جب کوئی مریضہ مسیحا بن جائے 289

جب کوئی مریضہ مسیحا بن جائے

کچھ لوگ مانتے ہی نہیں کہ انسانوں کو نفسیاتی مسائل بھی پیش آتے ہیں۔ کچھ لوگ نفسیاتی مسائل کو تو مانتے ہیں لیکن اس کے علاج کے حق میں نہیں۔ ان کا خیال ہے اگر انہوں نے کسی ماہر نفسیات سے مشورہ کر لیا تو لوگ انہیں پاگل تصور کریں گے۔ کچھ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ مریضہ کا مسئلہ نفسیاتی نہیں ہے بلکہ وہ کسی جن کے اثر میں ہے اور اسے کسی روحانی پیشوا سے مشورہ کرنا چاہیے۔ کچھ لوگ ایسے ہیں جو آج بھی اپنے عزیزوں اور رشتہ داروں کو پیروں فقیروں کے پاس لے جاتے ہیں اور ان کا گنڈے تعویذ سے علاج کرواتے ہیں اور پھر شکایت کرتے ہیں کہ

 

مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی

 

بہت کم لوگ ایسے ہیں جو سنجیدگی سے نفسیاتی مسائل کا علاج کرواتے ہیں۔ ان میں سے بعض نفسیاتی مسائل کے بارے میں اتنا کچھ سیکھ لیتے ہیں کہ ان کے دل میں خود ایک ماہر نفسیات بننے کی خواہش سرگوشی کرنے لگتی ہے۔

ایسی ہی ایک نوجوان خاتون کا نام حائفہ ہے۔ وہ اپنا علاج کروانے آئی تھیں۔ انہوں نے بڑی سنجیدگی سے اپنا علاج کروایا۔ ان کا شوق دیکھ کر میں نے انہیں مختلف ماہرین نفسیات کی چند کتابیں پڑھنے کا مشورہ دیا۔ وہ جب کوئی نیا باب پڑھتیں تو مجھ سے اس کے حوالے سے مکالمہ کرتیں۔

ان کا نفسیات کے علم میں شوق اتنا بڑھا کہ انہوں نے یونیورسٹی میں داخلہ لے لیا اور پھر وہ اپنے ماہر نفسیات بننے کے خواب کو شرمندہ تعبیر کرنے کے لیے ٹورانٹو سے کیلی فورنیا چلی گئیں۔

 

ایک دن ان کا امریکہ سے خط آیا میں نے انہیں بتایا کہ میں اگلے سال ریٹائرمنٹ لے رہا ہوں اور نفسیاتی علاج کے بارے میں ایک کتاب لکھ رہا ہوں جس میں میرے مریضوں کی کہانیاں شامل ہوں گی۔ یہ سن کر حائفہ نے اس خواہش کا اظہار کیا کہ وہ بھی اپنی کہانی بھیجنا چاہتی ہیں تا کہ وہ بھی اس کتاب میں شامل ہو سکے۔ میں نے کہآ آپ ضرور لکھیں میں آپ کی کہانی کو ضرور کتاب میں شامل کروں گا۔

جس دن مجھے وہ کہانی موصول ہوئی اسی دن مجھے اپنے نوجوان دوست عمر فاروق کا پاکستان سے فون آیا۔

 

میں جب پاکستان گیا تھا تو میری عمر فاروق اور ان کے دوستوں سے ملاقات ہوئی تھی اور ہم نے مختلف نفسیاتی اور سماجی مسائل پر تبادلہ خیال کیا تھا۔ مجھے یہ جان کر بہت خوشی ہوئی تھی کہ عمر فاروق انسانی نفسیات میں گہری دلچسپی رکھتے ہیں۔

میں نے جب عمر فاروق کو حائفہ کی کہانی کے بارے میں بتایا تو میں نے سوچا کیوں نہ میں حائفہ کی کہانی عمر فاروق کو بھیجوں تا کہ وہ اس کا اردو میں ترجمہ کر دیں اور میں اسے ’ہم سب‘ کے قارئین کے سامنے ایک کالم کی صورت میں پیش کروں۔ میں عمر فاروق کا تہ دل سے شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں کہ انہوں نے حائفہ کی کہانی کا بہت عمدہ ترجمہ کیا۔

 

حائفہ جو پہلے ایک مریضہ تھیں اب ایک مسیحا بن گئی ہیں اور بہت سے مریضوں کا علاج کرتی ہیں اور انہیں صحتمند زندگی کی ترغیب و تحریک دیتی ہیں۔

حائفہ کی کہانی پڑھ کر مجھے ویسی ہی خوشی ہوئی جیسی کسی استاد کو اپنے ہونہار شاگرد کو کامیابی کی منازل طے کرتے دیکھ کر ہوتی ہے۔

مجھے قوی امید ہے کہ ایک دن عمر فاروق بھی حائفہ کی طرح ایک کامیاب ماہر نفسیات بنیں گے اور اپنے مریضوں کے دکھوں کو سکھوں میں بدلنے میں مددگار ثابت ہوں گے۔ وہ ایک ہمدرد دل کے مالک ہیں۔ مجھے ان کی دوستی پر فخر ہے۔ ان کا ترجمہ حاضر ہے

 

حائفہ کی کہانی

 

نفسیاتی علاج نے میری ذات کے ان حصوں کو اجاگر کیا ہے جو برسوں سے میرے بچپن کے سانحوں اور اُس ماحول کے نیچے چھپے ہوئے تھے جن میں میں پلی بڑھی۔ ایک دہائی سے بھی زیادہ پہلے، میں نے ایک ایسا سفر شروع کیا جس کا میں کبھی تصور بھی نہیں کر سکتی تھی۔ اُس وقت ہمیں کونسلنگ کے لیے ڈاکٹر سہیل کے پاس بھیجا گیا کیونکہ میرے والدین کی طلاق ہو رہی تھی۔ اس وقت سب سے پہلی چیز جس نے میری توجہ کھینچی اور بعد میں میرے لئے ایک گہرا معنی اختیار کر گئی وہ تھی درجنوں ننھے ننھے کچھوؤں کی مورتیاں، جو ان کے دفتر میں جگہ جگہ رکھی تھیں۔ وہ ایک خوبصورت اور دلکش یاد دہانی تھی کچھوے کی علامت کی:

زمین سے جڑے رہنا۔
زندگی کی غیر یقینی راہوں پر ٹھہراؤ کے ساتھ چلنا،

اور اپنے ساتھ اور اپنے سفر کے ساتھ صبر کا مظاہرہ کرنا۔ ڈاکٹر سہیل نے اس توانائی کو اپنے وجود میں ایسے سمویا تھا کہ اُن کے پاس بیٹھ کر ایک سکون، مرکزیت اور امن کا احساس ہوتا تھا۔ سالوں تک اُن سے کی گئی ملاقاتیں : اپنے زخموں کو سمجھنا اور اُن کے لیے جگہ بنانا، میری شخصیت کی تعمیر میں بنیادی کردار ادا کر چکی ہیں۔

 

قاری کے لیے :

آپ کا وجود بہت اہم ہے، صرف بڑے اور اہم لمحات میں ہی نہیں بلکہ اُن چھوٹے، روزمرہ کے طریقوں میں بھی جن سے آپ خود کو ظاہر کرتے ہیں۔ جب میں نوعمر تھی، مجھے تھیراپی کا مطلب پوری طرح سمجھ نہیں آتا تھا۔ یہ ماننا مشکل تھا کہ کوئی شخص مجھے سمجھ سکتا ہے، صرف زخمی حائفہ کے طور پر نہیں بلکہ اُس انسان کے طور پر جسے میں اپنے اندر محسوس کرتی تھی، ان خوابوں کے ساتھ جن کو میں نے دبا رکھا تھا اور اُس خود داری کے ساتھ جو ظاہر ہونے کی تمنا رکھتی تھی۔

 

میں ہمیشہ ”تھراپسٹ دوست“ رہی تھی، وہ جو دوسروں کے جذباتی بوجھ کو سمیٹ لیتی تھی۔ اس لیے نفسیاتی علاج میں داخل ہونا شروع میں ایک قید خانہ سا لگا۔ جسے میں سمجھ نہیں پا رہی تھی۔ بعض اوقات میں خود کو ایک خالی خول کی طرح محسوس کرتی، بس معمولات نبھاتے ہوئے مگر اپنی اصل ذات سے کٹی ہوئی۔ مگر یہ بھی نفسیاتی اور تخلیقی عمل کا حصہ تھا۔ وقت کے ساتھ میرا زاویۂ نظر بدلنے لگا۔ دنیا میں بہت دکھ اور غم ہیں۔ ایسے تجربے جو ناقابلِ بیان تکلیف لاتے ہیں۔ لیکن خوشی اور سکون بھی ہمیں ڈھونڈ لیتے ہیں، حتیٰ کہ مشکل ترین موسموں میں بھی۔ کچھوے کی طرح، ایک ایک انچ بڑھتے ہوئے، ہم اپنی جگہ، اپنے قدم، دوبارہ پا سکتے ہیں۔ ماضی کی اُن کہانیوں کو چھوڑ کر جو اب فائدہ مند نہیں رہیں، ہم اپنے اندر جگہ بناتے ہیں تاکہ درد کو حکمت اور محدودیت کو طاقت میں بدل سکیں۔

ڈاکٹر سہیل کی برسوں پر محیط رہنمائی نے میرے اندر یہ جذبہ پیدا کیا کہ میں بھی ترقی کے اس راستے پر چلوں اور بالآخر خود ایک ماہرِ نفسیات بنوں تاکہ دوسروں کی مدد کر سکوں جب وہ اپنے سفر پر ہوں۔ پیچھے مڑ کر دیکھتی ہوں تو محسوس ہوتا ہے کہ ڈاکٹر سہیل سے میں نے سب سے قیمتی سبق یہ سیکھا کہ حال میں واپس آنا کتنا ضروری ہے۔ کل پر قابو پانے کی کوشش چھوڑ دینا اور اپنے اندرونی سکون کو محسوس کرنا۔ چاہے زندگی باہر کتنی ہی بے چین کیوں نہ ہو۔ یہی ہے ”گرین زون“ میں توازن پانا۔

 

میں خود کو بے حد خوش نصیب سمجھتی ہوں کہ مجھے ڈاکٹر سہیل سے ملنے کا موقع ملا۔ میں اُنہیں اپنا خضر راہ کہہ سکتی ہوں۔ اُن کی رہنمائی کے لیے میرا احترام اور شکر گزاری ناقابلِ بیان ہے۔ یہ میرے لیے اعزاز ہے کہ میں کبھی اُن کی مریضہ تھی اور اب ایک معالج ہوں۔ جو اُن کے اسباق اور اثرات کو اپنے کام میں آگے بڑھا رہی ہے۔

بشکریہ ہم سب