہیں ۔ غریب آدمی کےتین بنیادی مسئلے ہیں ۔ روٹی ، کپڑا اور مکان ۔ زندہ رہنے کیلئے روٹی ضروری ہے ۔اور اس وقت گندم اور آٹے کی قیمتیں تیزی سےبڑھ رہی ہیں ۔روٹی مہنگی ہوتی جارہی ہے ۔تنور پر بھی روٹی پچیس روپے کی مل رہی ہے ۔بلکہ بیچنے والے کہتے ہیں پچیس روپے میں بیچ کر بھی اخراجات پورے نہیں ہو رہے ۔بیس کلو کے تھیلے کی قیمت میں اسی ہفتے دوسو روپےاضافہ ہوا ہے۔بزرگ بتاتے ہیں کہ صدر ایوب کے دور میں جب آٹاتھوڑا مہنگا ہوا تھا تو حبیب جالب جلسہ گاہوں میں اپنی یہ نظم لہک لہک کر پڑھنے لگےتھے

بیس روپے من آٹا

اور اس پر بھی ہے سناٹا

صدر ایوب زندہ باد۔

جب وہ یہ نظم پڑھتے تھے توتمام شرکائے جلسہ ان کے ساتھ ساتھ گانے لگتے تھے ۔ایک سماں بندھ جاتا تھا ۔ان کے تتبع میں کئی اور شاعروں نے ’’آٹے ‘‘ کے موضوع پر طبع آزمائی کی مگرمجید لاہوری کی مشہور نظم ’’آٹا چاہئے ‘‘ان سے پہلے کی ہے ۔

چیختے ہیں مفلس و نادار آٹا چاہئے

لکھ رہے ہیں ملک کے اخبار آٹا چاہئے

مرغیاں کھا کر گزارہ آپ کا ہوجائے گا

ہم غریبوں کو تو اے سرکار، آٹا چاہئے

ہم نے پاؤڈر کا تقاضا سن کے بیگم سے کہا

کیا کرو گی غازہء رخسار، آٹا چاہئے

فاقہ کش پر نزع کا عالم ہے طاری اے مجید

کہہ رہے ہیں رو کے سب غمخوار آٹا چاہئے

یعنی آٹے کا مسئلہ کافی پرانا ہے

حبیب جالب کی یہ نظم بھی بہت مقبول ہوئی

جس دیس میں آٹے چینی کا بحران فلک تک جا پہنچے

جس دیس میں بجلی پانی کا فقدان حلق تک جا پہنچے

اس دیس کے ہر اک حاکم کو سولی پہ چڑھانا واجب ہے

بے شک ہمارا ملک ایک زرعی ملک ہے جہاں کی زمینیں زر خیر ہیں ۔ یہاں دنیا کا سب سے بڑا نہری نظام ہے جو تقریباً چار ملین ایکٹر کو سیراب کرتا ہے ۔پاکستان کی 43فیصد آبادی زراعت سے منسلک ہے ۔اس کے باوجود اکثر اوقات ہمیں گندم باہر سے منگوانی پڑ جاتی ہے ۔دراصل ہمارا کھانا گندم کے بغیر مکمل نہیں ۔ہم سوچ ہی نہیں سکتے کہ روٹی کےبغیر بھی پیٹ بھر سکتا ہے۔

بر صغیر کے لوگ صدیوں سےگندم کھاتے آرہے ہیں ۔ ماضی کے دور میں عرب میں گندم کاآٹا تعیشات میں شامل تھا۔ جناب ِ عمرؓ جب خلیفہ ِ وقت تھے تو ایک روز جو کی روٹی کھا رہے تھے کسی نے انہیں کہا کہ آپ جوکی روٹی کیوں کھا رہے ہیں تو انہوں نے کہا ’’کیا سب کو گندم کی روٹی میسر ہے ‘‘ جواب آیا ۔’’نہیں ‘‘ تو انہوں نے کہا ’’ تو پھر میں گندم کی روٹی کیسے کھا سکتا ہوں ‘‘مگربرصغیر میں گندم غریب لوگوں کی خوراک ہے ۔

وفاقی حکومت نے یہ مسئلہ صوبائی حکومتوں پر ڈالنے کی کوشش کی کہ آٹے کا بحران آٹے کی ملوں کے مالکان نے پیدا کیا ہے جو صوبائی حکومتوں کے دائرہ اختیار میں ہیں ۔ گندم انہی نے ذخیرہ کی ہوئی ہے یا خود صوبائی حکومتوں نے ۔اس لئے وفاقی حکومت اس سلسلے میں کچھ نہیں کر سکتی ۔ مگر پیداوار کی کمی کو دیکھتے ہوئے وفاقی حکومت نےتیس لاکھ ٹن گندم کی در آمد کی اجازت دی ۔فلور ملزوالوں کا کہنا ہے کہ آج سے صرف دس دن پہلے گندم 3300روپے من تھی اور آج یہ نرخ 4350 تک پہنچ چکا ہے۔ تاجروں نے اپنے گوداموں میں گندم ذ خیرہ کر رکھی ہے ۔ صوبائی حکومتیں ان ذخیرہ اندوزوں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کر رہیں بلکہ صوبائی حکومتوں نے ماہانہ جتنے ٹن گندم ملز کو دینی ہوتی ہے ۔وہ اتنی بھی نہیں دے رہیں ۔یقیناً اس کی وجہ مجموعی اسٹاک کی کمی ہوگی۔بلوچستان کی حکومت تو گندم دے ہی نہیں رہی ۔ صوبہ سندھ میں صاحبان ِ اقتدار کو درست اعداد و شمار تک کا علم نہیں کہ اس صوبے میں گندم کتنی موجود ہے اور کہاں کہاں اسٹاک کی گئی ہے ۔وفاقی حکومت کے پاس گندم کا اپنا ایک بڑا اسٹاک موجود ہے ۔اس نے رواں برس کے پہلے نو ماہ میں 80کروڑ ڈالر کی گندم درآمد کی مگر وفاق بھی گندم ریلیز نہیں کر رہا ۔چونکہ پوری گندم ملوں کو نہیں مل رہی اس لئے انہیں یہ گندم مارکیٹ سے خریدنا پڑتی ہے اور منڈی کے تاجر اپنی مرضی کا ریٹ لگاتے ہیں ۔ان پر کسی کا کنٹرول ہے ہی نہیں۔ ایک مسئلہ یہ ہے کہ مل مالکان ملک کےباہرسے گندم درآمد نہیں کر سکتے ۔انہیں اس کی اجازت نہیں ۔اس صورتحال میں طے ہے کہ دن بہ دن آٹامہنگا ہونا ہے ۔کہتے ہیں کہ کسی بھی کاشت میں کمی ، پانی کی قلت ،کھاد کی فراہمی اور بد انتظامی کے سبب ہوتی ہے ۔حکومتی سطح پربد انتظامی بے شک اپنی انتہا پر ہے اور اس وقت اگر زراعت پر پوری توجہ نہ دی گئی تو پاکستان جیسا زرخیز ملک بھی قحط سالی کا شکار ہو سکتا ہے ۔چند ماہ پہلے ورلڈ فوڈ پروگرام (ڈبلیو ایف پی) نے خبردار کیا تھا کہ دنیا بھر میں منڈلاتا قحط کا خطرہ ہمارے سر پر آن پہنچا ہے ۔گزشتہ تین برسوںمیں دنیا میں شدید غذائی قلت کے شکار افراد کی تعداد گنی ہو چکی ہےاور صرف اگلے تین سال میں ان کی تعداد چار گنا ہوجانے کا خطرہ ہے۔اس کے سبب کئی طرح کےہو سکتے ہیں ۔ اس وقت پاکستان میں جو کچھ ہورہا ہے ۔بہر حال یہ بھی اس کی وجوہات میں شامل ہے۔

بشکریہ جنگ نیوزکالم