ڈیر پروفیسر فرائیڈ!
بین الاقوامی ادارے لیگ آف نیشنز نے جب مجھے مشورہ دیا کہ میں ایک ایسے دانشور کو دعوت دوں جو انسانیت کو درپیش جنگ جیسے سنجیدہ مسئلے پر اپنے خیالات کا اظہار کرے تو میں نے آپ کے بارے میں سوچا۔
آپ اس حقیقت سے بخوبی واقف ہیں کہ جدید سائنس کی ترقی کے بعد جنگ کا مسئلہ مزید سنگین ہو گیا ہے کیونکہ اب یہ ساری انسانیت کے لیے زندگی اور موت کا مسئلہ بن چکا ہے۔ اس مسئلے کو حل کرنے لیے اب تک جتنے بھی اقدامات کیے گئے ہیں وہ سب ناکام رہے ہیں۔
میں نے خود بھی اس موضوع پر بہت غور کیا ہے لیکن میری سوچ سطحی ہے کیونکہ وہ انسانیت کے ان تاریک گوشوں تک نہیں جا سکتی جہاں تک آپ کی رسائی ہے۔
میں اپنے سطحی خیالات آپ سے شیر کرنا چاہتا ہوں تا کہ آپ اس گفتگو کو آگے بڑھا سکیں اور اپنی بصیرت بیان کر سکیں۔ مجھے پورا یقین ہے کہ آپ اپنے مشاہدے اور تجربے کی بنیاد پر ان رکاوٹوں سے واقف ہیں جو ایک پرامن زندگی کی راہ میں حائل ہیں۔ آپ ہمیں وہ مشورے بھی دے سکتے ہیں جو عوام و خواص کے لیے سود مند ثابت ہوں۔ خاص طور پر ان سیاسی رہنماؤں کے لیے جو عوام کے مستقبل اور ان کی زندگیوں میں جنگ اور امن کے اہم فیصلے کرتے ہیں۔
میری نگاہ میں مستقبل میں جنگ کو روکنے کا ایک راستہ ایک ایسے بین الاقوامی ادارے کا قیام ہے جو ساری دنیا کی اقوام کے سیاسی اور عسکری تضادات کا پرامن حل پیش کرے لیکن اس ادارے کی کامیابی کا راز اس بات پر منحصر ہے کہ تمام ممالک کے رہنما اس بین الاقوامی ادارے کے مشوروں پر عمل کرنے کا وعدہ کریں۔

میری نگاہ میں اس حل میں ایک دشواری ہے۔
چونکہ وہ بین الاقوامی ادارہ انسانوں کا بنایا ہوا ہو گا اور انسان ہی اس کے منصوبوں پر عمل کریں گے اس لیے وہ اس ادارے کے مشوروں پر عمل کرنے سے انکار کر سکتے ہیں۔ ہم سب جانتے ہیں کہ کوئی بھی قانون کتنا ہی منصفانہ کیوں نہ ہو اگر اس پر نیک نیتی سے عمل نہ کیا جائے تو اس کے مثبت نتائج نہیں نکل سکتے۔ وہ فیصلہ مثالیت پسند تو ہو سکتا ہے، حقیقت پسند نہیں۔
چونکہ بین الاقوامی اداروں کے پاس اتنی طاقت نہیں ہوتی کہ وہ بزور بازو قوموں کو جنگ سے روک سکیں اس لیے ان کے مشورے اور فیصلے ناکام رہتے ہیں۔
جنگ کو روکنے کے لیے ضروری ہے کہ ہر قوم غیر مشروط وعدہ کرے کہ وہ اپنی طاقت کا بے جا استعمال نہیں کرے گی تا کہ دنیا کی ساری اقوام مساوی طور پر محفوظ محسوس کر سکیں۔
پچھلی دہائی کی تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ دنیا کی طاقتور اقوام اور ان کے سیاسی و عسکری رہنما بین الاقوامی اداروں کے فیصلوں کا احترام نہیں کرتے۔ یہ حقیقت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ ان فیصلوں میں انسانی نفسیات ملوث ہے جو ان فیصلوں کر مفلوج کر دیتی ہے۔
ہم جس دنیا میں زندہ ہیں اس میں مختلف قوموں کے حکام حد سے زیادہ طاقت اور جارحیت کے استعمال کے عادی ہو چکے ہیں۔ وہ اپنے ذاتی اور قومی مفاد کے لیے انسانی جانیں قربان کرنے کے لیے تیار رہتے ہیں۔
بہت سے حکام اسلحہ بیچ کر دولت جمع کرتے ہیں اور جنگیں لڑ کر اپنے ذاتی اور سیاسی مقاصد پورے کرتے ہیں۔ اس طرح وہ اپنا سیاسی اثر و رسوخ بڑھاتے ہیں۔ ان کا کشور کشائی کا خواب انسانی جانیں ضائع کر کے ہی شرمندہ تعبیر ہوتا ہے۔
انسانی نفسیات کے رازوں کو جاننا جنگ کے مسئلے کو حل کرنے کی منزل کی طرف پہلا قدم ہو سکتا ہے۔
میرے ذہن میں دوسرا سوال یہ ہے کہ ایک سیاسی اقلیت عوام کی اکثریت کو کیسے قائل کر لیتی ہے کہ وہ ان کے مقاصد کے لیے اپنی جانیں قربان کر دیتی ہے۔ عوام کی اس اکثریت میں سپاہی بھی شامل ہیں جو یہ سمجھتے ہیں کہ وہ کسی اعلیٰ مقصد اور آدرش کے لیے اپنی جان کی قربانی دے رہے ہیں۔
یہ قربانی اسی وجہ سے ممکن ہے کہ عسکری و سیاسی اقلیت سکول کی تعلیم ’صحافت کے فن اور مذہب کی تبلیغ سے اپنے پیغام کو مقبول بنا لیتی ہے۔ ان وسیلوں سے اقلیت اکثریت کے خیالات اور جذبات کو متاثر کرتی ہے اور انہیں قائل کر لیتی ہے۔
حاکموں اور جابروں کے خیالات کی وجہ سے انسان دوسرے انسانوں سے لڑتے رہتے ہیں اور ایک دوسرے کا خون بہاتے رہتے ہیں۔ انسان اپنی تمام تر کوششوں اور کاوشوں کے باوجود اب تک جنگوں کو نہیں روک سکے۔
میری خواہش ہے کہ آپ عالمی امن کے بارے میں اپنے خیالات کا اظہار کریں اور ہمیں انسانی نفسیات کے وہ راز بتائیں جو جنگ کو روکنے کے لیے ہماری رہنمائی کر سکیں۔
مجھے پوری امید ہے کہ آپ کے خیالات سے ساری انسانیت استفادہ کرے گی۔