قومی اسمبلی کے اجلاس کی کارروائی مختصر رہی جبکہ ارکان کی جانب سے بھی کارروائی میں عدم دلچسپی کا مظاہرہ کیا گیا۔ اجلاس کے دوران ارکان قومی اسمبلی نے جب کرونا وبا کے دوران تحریک انصاف کی حکومت کی جانب سے وزارت تعلیم کے زیر انتظام شروع کیے گئے ٹیلی سکول کے منصوبے بارے سوالات کیے گئے تو وفاقی وزیر تعلیم رانا تنویر حسین کی جانب سے تسلی بخش جواب نہ ملنے پر ارکان قومی اسمبلی مطمئن نہ ہوئے جس پر پینل آف چئیر محمود بشیر ورک نے یہ معاملہ متعلقہ کمیٹی کو بھجوا دیا، حکومتی رکن شائستہ پرویز نے کہاکہ اس حوالے سے بتایاجائے بسوں میں کس طرح تعلیم دیئے جا نے پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ موبائل ہسپتال تو چل سکتے ہیں سکول کس طرح چل رہے ہیں اسکے بجائے اگر مساجد میںکلاسیں شروع کی جائیں تو وہ زیادہ بہتر ہوگئیں کیوں کہ مساجد میں فجر سے ظہر کی نماز تک کوئی سرگرمی نہیں ہوتی ہے،بعد ازاں مختصر کارروائی کے بعد قومی اسمبلی کا اجلاس بدھ تین مئی سہہ پہر چار بجے تک ملتوی کردیاگیا۔
موبائل ہسپتال تو ٹھیک ، بسوں میں سکول کیسے چل سکتے ہیں