اندھیری صبح تھی۔ مسجد کے دروازے پر ایک کپڑے میں لپٹا نوزائیدہ بچہ رکھا تھا۔ سردی کی شدت سے اس کے ہونٹ نیلے ہو رہے تھے، اور کمزور سانسوں کی لرزش سے ایسا لگتا تھا کہ وہ زندگی اور موت کی سرحد پر کھڑا ہے۔ نمازیوں نے آہستہ آہستہ اسے گھیر لیا، کوئی کہہ رہا تھا، "یہ ناجائز بچہ ہے، اسے پھینک دو!" تو کوئی اسے گناہ کی نشانی قرار دے رہا تھا۔ امام مسجد نے غصے سے کہا، "ایسے بچوں کو زندہ رہنے کا حق نہیں!" لیکن پھر ایک نحیف، درویش صفت شخص ہجوم میں سے آگے بڑھا۔ اس کی آنکھوں میں بے بسی نہیں، شفقت تھی۔ وہ جھکا، بچے کو نرمی سے اپنی بانہوں میں اٹھایا اور بولے: "یہ بچہ گناہ کی نشانی نہیں، یہ ہماری بے حسی کی نشانی ہے۔ اگر تمہیں یہ نہیں چاہیے، تو مجھے دے دو۔ میں اسے پالوں گا!" یہ عبد الستار ایدھی تھے، اور وہ لمحہ ایک نئے سفر کا آغاز تھا۔ "یہ بچے میرے اپنے ہیں!" اس ایک فیصلے کے بعد ایدھی صاحب نے مسجدوں، بازاروں اور گلیوں میں پھینکے گئے معصوم بچوں کو بچانے کا بیڑا اٹھایا۔ یوں، کراچی کی گلیوں میں ایک جھولا لگا دیا گیا، جس پر لکھا تھا: "بچے کو قتل نہ کریں، اسے اس جھولے میں رکھ دیں۔" یہ الفاظ نہیں، ایک انقلاب تھا۔ وہ بچے جنہیں معاشرہ دھتکار دیتا تھا، وہ ایدھی کے بچے بن گئے۔ وہ جنہیں اپنے ہی ماں باپ چھوڑ جاتے تھے، وہ ایدھی کے خاندان کا حصہ بن گئے۔ کوئی ان سے پوچھتا، "آپ ان بچوں کو کیوں پالتے ہیں؟" تو وہ مسکرا کر کہتے، "اگر ماں باپ انہیں چھوڑ سکتے ہیں، تو میں کیوں نہیں اپنا سکتا؟" ایدھی صاحب کے پاس نہ بڑی جاگیریں تھیں، نہ محلات۔ ایک جوڑا کپڑوں کا، ایک ٹوپی، اور ایک سادہ سی ایمبولینس—بس یہی ان کی کل دولت تھی۔ لیکن اس سادگی کے پیچھے ایک ایسا دل تھا، جس میں پورے ملک کے لاوارث بچوں کے لیے جگہ تھی۔ ایک بار کسی نے ایدھی صاحب سے پوچھا، "آپ سب کچھ چھوڑ کر آرام سے کیوں نہیں بیٹھتے؟" وہ مسکرائے اور بولے، "بیٹا، جب تک کوئی یتیم بچہ سڑک پر بھوکا بیٹھا ہے، میں کیسے چین سے سو سکتا ہوں؟" "ایدھی صاحب، آپ کا سب سے مشکل لمحہ کون سا تھا؟" یہ سوال ایک رپورٹر نے کیا تھا۔ ایدھی صاحب کی آنکھیں نم ہوگئیں۔ وہ بولے، "جب ایک ماں میرے جھولے میں بچہ رکھنے آئی، مگر آخری لمحے میں رک گئی۔ وہ تڑپ رہی تھی، چاہتی تھی کہ بچہ چھوڑ دے، مگر ممتا آڑے آ رہی تھی۔ آخر کار وہ روتے ہوئے بچہ جھولے میں رکھ کر بھاگ گئی۔ میں نے بچے کو اٹھایا، اور جب میں نے پیچھے دیکھا، تو وہ ماں گلی کے نکڑ پر کھڑی چپکے چپکے دیکھ رہی تھی۔ میں اس کی بے بسی نہیں بھول سکتا!" یہ ایدھی تھے۔ وہ جنہیں کوئی فرق نہیں پڑتا تھا کہ بچہ کس ذات، کس مذہب، یا کس خاندان سے آیا ہے۔ وہ بس جانتے تھے کہ بچہ معصوم ہوتا ہے، اور اس کی زندگی بچانی ضروری ہے۔ ایدھی آج بھی زندہ ہیں! وہ چلے گئے، لیکن ہر وہ بچہ جو آج ایدھی فاؤنڈیشن کے سائے میں پل رہا ہے، وہ ان کی محبت کا ثبوت ہے۔ ہر وہ ایمبولینس جو زخمیوں کو ہسپتال لے جا رہی ہے، وہ ایدھی کی سوچ کا تسلسل ہے۔ اگر ہم واقعی ایدھی کو خراجِ تحسین پیش کرنا چاہتے ہیں، تو سوال یہ نہیں کہ ہم ان کی تعریف کتنی بار کرتے ہیں—بلکہ سوال یہ ہے کہ ہم نے ان کے مشن کو کتنا آگے بڑھایا؟ ایدھی صاحب کہا کرتے تھے: "انسانیت سب سے بڑا مذہب ہے۔" سوال یہ ہے، کیا ہم نے ان کی اس بات کو سمجھا؟
ایدھی: ایک جھولا، ایک دنیا