پاکستان کی سیاست آج کل ایک عجیب موڑ پر کھڑی ہے۔ ایک طرف عمران خان ہیں، جو اپنی گرفتاریوں، مقدمات اور احتجاجوں کے باوجود عوام میں مقبولیت کے جھنڈے گاڑتے نظر آتے ہیں، اور دوسری طرف مولانا فضل الرحمان ہیں، جو کبھی عمران خان کے اتحادی تھے اور آج ان کے سخت ترین ناقد بن چکے ہیں۔ یہ دونوں شخصیات، جن کے سیاسی سفر اور نظریات زمین آسمان کا فرق رکھتے ہیں، آج پاکستان کے سیاسی منظرنامے کے دو اہم ستون بنے ہوئے ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا یہ دونوں واقعی عوام کی آواز ہیں، یا محض اسٹیبلشمنٹ اور اقتدار کے کھیل کا حصہ؟ آئیے اس پر ایک نظر ڈالتے ہیں۔
عمران خان: ہیرو سے زیرو اور پھر ہیرو؟
عمران خان کی کہانی کسی فلم سے کم نہیں۔ کبھی وہ کرکٹ کے میدان کے ہیرو تھے، پھر سیاست میں قدم رکھا اور برسوں کی جدوجہد کے بعد 2018 میں وزیراعظم بنے۔ لیکن اقتدار میں آنے کے بعد ان کا سفر تنازعات اور الزامات سے بھر گیا۔ ایک زمانے میں وہ مولانا فضل الرحمان کو "اسٹیبلشمنٹ کے خلاف مزاحمت کی علامت" کہتے تھے، اور دلچسپ بات یہ ہے کہ 2002 کے انتخابات میں انہوں نے مولانا کو ووٹ بھی دیا تھا۔ لیکن جیسے ہی سیاسی مفادات بدلے، عمران خان نے مولانا کو "فضلو" اور "ڈیزل" جیسے القابات سے نوازنا شروع کر دیا۔ یہ یوٹرن ان کی سیاست کا حصہ بن گیا۔ آج وہ جیل میں ہیں، لیکن ان کی مقبولیت کم ہونے کے بجائے بڑھتی جا رہی ہے۔ ان کے کارکن سڑکوں پر ہیں، اور ان کا بیانیہ ہے کہ وہ اسٹیبلشمنٹ کے خلاف لڑ رہے ہیں۔ لیکن کیا واقعی یہ سچ ہے؟ یا یہ صرف ایک نیا ڈرامہ ہے جو عوام کو بے وقوف بنانے کے لیے رچایا گیا؟
مولانا فضل الرحمان: مذہب اور سیاست کا امتزاج
دوسری طرف مولانا فضل الرحمان ہیں، جو جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ ہیں اور پاکستان کی سیاست میں ایک تجربہ کار کھلاڑی مانے جاتے ہیں۔ ان کا سیاسی سفر دینی مدارس سے شروع ہوا، اور آج وہ پارلیمنٹ سے لے کر سڑکوں تک اپنا اثر و رسوخ رکھتے ہیں۔ مولانا کبھی عمران خان کے اتحادی تھے، لیکن جب 2022 میں پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے تحت عمران خان کی حکومت کے خلاف تحریک چلی، تو مولانا اس کے سربراہ بن کر سامنے آئے۔ انہوں نے حال ہی میں ایک انٹرویو میں انکشاف کیا کہ عمران خان کو ہٹانے کا فیصلہ دراصل اسٹیبلشمنٹ کا تھا، اور وہ خود اس کے خلاف تھے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ اگر مولانا اسٹیبلشمنٹ کے خلاف تھے، تو پھر وہ اس کھیل کا حصہ کیوں بنے؟ کیا یہ ان کی سیاسی حکمت عملی تھی، یا محض اقتدار کی ہوس؟
آج کی سیاست: کون کس کے ساتھ؟
آج کل کی سیاست کو دیکھیں تو لگتا ہے کہ ہر کوئی اپنے مفادات کے پیچھے بھاگ رہا ہے۔ عمران خان کہتے ہیں کہ وہ جمہوریت اور عوام کے حقوق کے لیے لڑ رہے ہیں، لیکن ان کے ناقدین کا کہنا ہے کہ وہ اسٹیبلشمنٹ کے ہاتھوں استعمال ہوئے اور اب اسی کے خلاف بغاوت کا ڈھونگ رچا رہے ہیں۔ دوسری طرف مولانا فضل الرحمان حالیہ انتخابات کے نتائج کو مسترد کرتے ہوئے سول نافرمانی کی دھمکی دے رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ موجودہ پارلیمنٹ "اسٹیبلشمنٹ کی نمائندہ" ہے، نہ کہ عوام کی۔ لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ مولانا خود کئی بار اسی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ مل کر حکومتیں بنا چکے ہیں۔ تو پھر یہ دونوں ایک دوسرے سے مختلف کیسے ہیں؟
عوام کہاں کھڑے ہیں؟
اس سارے کھیل میں سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ پاکستانی عوام کہاں کھڑے ہیں؟ معاشی بحران، مہنگائی اور دہشت گردی کے سائے میں عوام کی زندگی اجیرن ہو چکی ہے۔ لیکن بدقسمتی سے نہ عمران خان اور نہ ہی مولانا فضل الرحمان ان کے مسائل کے حل کی بات کرتے نظر آتے۔ عمران خان کے جلسوں میں نعرے لگتے ہیں، اور مولانا کے دھرنوں میں بیانات سنائی دیتے ہیں، لیکن زمینی حقائق وہی کے وہی ہیں۔ کیا یہ دونوں رہنما واقعی عوام کے لیے لڑ رہے ہیں، یا یہ صرف اقتدار کی جنگ ہے جس میں عوام محض تماشائی ہیں؟
نتیجہ
پاکستان کی موجودہ سیاست ایک دلچسپ، لیکن الجھن بھرا منظر پیش کر رہی ہے۔ عمران خان اور مولانا فضل الرحمان، جو کبھی ایک دوسرے کے حلیف تھے، آج ایک دوسرے کے سخت مخالف بن چکے ہیں۔ لیکن ان کی لڑائی کا اصل فائدہ کس کو ہو رہا ہے؟ کیا یہ اسٹیبلشمنٹ ہے جو پس پردہ سب کچھ کنٹرول کر رہی ہے؟ یا پھر یہ دونوں رہنما اپنے سیاسی وجود کو بچانے کے لیے یہ سب کچھ کر رہے ہیں؟ حقیقت جو بھی ہو، ایک بات طے ہے کہ جب تک سیاست اقتدار کے گرد گھومتی رہے گی، عوام کے مسائل حل نہیں ہوں گے۔ اور شاید یہی ہماری سیاست کی سب سے بڑی تراژیدی ہے۔
موجودہ سیاست، عمران خان اور مولانا فضل الرحمان: ایک جائزہ