تحریر:قاسم علی قاسم اگرچہ ملک سیاسی بحرانوں کی زد میں ہے لیکن ریاست پاکستان نے نہایت ہی احسن انداز میں ملک کو سنبھال رکھا ہے ،نگران حکومتی نظام ریاستی پالیسی کی بڑی خوبصورتی کے ساتھ وضاحت کر رہا ہے ،نگران حکومتوں کے ذریعے بہت سے اقدامات نہ صرف لائق تحسین ہیں بلکہ ملک کے وسیع تر مفاد میں انتہائی ضرورت کے حامل بھی ہیں ،قومی امکانات ہیں کے ان پالیسیوں کے دور رس نتائج برآمد ہوں گے ،مثال کے طور پر ملک بھر میں بجلی چوری کیخلاف ایک موثر اور سخت مہم چلائی جارہی ہے اور روزانہ کی بنیاد پر بجلی کی چوری پکڑی جارہی ہے ،ماضی کی منتخب حکومتیں یہ قدم اٹھانے سے قاصر رہیں اور انکی نا اہلی کی بدولت بجلی چوری کا بوجھ بل ادا کرنے والے صارفین پر ہی ڈالا جاتا ہے یقینا ارباب اختیار کی یہ سراسر زیادتی ،نا انصافی اورنا اہلی ہے جس کا خمیازہ عوام بھگتتے آ رہے ہیں ،اسی طرح ڈالر سمیت غیر ملکی کرنسی کی بلیک مارکیٹ ، سمگلنگ اور ذخیرہ اندوزی کیخلاف مہم کے بھی مثبت نتائج برآمد ہونا شروع ہو چکے ہیں ،مہم اسی طرح جاری رہی تو ملک کو بے پناہ فائدہ حاصل ہوگا ،لاکھوں کی تعداد میں غیر قانونی طور پر مقیم غیر ملکیوں کے خلاف آپریشن بھی انتہائی ناگزیر ہوچکاتھا ،اس ضمن میں نگران حکومتیںریاستی اداروں کے تعاون سے قابل تعریف اقدامات اٹھا رہی ہیں،ان اقدامات کے نہ صرف ملکی معیشت پر مثبت نتائج برآمد ہوں گے ،پاکستانی سرمایہ کاروں اور تاجروں کو نچلی سطح تک سود مند مواقع حاصل ہوں گے بلکہ دہشت گردی اور جرائم میں کمی اور امن و عامہ کی صورتحال میں بھی بہتری آئے گی ۔ پنجاب کی نگران حکومت نے بھی ایک انتہائی سود مند اور ناگزیر ضرورت کا حامل قابل ستائش قدم اٹھا کر صوبہ پنجاب کے گہرے زخموں پر مرہم رکھی ہے ،بدقسمتی سے پنجاب کو مقامی حکومتی نظام اور بلدیاتی سیاست سے مسلسل محروم رکھا جا رہا ہے جس کے باعث عوام کی نچلی سطح کے مسائل طویل مدت سے جمع ہوتے آ رہے ہیں ،تاریخ بتاتی ہے کہ روایتی سیاست مقامی حکومتوں کے نظام کیلئے ہمیشہ سے سوتیلی ماں ثابت ہوئی ہے ،قومی و صوبائی اسمبلیوں کے ممبران نے اپنے اپنے حلقے میں گرفت مضبوط رکھنے کی غرض سے بلدیاتی حکومتوں کے اختیارات اپنے ہاتھوں میں لے رکھے ہیں جبکہ ان کا اصل کام تو قانون سازی ہے ،درحقیقت قومی و صوبائی حکومتیں اور اسمبلیوں کے ممبران مقامی حکومتوں کے حقوق غصب کر چکے ہیں جس کے باعث ہمارے ہاں بلدیاتی انتخابات زیادہ تر التواء کا شکار رہتے ہیں ،اس پالیسی سے عوام کی نچلی سطح سے سیاست اور قیادت کا خاتمہ کردیا گیا ہے ،ہمارے قانون سازوں کی ترجیحات میں سڑک ،گلی ،نالی بنانا ،بجلی گیس کے کنکشن لگانا اور سرکاری محکموں کو کنٹرول کرنا ہی باقی رہ گیا ہے ،اس سارے عمل سے جہاں عوام کی نچلی سطح کے مسائل انبار کی شکل اختیار کر چکے ہیں وہاں بلدیاتی سطح پر قیادتوں کا بھی شدید فقدان پیدا ہو چکا ہے ،اگرچہ بلدیاتی سیاست یا مقامی حکومتوں کے نظام کو ملکی سیاست کی پنیری کہا جاتا ہے مگر ایک مدت سے اس پنیری کی آبیاری ہی نہیں کی گئی یہی وجہ ہے کہ ہماری آج کی سیاست میں نوجوان نسل کو آگے بڑھنے کا راستہ تلاش کرنے میں شدید دشواری کا سامنا ہے ۔ حکومت پنجاب کی جانب سے لوکل گورنمنٹ اینڈ کمیونٹی ڈویلپمنٹ ڈیپارٹمنٹ پنجاب کو یہ ہدایات جاری کی گئیں تھیں کہ وہ ایک خود مختار اور فیصلہ ساز ادارہ ہے اور بلدیاتی سطح پر گڈ گورننس قائم کرنا اس کی بنیادی ذمہ داری ہے لہذا پنجاب لوکل گورنمنٹ ایکٹ2022کو نافذ کرنے کی ذمہ داری خوش اسلوبی سے سرانجام دی جائیں اور اس بات کو یقین بنایا جائے کہ مقامی حکومتیں اپنی ذمہ داریاں احسن انداز میں سرانجام دیں تاکہ عوام کی نچلی سطح پر سماجی و اقتصادی ترقی کو فروغ مل سکے ،لوکل گورنمنٹ اینڈ کمیونٹی ڈویلپمنٹ ڈیپارٹمنٹ پنجاب نے وزیر اعلیٰ و وزیر بلدیات کی ہدایات پر بڑے احسن انداز میں عملدرآمد کیا ہے اور پنجاب کی2468دیہی یونین کونسلز کو با اختیار بنانے کے بے مثال منصوبے پر کام آغاز کردیا ،اس منصوبے کو ؛اب گائوں چمکیں گے؛ کا نام دیا گیا ہے ،اس قابل ستائش منصوبے کی خاص بات یہ ہے کہ پنجاب بھر میں نوجوانوں کو مقامی سطح پر سماجی کردار ادا کرنے کے مواقع فراہم کئے جارہے ہیں اور مقامی حکومتوں کی معاونت کیلئے ہزاروں نوجوان رضا کار بنائے جا رہے ہیں ان رضا کاروں کوVolunteers of Local Government (VLG) کا نام دیا گیا ہے ۔ادارہ پنجاب کے ہر ضلع سے دس ہزار رضاکاروں کو رجسٹرڈ کرنے کا ارادہ رکھتا ہے جو اپنی اپنی یونین کونسلز میں بنیادی خدمات کی فراہمی میں اپنا موثر کردار ادا کریں گے ،انVLGرضاکاروں کو میونسپل محکموں کی کی خدمات کو بہتر بنانے میں مدد کرنے ، ثقافتی تقریبات، کھیلوں کی سرگرمیوں، تفریحی سرگرمیوں کا اہتمام کرنے ، عوامی مقامات پر صفائی ستھرائی اور خوبصورتی کے انتظامات کو بہتر بنانے میں مدد کرنے جیسے فرائض سونپے جارہے ہیں ۔ رضا کاروں کے اس نظام کو فعال کرنے میں نگرانی صوبائی وزیر (ٹرانسپورٹ،لائیو سٹاک ) جناب ابراہیم حسین مراد اہم ترین اور فعال کردار ادا کر رہے ہیں اور عملی طور پر اس منصوبے کو پروان چڑھانے میں موثر حکمت عملی کے ساتھ جدوجہد کر رہے ہیں ،انہوں نے پہلے لاہور میں اس نظام کو فعال کیا اور اب دیگر اضلاع کے ساتھ ساتھ ضلع راولپنڈی میں بھی اس کو بڑی تیزی کے ساتھ فعال کرتے جارہے ہیں،سماجی کردار ادا کرنے کی خواہشمند نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد ؛اب بلدیہ آپ کی ؛پروگرام کا حصہ بنتی جارہی ہے ،نوجوانوں کو یہ موقع فراہم کرکے حکومت نے جہاں عوام کی نچلی سطح کے مسائل پر ہمدردانہ توجہ فرمائی ہے وہاں مقامی سطح کی قیادتوں کے شدید فقدان پر بھی ایک ضرب کاری لگائی ہے ،امید ہے لوکل گورنمنٹ اینڈ کمیونٹی ڈویلپمنٹ ڈیپارٹمنٹ پنجاب اپنی اس آئینی ذمہ داری کو اسی طرح لیکر آگے بڑھے گا اور آنے والی منتخب حکومت اور نو منتخب ممبران اسمبلی اس کو اپنی سیاست کی بھینٹ نہ چڑھائیں گے۔
بلدیاتی سطح پر گڈ گورننس کی قابل ستائش کوشش