کیا آپ خود احتسابی کے عمل کو پسند کرتے ہیں؟ 269

کیا آپ خود احتسابی کے عمل کو پسند کرتے ہیں؟

اگر کوئی شخص مجھ سے یہ سوال پوچھے کہ ’ڈاکٹر سہیل آپ چالیس برس سے ایک ماہر نفسیات کے طور پر اپنے مریضوں کے دکھوں کو سکھوں میں بدلنے میں ان کی مدد کر رہے ہیں۔ آپ کی نگاہ میں کسی انسان کی صحت اور خوشی کا ذمہ دار کون ہے؟‘ تو میں اس شخص سے کہوں گا ’ہر انسان اپنی خوشی اور اپنی صحت کا خود ذمہ دار ہے‘

میں نے اسی سوچ کی بنیاد پر گرین زون فلسفے کی عمارت تعمیر کی ہے۔ اس فلسفے میں ہر انسان نفسیاتی خود احتسابی کے عمل سے گزرتا ہے۔ وہ اپنی نفسیاتی اور خاندانی مسائل کو پہلے سمجھنے کی کوشش کرتا ہے اور پھر ان مسائل کا حل تلاش کرتا ہے اور ایک پر مقصد اور پرسکون زندگی اختیار کرتا ہے۔

گرین زون کا فلسفہ اپنی مدد آپ کا فلسفہ ہے ’۔ مجھے اس بات کی حد درجہ مسرت کہ میری نوجوان دوست مقدس مجید اب گرین زون فلسفے کو‘ پاکستان میں سماجی خدمت سرانجام دیتے ہوئے ’مقبول عام بنا رہی ہیں۔ کینیڈا میں کئی گروہ بھی اپنی مدد آپ کے فلسفے پر عمل کرتے ہیں۔ اس کی ایک مثال الکوحولک اینونیمس کا گروہ ہے جو اے اے کہلاتا ہے

AA…ALCOHOLIC ANONYMOUS

اس گروپ میں شراب سے متاثر ہونے والے انسان خود احتسابی کے عمل سے گزرتے ہیں اور ایک دوسرے کی شراب کے بغیر صحتمند زندگی گزارنے میں مدد کرتے ہیں۔

افراد کی طرح کئی خاندان بھی اپنے دکھوں کو کم کرنے اور سکھوں کو بڑھانے میں خود احتسابی پر عمل کرتے ہیں اور زندگی کی جدوجہد میں ایک دوسرے کی معاونت کرتے ہیں۔

ہم نے کینیڈا میں جو فیملی آف دی ہارٹ کا گروپ بنایا ہے اس میں بھی ادبی دوست ایک دوسرے کی بہتر ادیب بننے میں مدد کرتے ہیں۔

میری خوش قسمتی ہے کہ میرے دوستوں کا حلقہ وسیع ہے جن سے یا ڈنر پر یا فون پر ملاقاتیں ہوتی ہیں اور مختلف موضوعات پر تبادلہ خیال ہوتا ہے۔

آج اپنے بچپن کے دوست ڈاکٹر سہیل زبیری سے فون پر طویل مکالمہ ہوا۔ جس طرح میں انفرادی خود احتسابی کو پسند کرتا ہوں اسی طرح وہ سماجی خود احتسابی کے دلدادہ ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ وہ قومیں ترقی کرتی ہیں جو خود احتسابی کے فلسفے پر عمل کرتی ہیں اور وہ قومیں تنزل کی طرف بڑھتی ہیں جو اپنے مسائل کا ذمہ دار دوسری قوموں کو سمجھتی ہیں اور دن رات شکایتیں کرتی ہیں۔

انفرادی یا اجتماعی طور پر دن رات شکایتیں کرنا کوئی صحتمندانہ قدم نہیں ہے احمد فراز فرماتے ہیں

رو رہے ہیں کہ ایک عادت ہے
ورنہ اتنا ہمیں ملال نہیں

جو افراد اور قومیں ذہنی طور پر نابالغ ہوتی ہیں جو اپنے اعمال کی ذمہ داری نہیں لیتیں اور اپنے مسائل کا دوسروں کو ذمہ دار سمجھتی ہیں۔

اس کے مقابلے میں جو افراد اور قومیں ارتقا کے سفر میں سماجی بلوغت کے زینے طے کر کے دانائی کی منزل تک پہنچتی ہیں وہ اپنے مسائل خود حل کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔

 

اس سلسلے میں کسی قوم کے ادیب شاعر اور دانشور بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ وہ اپنے عہد اور اپنی قوم کے مسیحا بن جاتے ہیں۔ وہ مسائل کی تشخیص کرتے ہیں اور پھر ان کے حل پیش کرتے ہیں۔ وہ مستقبل کے روشن خواب دکھاتے ہیں اور پھر ان خوابوں کو شرمندہ تعبیر کرنے کی تحریک دیتے ہیں۔

بیسویں صدی میں فرانس میں ژاں پال سارتر نے، جنوبی افریقہ میں نیلسن منڈیلا نے اور ویت نام میں ہوچی منہ نے اعلیٰ آدرشوں کے لیے قربانیاں دیں اور اپنی قوم کو بہتر زندگی کی تحریک دی۔ ہوچی منہ کا کہنا تھا کہ کسی آزاد قوم پر کوئی دوسری قوم اس کی مرضی کے بغیر حکمرانی نہیں کر سکتی جوش ملیح آبادی کا مشہور قطعہ ہے

سنو اے ساکنان خاک پستی
صدا یہ آ رہی ہے آسماں سے
کہ آزادی کا اک لمحہ ہے بہتر
غلامی کی حیات جاوداں سے

ہم سب جانتے ہیں کہ زندگی کے سفر میں مشکلات اور دشواریاں بھی آتی ہیں اور پریشان کن بحران بھی آتے ہیں لیکن زندہ لوگ اور زندہ قومیں ان مسائل سے نا امید اور مایوس ہونے کی بجائے ان کا دلیرانہ طور پر مقابلہ کرتے ہیں اور بہتر زندگی کے خواب دیکھتے ہیں۔ بقول علامہ اقبال

تنی باد مخالف سے نہ گھبرا اے عقاب
یہ تو چلتی ہے تجھے اونچا اڑانے کے لیے

جس طرح ہر انسان اپنی خوشی غمی کا ذمہ دار ہے اسی طرح پوری انسانیت بھی اپنے دکھ سکھ کی خود ذمہ دار ہے۔ بیسویں صٓدی میں ایٹم بم بنانے کے بعد انسانیت ایک دوراہے پر کھڑی ہے۔ ایک راستہ عالمی جنگ اور اجتماعی خود کشی کی طرف اور دوسرا راستہ انسان دوستی ’امن اور آشتی سے زندگی گزارنے کی طرف جاتا ہے۔

اگر انسانوں نے اجتماعی طور پر خود احتسابی سے کام لیا تو امید ہے کہ انسانیت جنگ کی بجائے امن کا راستہ اختیار کرے گی اور ہماری آئندہ نسلیں آشتی امن اور سکون سے زندگی گزار سکیں گی۔

سقراط کا قول ہے کہ ”خود احتسابی انسانی زندگی کو بامعنی بناتی ہے“ ۔

نوٹ: اس کالم کے اختتام پر میں اپنے دوست سہیل زبیری کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں جن کی عالمانہ اور دانشمندانہ گفتگو نے مجھے یہ کالم لکھنے کی تحریک دی۔

بشکریہ ہم سب