امریکی صدر ٹرمپ کی طرف سے اس اعلان پر ساری دنیا چونک گئی کہ ایران کے ساتھ مذاکراتی عمل شروع ہونے والا ہے اور 15 نکات پر پیش رفت متوقع ہے چنانچہ وہ ایران پر ان حملوں کا ارادہ 5 دن کیلئے ملتوی کر رہے ہیں جو انہوں نے ایرانی توانائی کی تنصیبات پر کرنا تھا۔ بعدازاں ایرانی پاسداران انقلاب کے ذرائع نے اس خبر کی تردید کر دی اور کہا کہ امریکہ سے کوئی بات چیت نہیں ہو رہی۔ اس دوران یہ تصدیق شدہ خبریں بھی میڈیا پر آ گئیں کہ پاکستان ترکی اور مصر کے ساتھ ایرانی وزیر خارجہ عراقچی کے رابطوں کا دور چلا ہے، عراقچی کے امریکی وزیر خارجہ سے بھی بات ہوئی ہے اور پاکستان سے ثالثی کا کردار ادا کرنے کیلئے خود صدر ٹرمپ نے فیلڈ مارشل عاصم منیر کو فون کیا ہے جبکہ ایک ٹیلی فونی رابطہ وزیر اعظم شہباز شریف اور ایرانی صدر پازشکیان میں بھی ہوا۔
لیکن ایرانی تردید کے بعد ساری تصویر پر ابہام کا سایہ آ گیا۔
پھر ماجرا کیا ہے۔ ماجرا سادہ ہے۔ پاکستان کی طرح ایران میں بھی دو حکومتیں ہیں۔ ایک صدر پازشکیان اور وزیر خارجہ عراقچی سمیت سیاستدانوں کی، دوسری اصل طاقت رکھنے والے پاسداران انقلاب کی۔ اس دوسری حکومت کا چہرہ ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر قالیباف ہیں جو پاسداران کی طرف سے عملاً سربراہ مملکت بلکہ افواج کے بھی سربراہ کے طور پر معاملات چلا رہے ہیں۔ سیاستدانوں کی حکومت ایران کی اس جنگ میں تباہی پر پریشان ہے۔ ہرچند کہ پاسداران نے امریکی اسرائیلی حملوں کا ترکی بہ ترکی جواب دیا ہے لیکن ایران کا نقصان بہت زیادہ ہے۔ اس کے ہوائی اڈے، اس کے کارخانے، اس کی سڑکیں، اس کی حکومت کے تمام اداروں کی عمارتیں برباد ہو چکی ہیں۔ لگ بھگ 40 لاکھ کی آبادی بے گھر ہو چکی ہے۔ دارالحکومت تہران کے بہت سے حصے غزہ اور لبنان کی تصویر نظر آتے ہیں۔ ایران کی نیوی شمالی اور جنوبی سمندروں میں مکمل طور پر ختم ہو گئی ہے۔ شمالی سمندر سے مراد کیسپئن کا محصور سمندر ہے جسے بحر خزر بھی کہا جاتا ہے۔ نیوی کا کوئی جہاز نہیں بچا ہے۔ ایران کے پاس گیارہ آبدوزیں تھیں، سب ڈبوئی جا چکیں۔ ایرانی ائر فورس مختصر سی تھی، وہ بھی نہیں رہی اور تو اور، مسافر بردار جہازراں کمپنی یعنی ایران ایر لائنز کو بھی عملاً ختم کر دیا گیا ہے۔ ایرانی فوج کے ٹھکانے بھی تباہی کی زد میں ہیں۔ ایران کے پاس محض میزائل اور ڈرون فورس ہے جس کے خفیہ ٹھکانے پوری طرح امریکہ اسرائیل کی نظروں میں نہیں ہیں۔ ایران اپنا جواب انہی کے ذریعے دے رہا ہے۔
بظاہر ایرانی نظام پر پاسداران والی حکومت زیادہ غالب ہے، صدر وزیر خارجہ کی حکومت کمزور ہے لیکن لگتا ہے کہ اس کمزور حکومت نے ایران کو بچانے کیلئے بیڑہ اٹھایا ہے اور سارے رابطے اسی نے کئے ہیں اور اسی نے اشارہ دیا ہے کہ وہ امریکی مطالبات کلی نہ سہی، جزوی طور پر ماننے کیلئے تیار ہیں۔
یہاں پھر وہ سوال آ جاتا ہے جسے فیصلہ کن کہا جا سکتا ہے۔ یہ کہ، اگر ابلاغیاتی رپورٹیں درست ہیں اور ایران کی حکومت واقعی یورینیم کے افزودہ ذخائر امریکہ کے حوالے کرنے پر تیار ہو گئی ہے تو کیا پاسداران اس بات کو مان لیں گے؟۔ ابھی تو یہ بات بھی ٹھیک طریقے سے معلوم نہیں ہو سکی کہ افزودہ ذخائر کا کنٹرول کس کے پاس ہے۔ پاسداران کے یا پھر ایرانی فوج کے۔ ایرانی فوج اور پاسداران میں کچھ دوری ہے، فوج حکومت کے احکامات مان لیتی ہے پاسداران صرف اپنا حکم منواتے ہیں۔
دو حکومتوں کے بیچ ایران کے رہبر اعلیٰ مجتبیٰ خامنائی بدستور لاپتہ ہیں۔ رپورٹیں ہیں کہ وہ زندہ سلامت ہیں ، لیکن زخمی ہونے کی وجہ سے ’’فنکشنل‘‘ نہیں ہیں۔ یعنی چہرے پر بھی زخم ہیں، بات آسانی سے نہیں کر سکتے، لکھ پڑھ بھی نہیں سکتے۔ جب تک زیر علاج ہیں، حکمران اعلیٰ عملی طور پر پاسداران انقلاب کی وساطت سے، قالبیاف ہی رہیں گے۔
اس بیچ پاکستان کے فیلڈ مارشل اور ڈیفنس چیف حافظ عاصم منیر کی شخصیت ایک بار پھر ’’نقطہ خبر‘‘ بن گئی ہے۔ اس ساری سفارت کاری کے مرکز میں وہی ہیں اور پاکستان میں حقیقی آزادی والے انقلابی اس صورتحال سے پریشان تر ہیں۔ وہ جتنا یہ تمنا کرتے ہیں کہ فیلڈ مارشل پس منظر میں چلے جائیں، فیلڈ مارشل اتنا ہی پیش منظر بن جاتے ہیں۔ ایران امریکہ کشمکش سے انہیں انجانی سی امیدیں وابستہ ہو گئی تھیں، یہاں تک کہ انہیں یہ یقین بھی ہو گیا، جس کی گواہی ان کے سوشل میڈیا نے ’’گج وج‘‘ کے دی کہ پاکستان ایران جنگ چھڑ جائے گی اور جب ایرانی میزائل راولپنڈی میں گریں گے تو واللہ، مزا ہی آ جائے گا۔
کل ہی حقیقی آزادی کے ایک مست الست سے ملاقات ہوئی۔ پوچھنے لگا، واقعی جنگ بند ہو جائے گی۔ عرض کیا، کچھ پکا نہیں ہے۔ البتہ امکان تو ہے۔ افسردہ ہو گیا، بولا، اچھے بھلے معاملات چل رہے تھے، فیلڈ مارشل نے ’’واردات‘‘ ڈال کر سارا مزا کرکرا کر دیا۔
ادھر ’’مرشد‘‘ کا ٹویٹ آ گیا ہے۔ فون پر مرشدزادوں نے بات کی۔ اس بات کی روشنی میں یہ ٹویٹ جاری کیا گیا۔ آزادی پسندوں کو اس ٹویٹ سے خاصی مایوسی ہوئی۔ فیلڈ مارشل کا ذکر ہی نہیں تھا نہ انہیں اور نہ پاک فوج کو ملاّحیاں سنائی گئی تھیں۔ نہ ہی کسی کو نہیں چھوڑوں گا کی دھمکی تھی نہ ہی کچھ کر دکھانے کا عزم۔ بس عدلیہ کو ’’بے شرمی‘‘ کا طعنہ دے کر مکاتب مختصر کر دی۔
احباب مایوس ہیں اور حیران کھڑے سوچ رہے ہیں کہ:
ڈٹ کے کھڑا ہے کپتان
یا ہٹ کے کھڑا ہے کپتان
جلد بازی میں خبر پڑھی جائے تو غلطی لگ جاتی ہے، جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمن کا بیان پڑھا۔ انہوں نے کہا کہ دفاعی معاہدے میں سعودی عرب کے ساتھ ایران اور ترکی کو بھی شامل کیا جائے۔
جلدی میں پڑھنے سے لگا کہ انہوں نے فرمایا کہ معاہدے سے سعودی عرب کو نکال کر ایران کو شامل کیا جائے اور ترکی کے بجائے حزب اللہ کو شامل کیا جائے۔
جلد بازی میں خبر نہیں پڑھنی چاہیے۔
186