مہمان کالم - بابا فرید ؒ ۔۔۔انسانی دوستی کے امین بابا فرید ؒ ۔۔۔انسانی دوستی کے امین

 ڈا کٹر طا ہر رضا بخاریمہم

حضرت بابا فرید الدین مسعود گنج شکر ؒ خطّے کے عظیم روحانی پیشوا اور جلیل القدر ہستی ہیں ، ان کا 783 واں عرس ان دنوں ، ان کی خانقاہ ِ معلی پر انتہائی تزک و احتشام سے انعقاد پذیر ہے ۔ گزشتہ شب بہشتی دروازہ کی قفل کشائی کی رسم ادا ہوئی ، جس سے کثیر تعداد میں زائرین نے گزرنے کی سعاد ت حاصل کی ۔ صوفیا اور ان کی خانقاہیں دین و فقر کے مرکز اور علم و آگہی کے مسکن تھے ۔ خطّے میں پنجابی زبان و ادب کی ترویج میں بھی صوفیا کا بڑا بنیادی کردار ہے ، جس کے سُرخیل حضرت بابا فرید الدین مسعود گنج شکر ؒ (1280ئ۔1188ئ) ہیں۔ حضرت بابا صاحب نے خطے میں جس صوفیانہ تحریک کی داغ بیل ڈالی ، اس میں اُن کے شعرو سخن کا مقام بڑانمایاں ہے۔ آپ کی بدولت پنجابی زبان کو اس سماج سے گہرا ربط اور رسوخ میسر ہوا اور اخلاص ، محبت ، رواداری اور انسان دوستی کے جذے اور داعئے پروان چڑھے ،ازاں بعداس قافلے میں شامل ہونے والے صوفیاء جن میںحضرت شاہ حسین ؒ، حضرت سلطان باہوؒ ، بابا بلھے شاہ ؒ ، پیروارث شاہ ؒ ، خواجہ غلام فرید ؒ اور میاں محمد بخشؒ نے ان روایات کو آگے بڑھایا اورلوک گیتوں ، لوک بحروں اور لوک طرزوں میں شعر، شلوک ،کا فیاں اورسہ حرفیاں لکھ کر اس زبان کوپختہ اور نرم و نازک جذبات کے اظہار کا ذریعہ بنایا ۔ صوفیاء کے فکروفن کے سبب پنجابی زبان میں فارسی کی مٹھاس ، سوز اور اس کا رَس بھی اُتر ا اور ہماری خانقاہوں کیساتھ ،ہماری محفلیں، چوپال اور گلی کوچے ، اس کی صدائوں سے گونج اُٹھے،، صوفیانے اپنے کلام کی ترویج ، ابلاغ اور رسوخ کے لیے مقامی لوک کرداروں کو اپنے مضامین کا حصہ بنایا ، جیسے مرشدکو رانجھا اور مہینوال، اور روح کو ہیر ، سسّی اور سوہنی ،اور عشق کی رمزوں کو تصوّف و طریقت سے ہم آہنگ کر کے عام آدمی کے فہم کے مطابق ڈھالنے کی سعی کی ۔برصغیر میں مختلف مذاہب و ادیان ، ہندو مت کے سامنے زیادہ دیر نہ ٹھہر سکے اور بتدریج اُس میں ضَم ہو تے گئے، یہ اعزاز اور سعادت صرف اسلام ہی کو میسر آئی ، جس کی فطرت میں ہی غلبہ اور سربلندی ہے ، جس کا کریڈٹ بلاشبہ ان صوفیاکو ہے ۔ برصغیر میں د ین ِ اسلام کی ترویج کے بعد جتنے بھی مذاہب اور تحریکیں اُٹھیں ، وہ اسلام سے متاثر ہوئے بغیر آگے نہ بڑھ سکیں ، اس ضمن میں سب سے بڑ ی مثال سکھ مذہب کی ہے ، جس کے بانی بابا گرونانک، حضرت بابا فرید ؒ کے فکرو فن کے اس حد تک شیدائی اور عقیدتمندتھے کہ انہوں نے سکھوں کی مذہبی کتاب گروہ گرنتھ صاحب میں باباجی کے 258شلوک تحریر کر ڈالے ، جس کو بابا صاحب کے کلام کے ایک اہم ماخذ کے طور پر بھی معروف ہونے کا اعزاز میسر ہے ۔ شلوک ہندی زبان کا لفظ ہے، جس کے معنی شاہ کی دنیا ، فقیر کا جہاں ، بادشاہ کاکلام ہے ۔ شلوک فارسی کے دو بیت کی طرح ہم قافیہ دو مصرعوں کی طرح ہوتا ہے ، جس کو ملتانی یا سرائیکی میں دوہڑا کہتے ہیں، لیکن یہ ضروری نہیں ،یہ زیا دہ مصروں پر بھی مشتمل ہوسکتا ہے ۔ بابا گرونانک کے پیروکار پاکستان آمد پر پاکپتن حاضری کے خواہش مند ہوتے ہیں ، بلکہ یہ عقیدت اس حد تک غالب ہے کہ ان میں ایک گروہ اپنے نام کے ساتھ باقاعدہ فریدی کا لاحقہ بھی لگاتا ہے ۔ بابا گرونانک کا عہد حضرت بابا فرید الدین ؒ سے کم و بیش چارسو سال بعد کا ہے ، آپ کی بارہویں پشت میں ، آپ کے جانشین حضرت ابراہیم فریدی ، جو اپنے زہدو ورع اور جذب و کیف کے سبب ’’فرید ثانی ‘‘ کے لقب سے معروف ہوئے ، بابا گرونانک ان کے دس سال تک حلقہ بگوش رہے ۔ روایت ہے کہ وہ حضرت علائو الدین موج دریا ؒ کے صاحبزادے اور بابا فرید ؒ کے پوتے حضرت فتح اللہ نوری بیالوی، جن کا مزار پاکپتن سے قبولہ روڈ پر ہے ، کے مزار پر حضرت ابراہیم فرید ثانی کے ہمراہ قیام کرتے اور بابا فرید کی بیاض انہی سے ، بابا گرونانک نے حاصل کی،جس کو بعد از استخارہ گورو جی کے سپرد کیا گیا تھا۔ امتداد زمانہ کے سبب یہ اصل بیاض تو معدوم ہوگئی ، تاہم ’’شلوک بابا فرید‘‘کے عنوان سے یہ رشحات گرنتھ صاحب میں محفوظ ہوگئے ۔بابا گرونانک اس اعتبار سے پنجاب کے عوام کے محسن ہیں کہ انہوں نے جیسے تیسے بھی ہوا، حضرت بابا جی کے کلام کو اپنی گرنتھ میں محفوظ کرلیا اور آئندہ نسلوں کے استفادے کا اہتمام ہوگیا ، بصورت ِ دیگر حضرت بابا صاحب کے عربی ، فارسی اور ہندوی کلام کی طرح شاید یہ بھی ناپید ہوجاتا ۔ حضرت بابا فرید ؒ کی شاعری میں شریعت ِ مطہر یہ کی پابندی اور اعلیٰ اخلاق کی بلندی ہمیشہ نمایاں اور معتبر ہے۔ آپ نے سوسائٹی کو امن ، محبت اور صبر و تحمل کا پیغام دیا ہے۔آپ فرماتے ہیں :۔ جِے تَیئں مَارَن مُکیاںْ تِنہْاں نہ ماریں گھم آپنے گھر جائیے، پَیْرتِنہْاں دے چُم یعنی اگر دنیا تجھے ظلم و ستم کا نشانہ بنائے تو تُو اس کا جواب ظلم سے نہ دینا ، بلکہ ان کے قدم چوم کر اپنے گھر چلے جانا ، دشمن کو پیار اور حُسن ِ اخلاق سے زیر کرنا۔ حضرت بابا فرید الدین ؒ کے دبستان تصوّف و طریقت کا یہ بھی ایک نمایاں وصف اور خوبی ہے کہ لوگوں سے درگذر کیا جائے ، عفوو معافی کا دائرہ وسیع رکھا جائے ، اخلاق و محبت سے ان کو قریب کیا جائے ۔ آپ کے خلیفہ و جانشین حضرت خواجہ نظام الدین اولیاء سے کسی نے اپنے ایک عزیز کی زیادتی کا تذکرہ کیا تو آپ نے فرمایا کہ اُسے معاف کردو اس لیے اگر اُس کے کانٹوں کے جواب میں تُونے بھی کانٹے ہی رکھے تو اللہ کی یہ زمین کانٹوں سے بھر جائے گی ۔ پھر آپ یہ بھی فرماتے ہیں کہ غصّہ پی جانا بھی ایک احسن قدم ہے مگر معاف کردینا ان سب سے عمدہ اور مستحسن ہے کہ غصّہ روک لینے میں بعض اوقات بے بسی اور مجبوری کا عنصر ہوتا ہے،جو دل میں کدورت کو جنم دیتا اور بدلہ کے لیے کسی موقع کی تلاش میں رہتا ہے ، جبکہ معاف کردینے کا عمل انسان کو آسودگی اور راحت عطا کرتا ہے ۔ حضرت بابا فریدؒ نے سوسائٹی کو عجزو انکسار اور اخلاق کا درس دیا۔ فریدا خاک نہ نندیئے خاکوں جیڈنہ کوئے جیوندیاں پیراں تھلے مویاں اُپر ہوئے آپ فرماتے ہیں انسان کو حرص و ہوس سے اجتناب کرتے ہوئے صبرو استقامت ہی کو اپنی دولت اور قوت بنانا چاہیے۔ رُکھی سُکھی کھائیکے ٹھنڈا پانی پی فریدا ویکھ پرائی چوپڑی نہ ترسائیں جی سحر خیزی ، عبادت و ریاضیت اور نماز کی پابند ی کی تلقین کرتے ہیں ۔ اُٹھ فریدا وضوساز صبح نماز گذار جو سَر سائیں نہ نیویں سو سرکپ اُتار اُستاد کبیر حضرت ڈاکٹر ظہور احمد اظہر کا شہرہ اگرچہ عربی زبان و ادب کی بلند ہستی اور جلیل القدر ماہر کے طور پر ہے کہ عرب دنیا کے شیوخ اور اساتذہ کو بھی ان کے سامنے سرِ تسلیم خَم کرتے دیکھا ہے ، مگر انہوں نے حضرت بابا فرید الدین مسعود گنج شکر کے پنجابی کلام کو جس طرح ایڈٹ کر کے ترتیب دیا اور مختلف زبانوں میں اس کے ترجمے اور تشریح کا اہتمام کیا ہے وہ از حد منفرد اور معتبر ہے ، جس پر اُن کی خدمت میں ہدیۂ تبریک وتحسین کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ۔ محکمہ اوقاف کی علمی و تحقیقی کارگزاری بھی لائقِ صد مبارکباد ہے ، کہ ان کے زیر انتظام، اس عظیم اور وقیع نسخہ کی تیسری اشاعت معرض ِ عمل میں ہے ۔

بشکریہ روزنامہ آج