اردو ناول کو ڈیڑھ سو سال مکمل ہوگئے اور اس عرصے میں بہت سے ناول نگار آئے جنہوں نے اپنے قلم کے ذریعے مختلف ٹیکنیک اور اندازِ بیان کا استعمال کرتے ہوئے معاشرے کی خامیوں اور خوبیوں کی طرف نظر ثانی کراٸ ، ناول ادب کی ایک اہم صنف ہےاور دیکھنے پر معلوم ہوتا ہے کہ ناول بحیثیت ایک ادبی صنف کے عہد سرمایہ داری کی پیداوار ہے اس وقت جب فرد اور سماج کی کشمکش بڑھی جاگیردار طبقے کے متعلق شکوک وشہبات محسوس کیے جانے لگے اور انسانی مسائل کو مختلف پہلوؤں سے پرکھنےکی ضرورت ہوٸ تو ناول کو سہارا بنا لیا گیا۔ ناول ایک پیچیدہ سماج کا مظہر ہے ناول نے اٹھارویں صدی میں ڈرامے اور شاعری جیسی اصناف ادب کو مات دے کر ادبی صنف کا روپ دھار لیا اور مختلف قسم کی اشکال میں ڈھل کر ہمارے سامنے آتا گیا اگر ہم دیکھیں کہ سنجیدہ، فلسفیانہ، مفکرانہ اور گہرے خیالات کا اظہار کرنے کے لیے لوگوں نے اس صنف ادب یعنی ناول کو وسیلہ بنایا اور اس طرح یہ صنف ادب ترقی کی راہ پر گامزن ہوتی چلی گئی۔ بلاشبہ ناول کی ابتدا مغربی اثرات کے مرہون منت اور یورپی ناول کے ذریعے ہوئی لیکن اس کے بعد برصغیر میں یہ صنف پروان چڑھتی گٸ اور ایک سے بڑھ کر ایک ناول نگار آتا گیا اور کامیابیاں سمیٹتا چلا گیا جس میں ڈپٹی نذیر احمد، پریم چند، عبدالحلیم شرر، ہادی رسوا، شوکت صدیقی، عزیزاحمد۔ عصمت چغتائی، جمیلہ ہاشمی، قراۃالعین حیدر، خدیجہ مستور، سجاد حیدر یلدرم ،ممتازمفتی، انتظار حسین، مستنصرحسین تارڑ، انور سجاد ، سجاد ظہیر، راشد الخیری ، عبداللہ حسین غیرہ کچھ ایسے نام ہیں جن کے کام کو کبھی فراموش نہیں کیا جاسکتا انہو نے حقیقت پر مبنی ناول نگاری کی اور جیسا کہ آگ کا دریا ،گٶدان، خدا کی بستی، اداس نسلین، لندن کی ایک رات ، آگے سمندر ہے، شام اودھ، آنگن زمین ،ضدی ، ٹیڑھی لکیر ، ایسی پستی ایسی بلندی ، راکھ ، آخر شب کے ہمسفر، خوشیوں کا باغ ، کئی چاند تھے سر آسماں امراٶ جان ادا ، وغیرہ ایسے اور بھی بہت سے ناول لکھے گئے جن میں عام انسانوں کے مسائل کو دکھایا گیا عام انسانوں کے احساسات و جزبات کو زبان دی گٸ جیسا کہ تاریخ، غریبوں پر استحصال، آزادی کے بعد غلامی کی زندگی ، جاگیردرانہ طبقے کا غریب طبقے پر استحصال، طوائفوں کے حالات زندگی، نوآبادیاتی نظام کی کشمکش ، وغیرہ کو موضوع بنا کر پیش کیا گیا جب اس میں عام انسان کے مساٸل کو بیان کر کے دکھایا گیا تو یہ صنف ادب میں کامیاب ہوتی چلی گٸ لیکن پھرجب بیسویں صدی کہ بعد اور اکیسویں صدی کے آغاز میں جب کوٸی اہم ناول منظر عام پر نہی آیا تو ادبی حلقوں میں پریشانی لاحق ہونے لگی اور چمہ گوٸیاں کی جانے لگی کہ شاید اب اردو ناول زوال کی طرف جانے لگا ہے تو پھر ایک فلسفہ کے استاد کی حیثیت رکھنے والے مرزا اطہر بیگ جو تیس سال سے فلسفے کی تعلیم سے منسلک ہیں ۔اطہر بیگ اور شمس الرحمن فاروقی نے ادبی حلقوں میں پیدا ہونے والے خدشات کا خاتمہ کیااور بتایا کہ ناول ابھی حیات ہےمرزا اطہربیگ جن کا پہلا ناول” غلام باغ“ اور شمس الرحمن فاروقی ”کٸ چاند تھے سر آسماں“ جیسے شاہکار ناول لے کر میدان ادب میں وارد ہوۓ اور اس طرح ناول کو ایک نٸ روح بخشی، دونوں ناولز تاریخی لحاظ سے بہت اہم ہیں” کٸ چاند تھے سر آسماں“ میں ہندوستان کی مٹتی ہوٸ تہزیب کو دکھایا گیا ہے اور ”غلام باغ “ میں اس مٹتی ہوٸ تہزیب کے بعد کے اثرات اور پھر آج کی زندگی کا عکس دکھایا گیا ہے جس میں انسان آزاد ہوتے ہوۓ بھی غلامی کی زندگی بسر کر رہا ہے ۔۔مرزااطہر بیگ کا ناول ”غلام باغ“ 2006 میں شاٸع ہوا 878 صفحات پر پھیلا ہوا ایک ضخیم ناول ہے ضخامت کے باوجود بھی اس ناول کو بہت سراہا گیا اور مقبولیت کا اندازہ یہاں سے لگاتے ہیں کہ ایک سال میں اسکی دو باراشاعت ہوٸ اور اب تک پانچ بار چھپ چکا ہےایک بار ہندوستان میں شاٸع ہوا اس ناول کا عنوان اور انتساب پڑھنے کے بعد اس ناول کے متعلق کافی آگاہی مل جاتی ہے جیسا کہ عنوان ہے غلام باغ یہ استعارہ ہے ایک ایسے ملک کا جو آزاد ہونے کے بعد بھی غلامی کی زنجیروں میں جکڑا ہوا ہے کن مشکلات سے گزر رہا ہے اور اسکا انجام کیا ہوگا کافی حد تک یہ ملک پاکستان ہے۔”غلام باغ“ میں غلام علامت ہے اسیری کے غلبے کی اور باغ علامت ہے زندگی کی یعنی ایک ایسی زندگی جو آزادی کے باوجود بھی غلامی میں جکڑی ہوٸ ہے اور ناول کا ”انتساب“ ہے ارزل نسلوں کے نام ، یعنی وہ نسلیں جنہیں زندگی جینے اور اپنا آپ ثابت کرنے کیلیے معاشرے میں ہر طرح کے نسلی امتیاز کا سامنا رہتا ہے اور ساری زندگی عزت دار بننے اور حلال روزی کمانے کی کوشش کرتے کرتے بل آخر طاقتور لوگوں کے غلبے سے ہار جاتی ہیں”غلام باغ“ ناول میں ایک مین کیفے ٹیریۓ کا نام ہے جہاں کبیر مہدی کی ملاقات ڈاکٹر ناصر سے ہوتی ہے اور جہاں سے کہانی کا آغاز ہوتا ہے غلام باغ کی خاص بات کہ جہاں یہ سنجیدہ قارٸین کو زبان کی چاشنی مہیا کرتا ہے وہی فکشن کے دلداہوں کو ایسی کہانی دیتا ہے جسے وہ پڑھے بنا چھوڑ نہی سکتے آج کے دور کے حالات،واقعات، مساٸل ، اور صورتحال کی منظرکشی کرتے ہوۓ ناول ڈھونڈنے سے ہی نہی ملتے اور یہ نۓ دور کا ناول ہے اس کے کردار موجودہ زمانے سے اٹھاۓ گۓ ہیں چار اہم مرکزی کردار ہیں اس ناول کے کبیر مہدی جو کہ ایک باغی کردار ہے فکشن نگار ہے خود کو فکشن کا خدا سمجھتا ہے ڈاکٹر ناصر کا کردار ،
ہاف مین ایک انگریز کردار اور نسوانی باغی کردار زہرہ کا ہے جو کہ ان تینو ں کردارو کے ساتھ مکالمے ہیں اسکے اور وہ مساوی سلوک کی روادار ہے اور اپنا حق لینا جانتی ہے لیکن کہیں نہ کہیں یہ بہی بے بس دکھاٸ دیتی ہے ۔۔ناول کے پلاٹ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ جتنا تاریخی ہو گا اتنا کمیاب ہو گا لیکن اس ناول کے پلاٹ میں منتقی ترتیب نہیں ملتی اس میں ماضی۔حال اور مستقبل کے گرد کردار گھومتے ہیں اور ناول اتار چڑھاٶ کی صورت میں آگے بڑھتا ہےاس میں کردارو اور واقعات کی کوٸ ترتیب نہیں ملتی کردار آگے جاتے ہیں ختم ہوتے ہیں اور پھر پیچھے آتے ہیں اور پھر آگے بڑھتے ہیں ناول کا اسلوب موضوع کے لحاظ سے موزوں ہے لیکن کہیں نہ کہیں عام قاری کیلیے کچھ مشکل ہو جاۓ گا کیوں نکہ ناول نگار فلسفے کااستاد ہے تو اسنے فلسفیانہ سوچ اور فلسفیانہ لفظوں کا استعمال کر کے زبان کو مشکل کر دیاہو گا اس ناول کا دیپاچہ عبداللہ حسین نے لکھا ہے اور وہ کہتے ہیں ہیں ”جس تکنیک کا استعمال اطہر نے کیا ہے یہ اردو میں ناپید ہے اور اردو کی روایت سے قطعی ہٹ کر ہے بلکہ انگریزی ناول میں بھی نہیں ملتی اس کے ڈانڈے یورپی ناول خاص طور پر فرانسی پوسٹ ماڈرن ناول سے ملتے ہیں “۔۔۔