سوشل میڈیا کی آمد کے ساتھ رفتہ رفتہ رائج مذہبی و قومی تصورات کے خلاف بات کرنے کا ٹرینڈ شروع ہوا۔ ایک ایسا نظریہ، جس پہ لوگوں کی اکثریت ایمان کی حد تک یقین رکھتی ہے، اس کے خلاف بات کرنا اور پھر اس کے نتیجے میں اٹھنے والے احتجاجی ردّعمل سے محظوظ ہونا۔ پاکستانیوں کی اکثریت اقبالؔ سے بے پناہ عقیدت رکھتی ہے۔ اب اگر ایک شخص یہ کہتاہے کہ اقبالؔ تو ایک لوکل یا گیا گزرا شاعر ہے تو اس اسٹیٹمنٹ سے دکھی ہونے والوں کی حالتِ زار سے خوش ہونا۔ ابھی حال ہی میں ایک تنازعہ اٹھ کھڑا ہوا، جب صدارتی تمغہ ء امتیاز پانے والے شاعر فرحت عباس شاہ نے یہ بیانیہ پیش کرنے کی کوشش کی کہ جون ایلیا ایک بڑا شاعر نہیں تھا۔ گو کہ جون ایلیا کی جہات بالکل مختلف ہیں۔بے پناہ ہنگامہ ہوا اور اب تک جاری ہے۔
چند برس قبل ملک میں سب سے زیادہ تنخواہ پانے والے اینکر نے مولانا آزاد کی کچھ تقاریر نشر کیں۔ مولانا کا لب ِ لباب یہ تھا کہ پاکستان بن گیا تو ناکامی و نامرادی کی ایک جیتی جاگتی مثال ہوگا۔ اس کا کہنا یہ تھا کہ اب تک تو آزاد کی یہ بات درست نظر آتی ہے۔ آگے پاکستان اگر اپنے پیروں پہ کھڑا ہو جائے تو یہ ایک الگ بات ہوگی۔ اس طرح کی بات نشر ہونے سے اس کی حمایت یا مخالفت میں ایک بے پناہ ردعمل پیدا ہوتا ہے۔ ایک صحافی کو دیکھنے والو ں کی تعداد میں یکایک بے تحاشا اضافہ ہوتا ہے۔ آج کل ہمیں بچپن میں پڑھائے گئے مطالعہ پاکستان کے تصورات کا مذاق اڑایا جاتا ہے۔ مثلاً یہ کہ پاکستان میں گیس کے وسیع ذخائر پائے جاتے ہیںیا یہ کہ پاکستان ایک بے پناہ اہم محل ِوقوع رکھتا ہے۔ گزشتہ دہائیوں میں ایک فقرہ زبانِ زدِ عام ہو اتھا ”پاکستان اللہ کا نور ہے اور نور کو زوال نہیں۔“ یا یہ کہ ”پاکستان خدا کے رازوں میں سے ایک راز ہے۔“ اب اس کا مذاق اڑنا شروع ہوا۔ خدا کا یہ کیسا راز ہے جو دیوالیہ ہوا پڑا ہے۔ خدا کا یہ کیسا راز ہے، 1971ء میں جو دو ٹکڑے ہو گیا۔ لطیفہ یہ ہے کہ الگ ہونے والا بنگلہ دیش ترقی و خوشحالی کی منزلیں طے کرنا شروع ہو گیا۔ ہم اب تک وہیں کے وہیں ہیں۔ ثابت یہ ہو اکہ خامی ہم میں ہے ۔ ہم سے الگ ہونے والوں کے نصیب کھلناشروع ہو جاتے ہیں۔
آج کل یہ بات کرنا فیشن میں ہے کہ اگر آپ کے پاس موقع ہے اور پھر بھی آپ اس ملک سے فرار نہیں ہو جاتے تو آپ سے بڑا احمق کوئی نہیں۔ لوگ پچھتاوے کا اظہار کرتے دکھائی دیتے ہیں کہ پانچ سال پہلے ایک موقع ملا تھا بیرونِ ملک نکلنے کا، میں نے اپنی جذباتیت کے ہاتھوں گنوا دیا۔ کاش میں ایسا نہ کرتا۔لوگ ایک دوسرے کو کہتے ہیں کہ اگر کوئی موقع ملے تو دیر نہ کرنا۔ لبِ لباب اس کا یہ ہے کہ یہ ملک ڈوبنا ہی ڈوبنا ہے۔ اب تمہاری مرضی کہ اس کے ساتھ ڈوبو یا سمجھداری سے کام لیتے ہوئے یہاں سے کھسک لو۔ لطیفہ یہ ہے کہ پاکستان کی چوٹی کی سیاسی اشرافیہ جو اس وقت بھی پاکستان پہ حکومت کر رہی ہے اور اپنی حکومت کو برقرار رکھنے کی سر توڑ کوشش کر رہی ہے، وہ بھی اس نظریے پہ دل و جان سے یقین رکھتی ہے۔یہ جو لیڈر کہہ رہے ہیں کہ ہم ہی ملک کو مسائل کی دلدل سے نکالیں گے؛چنانچہ ہمارا اقتدار قائم رکھا جائے، انہوں نے ملک سے بھاگ نکلنے کی تیاری مکمل کر لی ہے۔
سندھ کابینہ کو دبئی پسند ہے۔ وہاں انہوں نے بے پناہ جائیداد خرید رکھی ہے۔ زرداری صاحب کی جب جنرل راحیل شریف سے لڑائی ہوئی تھی تو کافی برس وہ دبئی میں مقیم رہے۔ لیگی لیڈروں کو لندن بھاتا ہے۔ میاں محمد نواز شریف کے زوال میں سب سے زیادہ اہم کردار لندن کے فلیٹس نے ادا کیا تھا۔ یہ فلیٹس انہوں نے بنائے ہی برے دنوں کے لئے تھے، اگر پاکستان سے بھاگ نکلنا پڑے۔ شریف لیڈروں کی طبیعت ناساز ہو تو لندن کی حدود سے پیچھے پیچھے علاج ایک احمقانہ بات تصور ہوتا ہے۔ نون لیگ اس وقت اکثریتی حکومت میں سب سے زیادہ حصہ رکھتی ہے۔ میاں محمد نواز شریف اس کے باوجود واپس آنے کو تیار نہیں کہ قانونی خطرات ہیں۔ یہ نہ ہو کہ ملک واپس آنے کے بعد دھر لیا جاؤں۔عمران خان دوبارہ نہ اقتدار چھین لے۔قید سے میاں صاحب کو نفرت ہے، خواہ وہ کیسی ہی آرام دہ کیوں نہ ہو۔
جہاں تک میرا تعلق ہے، میں یہ سمجھتا ہوں کہ پاکستان خاک و خون میں لوٹنے کے بعد بالآخر دوبارہ اٹھ کھڑا ہوگا۔ جو ملک دیوالیہ ہو جاتے ہیں، وہاں بھی معیشت چلتی رہتی ہے۔ معیشت تو خیر فلسطین اور کشمیر جیسی مقبوضہ ریاستوں کی بھی چلتی رہتی ہے۔
کبھی کبھی میں سوچتا ہوں کہ عمران خان کی طرح اگر میاں محمد نواز شریف کے خلاف ڈیڑھ دو سو مقدمات قائم ہوتے۔ ان کی ٹانگ میں خدانخواستہ گولی لگی ہوتی اور ریاست انہیں پکڑ کر اگرجیل میں نمونہ ء عبرت بنانے کی کوشش کر رہی ہوتی تو کیا پھر بھی وہ پاکستان میں رہنا پسند کرتے۔ مجھے تو لگتا ہے کہ انہوں نے کرّہ ارض سے ہی فرار ہوجانا تھا۔ یہاں پہنچ کر دل کرتا ہے کہ ماضی میں عمران خان سے سرزد ہونے والی ساری حماقتوں کو بھلا دیا جائے۔
ملک سے بھاگ نکلنے کا کوئی آپشن عمران خان کی کتاب میں نہیں۔ یہ کیسی خوش آئند بات ہے!
کیسی خوش آئند بات