ورلڈ بینک کے جاری کردہ تخمینے سے ایک سنجیدہ حقیقت سامنے آئی ہے کہ 2025 ءمیں پاکستان میں انتہائی غربت کی شرح 5.16 فیصد ہے اور یہ گزشتہ اندازے سے نمایاں اضافہ ہے۔ پلاننگ کمیشن آف پاکستان کی تازہ ترین کثیر الجہتی غربت انڈیکس (ایم پی آئی)رپورٹ میں بھی غربت کی شرح میں اضافے کی نشاندہی کی گئی ہے۔ پاکستان میں ہر دس میں سے تین افراد غریب ہیں۔ چین میں انتہائی غربت کو کم کرنے کی کوششیں کامیاب ہوئی ہیں جو چین کی سیاسی قیادت کے عزم کو ظاہر کرتی ہےں اور ثابت ہوا ہے کہ اگر سیاسی قیادت چاہے تو غربت میں کمی لائی جا سکتی ہے۔پاکستان میں غربت کی شرح میں اضافے کی بنیادی وجہ ادھوری صلاحیتیں ہیں۔ افرادی قوت کی حسب حال و ضرورت تعلیم و تربیت کے مواقعوں کی کمی کی وجہ سے غربت میں کمی نہیں آ رہی۔ صدیوں پرانی کہاوت ہے، جہاں کچھ کرنے کی خواہش (لگن) ہو وہاں کوئی نہ کوئی راستہ نکل ہی آتا ہے۔ پاکستان پاورٹی ایلیوئیشن فنڈ (پی پی اے ایف)بنایا گیا ہے جو سرکاری اور نجی طور پر مختص مالی وسائل ہیں اور یہ کوشش تعریف کے قابل ہے‘ اِس ادارے نے ملک کے پسماندہ علاقوں میں لاکھوں گھرانوں کی مدد کی ہے۔بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی)سے مستفید ہونے والوں کے حالیہ تجزئیے سے پتہ چلتا ہے کہ 596,334 گھرانوں میں 32 فیصد اس قابل ہو چکے ہیں کہ اب انہیں بی آئی ایس پی کے سوشل سیفٹی نیٹ کی ضرورت نہیں۔ یہ سنگ میل، جیسا کہ سروے میں اجاگر کیا گیا ہے، پی پی اے ایف کے غربت میں کمی کے جامع فریم ورک کے ذریعے حاصل کردہ ٹھوس اور پائیدار نتائج کا زندہ ثبوت ہے۔ سروے میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان بھر میں 171,000سے زیادہ کمیونٹی ادارے قائم کئے گئے ہیں، جن میں 63 فیصد خواتین ممبرہیں، جو صنفی شمولیت کو یقینی بناتی ہیں۔مالیاتی شمولیت میں ادارے نے 5.3 ملین سے زائد بلاسود قرضے (56 فیصد خواتین کو)تقسیم کئے ہیں، جن کی مجموعی مالیت 19 ارب روپے سے زیادہ ہے اور کم آمدنی والے افراد کو چھوٹے کاروباری ادارے شروع یا کاروباری توسیع کرکے اپنے پیروں پر کھڑے ہونے کے قابل بنایا گیا ہے۔ تنظیم نے 963ایس ایم ایز کی مدد بھی کی ہے، جن میں خواتین اور ٹرانس جینڈر انٹرپرینیورز شامل ہیں۔ پی پی اے ایف کی قابل ذکر کامیابیاں ضرورت کے سمندر میں جزیرے کی مانند ہیں۔ رواں سال بی آئی ایس پی کا بجٹ 590 ارب سے بڑھا کر 716 ارب کر دیا گیا ہے۔ پی پی اے ایف کے غربت سے نجات کے پروگراموں کی طرح کے طریقوں کو اپنا کر یا اس کی تکمیل کرکے، بی آئی ایس پی اپنے ایک کروڑ(دس ملین)صارفین کو غربت سے اوپر اٹھا سکتی ہے۔غربت ختم کرنے کے لئے حکومت کو عالمی بینک، ایشیائی ترقیاتی بینک اور آئی ڈی بی جیسے اداروں کی مدد سے بی آئی ایس پی اور پی پی اے ایف کو ملک گیر مردم شماری کرانے کے قابل بنانا ہوگا تاکہ نہ صرف آمدنی بلکہ صحت، تعلیم، توانائی اور ڈیجیٹل رابطوں تک رسائی بھی حاصل کی جا سکے‘پاکستان چوراہے پر کھڑا ہے۔ 7.44 فیصد پاکستانی 4.20 ڈالر یومیہ کما رہے ہیں یعنی غربت کی لکیر سے نیچے زندگی بسر کر رہے ہیں۔پاکستان کے پاس وسائل کی کمی نہیں۔ صرف درست فیصلوں کی ضرورت ہے اور یہی فیصلہ کن کاروائی کا وقت ہے۔(بشکریہ دی نیوز۔ تحریر رضا حسین قاضی۔ ترجمہ ابوالحسن اِمام)
غربت کا مسئلہ