آج سے پچاس سال پہلے دس اپریل 1973ء کو قومی اسمبلی نے ملک کا موجودہ آئین مکمل اتفاق رائے سے منظور کیا تھا جو یقینا پاکستان کے پہلے منتخب وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کا اہم ترین کارنامہ ہے جسے انہوں نے اس وقت کے اپوزیشن رہنماؤں کے تعاون سے انجام دیا۔ اس موقع پر وزیر خارجہ اور چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو نے اپنے نانا کے اس کارنامے کو بجاطور پر اہل پاکستان کا قومی لائحہ عمل اور وفاق کی زنجیر قرار دیا ہے ۔ آج سے نصف صدی پہلے سانحہ سقوط مشرقی پاکستان کے باعث بقیہ پاکستان میں یہ احساس شدت سے ابھرا کہ حقیقی معنوں میں قومی امنگوں کی ترجمانی کرنے والے آئین کی عدم موجودگی ہی ملک کے دو لخت ہونے کا سبب بنی ہے۔ قیام پاکستان کے نو سال بعد نافذ ہونے والا1956ء کا متفقہ دستور اگر ایک فوجی آمر کے ہاتھوں منسوخ نہ ہوا ہوتا تو پاکستان ٹوٹ پھوٹ کا شکار نہ ہوتا۔یہ احساس ایک ایسے آئین کی تیاری کا سبب بنا جو بلاول بھٹو کے بقول قومی تقاضوں کے عین مطابق ہے کیونکہ’’ پاکستان ایک وفاقی ریاست ہے تو ہمارا آئین ایک وفاقی آئین ہے، ہمارا ملک ایک اسلامی ملک ہے تو آئین کی روح اسلامی تعلیمات ہیں، ہم جمہوریت پسندہیں تو ہمارا آئین جمہوری ہے‘‘ تاہم یہ بھی سچ ہے کہ آئین کو اس کی حقیقی روح کے مطابق اب تک نافذ نہیں کیا گیا لہٰذا ملک کے مختلف حصوں میں احساس محرومی آج بھی شدت سے پایا جاتا ہے، لاپتا افراد کے مسئلے کی شکل میں بنیادی حقوق کی کھلی خلاف ورزی آج بھی جاری ہے، قومی زبان آج بھی نفاذ کی منتظر ہے، اظہار رائے پر آج بھی پابندیاں ہیں، منصفانہ اور شفاف انتخابات اب تک خواب ہیں۔وقت کا تقاضا ہے کہ روشن مستقبل کی خاطر آج یہ عزم کیا جائے کہ آئین کو ہر شعبہ زندگی میں اس کی حقیقی روح کے مطابق نافذ کیا جائے گا اور مقتدر حلقے اسے اپنی خواہشات کے مطابق توڑنے مروڑنے کے بجائے خود کو آئین کے مطابق ڈھالیں گے۔ ادارتی نوٹ
آئین پاکستان:وفاق کی زنجیر