مہمان کالم - غم ڈھاکہ اور آج کا پاکستان!!!! غم ڈھاکہ اور آج کا پاکستان!!!!

ڈھاکہ کا غم اگر ختم ہو جائے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم اپنے بزرگوں کی قربانیوں کو بھلا رہے ہیں۔ میں تو آج بھی غم ڈھاکہ میں مبتلا ہوں اور ہر دسمبر اس غم میں شدت آتی ہے اور یہ سلسلہ برسوں سے ہے اور جب تک میں زندہ ہوں اس غم کے ساتھ ہی زندہ رہوں گا۔ میں نہیں جانتا کہ اور کون کون اس غم میں مبتلا ہے، کیا کسی کو ڈھاکہ یاد ہے یا نہیں، کیا کسی کو ہر دسمبر میں اپنے بھائیوں کی یاد آتی ہے یا نہیں، میں یہ تو نہیں جانتا لیکن مجھے تو اپنے بزرگوں کی قربانیاں بھی یاد آتی ہیں اور اس کے بعد وطن کو متحد رکھنے کے لیے خون بہانے والے بھی آنکھوں میں رہتے ہیں ۔ ہم جدا ہوئے یا ہمیں جدا کر دیا گیا ، ہماری غلطیاں تھیں یا دشمنوں کی سازش دونوں صورتوں میں ہم ذمہ دار تو تھے ۔ اگر ہم نے غلطیاں کی ہیں تو ان کا خمیازہ بھگت رہے ہیں اور اگر ہم یہ کہتے رہیں کہ سقوط ڈھاکہ کسی سازش کا نتیجہ ہے تو بھی ہم ذمہ دار ہیں کیونکہ سازشوں کا توڑ ہماری ذمہ داری تھی اور اگر ہم یہ نہیں کر سکے تو ہم اپنی ذمہ داریاں نبھانے میں کامیاب نہیں ہو سکے۔
 سولہ دسمبر انیس سو اکہتر کو تو جو ہوا سو ہوا لیکن تشویشناک امر یہ ہے کہ ہم نے اس بڑے سانحے سے بھی کوئی سبق حاصل نہیں کیا، ہم آج بھی بہت بے رحمی کے ساتھ اپنے ملک کو نقصان پہنچانے میں مصروف ہیں، ہمیں کسی دشمن کی ضرورت ہی کہاں ہے، ہم خود ہی کافی ہیں، ہمارے اپنے مفادات اتنے بڑے ہیں کہ ملک تو کہیں بہت پیچھے رہ چکا ہے۔ اپنی سیاسی جماعتوں کو دیکھ لیں کون کیا کر رہا ہے، کیوں کر رہا ہے، کب سے کر رہا ہے اور نجانے کب تک کرتا رہے گا ۔ کیا ملک کے مسائل ایسے حل ہوں گے، جب کوئی سیاسی جماعت ذاتی مفادات سے پیچھے ہٹنے کے لیے ہی تیار نہ ہو۔ سب کو اقتدار چاہیے، سب ایوان صدر ، ایوان وزیر اعظم اور صوبائی سطح پر اپنے اپنے گورنرز اور اپنے اپنے وزرائے اعلی چاہتے ہیں۔ یہ کام جائز طریقے سے ہو یا ناجائز، یہ اقتدار درست طریقے سے ملے یا کسی بھی غلط طریقے سے اقتدار میں پہنچیں اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ ہم اپنے ہی ملک کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں۔ حالانکہ ایسا نہیں کہ ہم ٹھیک نہیں کر سکتے یا ہمیں ٹھیک کرنا آتا نہیں ہے، ہم سب کچھ کر سکتے ہیں، ہم تعمیر بھی کر سکتے ہیں لیکن حکمران طبقہ اپنے کاموں میں لگا ہوا ہے ۔ کوئی انتخابات چاہتا ہے ، کوئی نہیں چاہتا، کسی کو لیول پلینگ فیلڈ کا رونا ہے، کسی کو سلیکشن کا خوف کھائے جا رہا ہے۔ ہم ان حالات میں سولہ دسمبر کے دکھ کو تازہ کر رہے ہیں۔ مجھے ڈاکٹر مشتاق احمد نے خط بھیجا ہے انہوں نے جو خواب لکھا ہے وہ دل چیرنے والا ہے غم ڈھاکہ کا دن مناتے ہوئے یہ خط غم میں واضح طور پر اضافے کا باعث بنا ہے۔ ڈاکٹر صاحب لکھتے ہیں چوہدری صاحب السلام علیکم امید ہے خیریت سے ہوں گے۔ چوہدری صاحب آپ کا کالم روزانہ پڑھتا ہوں، آپکا مشکور ہوں کہ جب کبھی آپکو کچھ لکھ کر بھیجتا ہوں تو آپ اسے اپنے کالم کا حصہ بناتے ہیں۔ میں وہ پاکستانی ہوں جو ہجرت کر کے پاکستان پہنچا، آگ اور خون کے دریا سے گذر کر ہم اپنے وطن پہنچے تھے ، پچاس ، ساٹھ، ستر، اسی، نوے، دو ہزار، دو ہزار دس کی دہائی کو بھی دیکھا ہے اور آج دو ہزار تیئیس میں اپنے اردگرد سب کچھ دیکھ رہا ہوں۔ مجھے تکلیف ہوتی ہے کہ میرے ملک کے اندرونی دشمن میرے اردگرد ہی ہیں۔ میں نے پاکستان کا مطلب کیا لا الہ الا اللہ، بن کے رہے گا پاکستان لے کے رہے گا پاکستان اور اس جیسے سارے نعرے سنے ہیں، میں نے ملک کو ٹوٹتے دیکھا ہے اور بہت سارے افسوسناک واقعات اپنے سامنے دیکھے ہیں اور بہت سی تکالیف برداشت کی ہیں لیکن گذشتہ دنوں میں نے ایک خواب دیکھا جو میں آپ کے قارئین تک پہنچانا چاہتا ہوں۔ "ایک ایسی جگہ جہاں لوگوں کا ہجوم ہے شاید کوئی اجتماع ہے، کوئی کانفرنس ہو رہی ہے یا پھر اجتماع ہے لوگ اپنے اپنے کاموں میں مصروف ہیں۔ کیا دیکھتا ہوں کہ وہاں قائد اعظم محمد علی جناح آتے ہیں میں لوگوں کو بتاتا ہوں کہ بابائے قوم آئے ہیں، قائد اعظم محمد علی جناح آئے ہیں، نعرے لگائو، بابائے قوم کا استقبال کرو، انہیں خوش آمدید کہو لیکن کوئی توجہ نہیں دیتا سب اپنے اپنے کاموں میں، باتوں میں لگے رہتے ہیں ۔ جب سے میں نے یہ خواب دیکھاہے تو سوچ رہا ہوں کہ شاید لوگوں نے جناح کے پاکستان کو بھلا دیا ہے، لوگوں نے منہ پھیر لیا ہے انہیں کچھ غرض نہیں کہ بابائے قوم آئے ہیں، انہیں کچھ غرض نہیں کہ یہ ملک بابائے قوم کی امانت ہے ، بابائے قوم کی امانت یہ ملک ہمارے سامنے مشکلات میں گھرا ہوا ہے لیکن ہم ملکی مسائل کے بجائے اپنے اپنے کاموں میں لگے ہوئے ہیں۔ یہ خواب بتاتا ہے کہ لوگوں کی اپنے ملک میں دلچسپی نہ ہونے کے برابر ہو چکی ہے۔"
چوہدری صاحب اللہ میرے آپ کے ہم سب کے ملک کی حفاظت کرے، ہمارے دلوں کو بدل دے جن لوگوں نے غلامی نہیں دیکھی وہ نہیں جانتے کہ یہ کتنی سخت ، تکلیف دہ اور نہ ختم ہونے والی سزا ہے۔ کشمیر اور فلسطین کے حالات کو دیکھ کر بھی ہمیں کچھ عقل نہیں آتی تو ہم اپنی عقل پر ماتم ہی کر سکتے ہیں۔ اللہ ہم پر رحم فرمائے۔
آج ڈھاکہ کو یاد کرتے ہوئے ڈاکٹر مشتاق احمد کا خواب قارئین کی خدمت میں پیش ہے۔ یہ وہ تلخ حقیقت ہے جس کا ہمیں سامنا کرنا چاہیے۔ہمیں اپنی اصلاح کرنی چاہیے، آزادی کی قدر کرنی چاہیے، یہ بہت بڑی نعمت ہے اور اس نعمت کا شکر ادا نہیں کریں گے تو انجام پر نظر ضرور رکھیں۔ مولانا سید ابوالاعلی مودودی نے                                                                                                 9دسمبر1972ء کو لکھا تھا  "میرے نزدیک سقوطِ مشرقی پاکستان کا بنیادی سبب یہ ہے کہ جس اِسلام اور اسلامی قومیت کے تصور پر پاکستان بنا تھا ، قیام پاکستان کے بعد اول روز سے ہی اْس کو طاقت پہنچانے اور مضبوط کرنے سے صرف گریز ہی نہیں کیا گیا، بلکہ اْس کی جڑوں کو روز بروز کمزور کیا جاتا رہا، اور دشمنوں کو اْس کا پورا موقع دیا جاتا رہا کہ وہ باقاعدگی اور تسلسل کے ساتھ اْن کو کاٹتے رہیں۔ مشرقی پاکستان میں خود ہندو کافی تعداد میں موجود تھے اور اچھے خاصے طاقتور تھے۔ اْن کو پاکستان کا بننا سخت ناگوار تھا اور وہ اْس کو ختم کرنے کے کسی مناسب موقع کو ہاتھ سے نہ جانے دینا چاہتے تھے۔ مسلمانوں کے جدید تعلیم یافتہ طبقہ میں اْن کے بہت سے شاگرد موجود تھے ۔ اْن کے ذہن ہندو استادوں کی تعلیم اور ہندو مصنفین کے بنگلہ لٹریچر سے پوری طرح متاثر تھے۔ ہندوستان بھی یہ جانتا تھا کہ مشرقی پاکستان پاکستان کا کمزور ترین حصہ ہے اور وہاں اس دو قومی نظریے کو، جس پر پاکستان بنا ہے زیادہ آسانی کے ساتھ زَک پہنچائی جاسکتی ہے ۔ اِس غرض کے لیے قیام پاکستان کے بعد ہی کلکتہ سے ایسا لٹریچر بارش کی طرح برسنا شروع ہوا جو اس نظریے کی بیخ کنی کرنے والا تھا ۔ ان سب لوگوں کی کوشش یہ تھی کہ بنگالی زبان کی بنیاد پر مسلمان بنگال اور ہندو بنگال کو ملا کر ایک قوم بنایا جائے اور اس کے اندر غیر بنگالی مسلمانوں اور مغربی پاکستان کے خلاف نفرت کا زہر پھیلایا جائے ۔ پاکستان کے حکمرانوں نے ایک دن بھی اِس ابھرتے ہوئے خطرے کو نہ محسوس کیا اور نہ اِس کے تدارک کی کوئی فکر کی۔ درس گاہوں میں، صحافت میں اور رسائل نشرواشاعت میں یہ زہر مسلسل پھیلتا رہا، مگر ہمارے کارفرمائوں نے نہ تعلیم کے نظام کی اصلاح کی، نہ یہ دیکھا کہ درس گاہوں میں کیسے استاد درس دے رہے ہیں۔ نہ اس بات کا کوئی نوٹس لیا کہ طلبہ کی کیسے کھیپ اِن سے تیار ہو کر نکل رہی ہے۔ کچھ زیادہ مدت نہ گزری تھی کہ مشرقی پاکستان میں یہ پروپیگنڈا شروع ہوا کہ مغربی پاکستان اْسے لْوٹے کھا رہا ہے۔ اِس سلسلے میں نہایت ہوشیار لوگوں نے جھوٹے سچے اعداد و شمار مرتب کر کے بڑے پیمانے پر پھیلائے جو کالجوں کے طلبہ اور نئے تعلیم یافتہ لوگوں اور سرکاری ملازموں کی نوک زبان پر چڑھ گئے۔ بچے بچے نے اِس کو رَٹ رکھا تھا۔ جس سے بھی بات کرنے کا اتفاق ہوتا وہ فر فر اِن کو سنانا شروع کر دیتا۔ حکومت پاکستان کو بار بار توجہ دلائی گئی کہ وہ ان اعداد و شمار کی تحقیق کرے۔ اگر اِن میں کوئی صداقت ہے تو فوراً ان معاشی و مالی شکایات کی تلافی کی جائے جو وہاں کے لوگ پیش کرتے ہیں اور اگر وہ جھوٹے اعداد و شمار ہیں تو اْن کی بروقت تردید کر کے صحیح اعداد و شمار شائع کر دے۔ مگر آخری وقت تک اِس پروپیگنڈے کے مقابلے میں کوئی مستند چیز شائع ہی نہیں کی گئی ۔ اْس کے بعد خواجہ ناظم الدین مرحوم کو بیک بینی و دوگوش نکال کر باہر پھینکنے، محمد علی بوگرہ مرحوم کے ساتھ ذلت آمیز برتائو کرنے،1954 ء کے دستور کی منظوری سے پہلے ہی مجلس دستور ساز کو توڑ ڈالنے کے واقعات پے درپے پیش آئے کہ جن سے فطری طور پر مشرقی پاکستان کے سیاسی عناصر اور تعلیم یافتہ لوگوں نے یہ تاثر لیا کہ مغربی پاکستان کے لوگوں نے قوت پر کلیتہً قبضہ کر لیا ہے اور ان کا صوبہ محض ایک ماتحت کالونی بن کر رہ گیا ہے۔ اس تاثر کو1958ء  کے فوجی انقلاب اور ایوب خان کی دس سالہ آمریت نے اور زیادہ مستحکم کردیا۔"
مودودی صاحب نے مزید جو لکھا کوشش کروں گا وہ بھی آپ کی خدمت میں پیش کیا جائے۔

بشکریہ روزنامہ آج