ہمیں بتایا جاتا رہا ہے کہ پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ لوگ ٹیکس نہیں دیتے ۔جب لوگ ٹیکس نہیں دیں گے تو یہ ملک کیسے آگے بڑھے گا۔اسی طرح جب عوام پر نت نئے ٹیکسوں کا بوجھ لادا جاتا ہے تو یہ جواز پیش کیا جاتا ہے کہ آئی ایم ایف کا دبائو ہے ،بیل آئوٹ پیکیج میں طے ہونے والی شرائط کے مطابق قومی آمدن میں اضافہ ضروری ہے۔لیکن یہ معاملہ اتنا سیدھا اور سادہ نہیں ۔کیا آپ کو معلوم ہے کہ 2001-02ءمیں فیڈرل بورڈ آف ریونیو جو تب سینٹرل بورڈ آف ریونیو یعنی CBRکہلاتا تھا ،ٹیکس جمع کرنےکیلئے اس کا سالانہ ہدف کیا تھا؟457ارب روپے جس پر نظر ثانی کرنے کے بعد 443ارب روپے کا ہدف مقرر کیا گیا۔کیا آپ جانتے ہیں کہ 2023-24میں FBRکا سالانہ ہدف کیا تھا اور کتنا ٹیکس جمع کیا گیا؟گزشتہ برس 9252ارب روپے کا ہدف تھا اور ایف بی آر پاکستانی عوام کی رگوںسے 9306ارب روپے یعنی مقررہ ہدف سے 54ارب روپے زائد نچوڑنے میں کامیاب رہا۔اور موجودہ مالی سال یعنی 2024-25ء کیلئے 11174ارب روپے جمع کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔یعنی گزشتہ 24سال کے دوران ٹیکس وصولی میں کتنا اضافہ ہوا ،یہ تخمینہ آپ خود لگا سکتے ہیں ۔اس کا کیا مطلب ہوا کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو کی کارکردگی شاندار رہی ؟ہرگز نہیں ۔دیگر سرکاری محکموں کی طرح یہاں بھی نکمےاورکام چور اہلکار اور افسر مسلط ہیں ۔ٹیکس وصولی میں اتنا بڑا اضافہ دو وجوہات کی بنیاد پر ہوا ۔ایک تو افراط زر کی بڑھتی ہوئی شرح یعنی روپے کی برق رفتار بے قدری اور دوسرا ٹیکس نیٹ میں آنے کی غلطی کرنے والوں کو مسلسل دی جارہی سزا۔ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ خود کو رجسٹرڈ کروانے والے شہریوں کو آسانیاں فراہم کی جاتیں ۔جس طرح دیگر ترقی یافتہ ممالک میں ٹیکس دینے والے شہریوں کی عزت افزائی کی جاتی ہے ،اسی طرح یہاں بھی ان کی توقیر کا بندوبست کیا جاتا ،جو لوگ ٹیکس نیٹ میں نہیں ہیں ،انہیں اس دھارے میں لانے کی کوشش کی جاتی لیکن اس کے بجائے آسان اور سہل طریقہ ڈھونڈ لیا گیا۔بجلی کے بلوں اور پیٹرول جیسی عام استعمال کی اشیاء پر ٹیکسوں کی بھرمارکردی جائے ،سیلز ٹیکس اور ڈیوٹیوں کے ذریعے غریب ،امیر کو ایک ہی قطار میں کھڑا کردیا جائے اور جو لوگ ٹیکس نیٹ میں آگئے ہیں بار بار انہیں ہی نچوڑنے کی کوشش کی جائے کیونکہ یہ کام نسبتاً آسان ہے ۔اس کے برعکس اگر ٹیکس چوری کرنے والوں کی دولت کا تخمینہ لگانے کی کوشش کی جائے تو پرتعیش دفاتر سے نکل کر فیلڈ میں محنت کرنا پڑتی ہے ۔ایف بی آر کے لوگ کہیں گے جناب ہم نے تو بھرپور مہم چلائی ،گزشتہ چند برس کے دوران کتنے لاکھ لوگ ٹیکس نیٹ میں آئے اور انکم ریٹرن جمع کرواکے فائلر بن گئے ۔لیکن یہ بھی ایک مغالطہ ہے ۔یہ جو لوگ نہایت تیزی سے فائلر بن رہے ہیں وہ بیچارے غریب افراد ہیں جو بمشکل گھر کا چولہا جلارہے ہیں۔ایف بی آر نے کتنے لوگوں کی دولت کا تخمینہ لگا کر ان سے ٹیکس وصول کیا ؟چند برس قبل یہ جو جعلی بینک اکائونٹس کا شور اُٹھا تھا ،فالودے والے ،ریڑھی بان اوراسی نوعیت کے عام افراد کے اکائونٹس میں جو اربوں روپے کی ٹرانزیکشنز ہوئیں ،کیا اس معاملے کو منطقی انجام تک پہنچایا گیا؟کیا کسی کے خلاف کسی قسم کی کارروائی ہوئی؟ ہرگز نہیں۔
بتایا جاتا ہے کہ اتنے بینک اکائونٹس کا سراغ لگا لیا ،اتنے افراد کے خلاف انکوائری شروع ہوگئی،کیا اس نوعیت کے پبلسٹی اسٹنٹ سے کچھ برآمد ہوا؟منقولہ و غیر منقولہ جائیداد کا ریکارڈ اراضی سینٹرز میں موجود ہے ،بینک اکائونٹس کی تفصیلات اسٹیٹ بینک سے معلوم کی جاسکتی ہیں ،وہ افراد جو غیر ملکی دورے کرتے ہیں ،عالیشان گھروں میں رہتے ہیں ،پرتعیش اور مہنگی گاڑیوں میں سفر کرتے ہیں مگر فائلر نہیں ہیں ،کیا انہیں تلاش کرنا اور ان سے ٹیکس وصول کرنا بہت مشکل کام ہے؟ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ ان ٹیکس چوروں کا سراغ لگا کر انہیں رجسٹرڈ کیا جاتا تاکہ بوجھ تقسیم ہوتا اور جو لوگ پہلے سے ٹیکس نیٹ میں ہیں ،انہیں ریلیف دیا جاتا لیکن ٹیکس وصولی کا ہدف پورا کرنے کیلئےانکے خلاف شکنجہ مزید سخت کردیا جاتا ہے۔
میں چھوٹے شہروں کی بات نہیں کرتا ،آپ اسلام آباد ،راولپنڈی ،پشاور ،کراچی ،کوئٹہ اور لاہور کے کسی بازار میں چلے جائیں ۔میں کسی برانڈ یا مخصوص شعبہ کا ذکر نہیں کرتا ،آپ الیکٹرانکس کی کسی دکان پر چلے جائیں ،پیٹرول پمپ کا چکر لگا لیں ،کسی ہوٹل پر کھانا کھانے چلے جائیں ،موبائل فون خریدنے نکل پڑیں ،یہ لوگ آن لائن پیمنٹ سے ہر ممکن طور پر بچنے کی کوشش کریں گے ،باقاعدہ لکھ کر لگایا ہوگا کہ پیسے نقد وصول کئے جائیں گے ،کارڈ سے ادائیگی کی سہولت دستیاب نہیں یا پھر اس پر اضافی چارجز ہوں گے ۔کیوں؟اس لئے کہ آن لائن پیمنٹ کی صورت میں پتہ چل جائے گا کہ کتنی آمدن ہے اور پھر ٹیکس دینا پڑے گا۔اس جدید دور میں جبکہ ہمارے ہمسایہ ملک بھارت میں بھکاری بھی آن لائن بھیک وصول کرتے ہیں ،ہمارے ہاں پرنالہ وہیں ہے ۔کیا ایسا نہیں ہوسکتا کہ کم ازکم بڑے شہروں میں مخصوص وقت کیلئے مہلت دینے کے بعد وہ سب کاروبار بند کردیئے جائیں جنکے پاس آن لائن پیمنٹ کا آپشن موجود نہیں ۔لیکن یہ کام نہیں ہوگا کیونکہ ایف بی آر کے تساہل پسند اہلکار اور افسر پہلے سے ٹیکس نیٹ میں موجود شہریوں کا بازو مروڑ کر ہدف پورا کرنے کے عادی ہوچکے ہیں ۔تمام تر اوچھے ہتھکنڈوں کے باوجود ٹارگٹ پورا نہیں ہورہا تو کیا ہوا ،مزید بدمعاشی کی جائے ،لوگوں کو اور زیادہ ہراساں کیا جائے۔لوگ بددل اور مایوس ہوتے ہیں تو کیا ہوا ،ان سرکاری افسروں کا مستقبل تو محفوظ ہے ،ان کی اے سی آر تو ٹھیک رہےگی ،افسران بالا خو ش ہوں گے ۔ باقی سب جائے بھاڑ میں ۔حضور! یہ ملک ایسے نہیں چل سکتا ۔ایف بی آر میں حامد عتیق سرور جیسے قابل افسر موجود ہیں جو غالباً ممبر پالیسی کے طورپر محکمے کا دماغ سمجھے جاتے ہیں ،اس کے باوجود یہ زبوں حالی ،یہ نکما پن ،قابل افسوس اور ناقابل یقین ہے۔