621

فضائلِ رَمَضَان اور اس کا احترام

ماہِ رمضان المبارک رحمتوں اور برکتوں والا مہینہ ہے اس میں اللّٰہ عزوجل کی رحمتوں کی چَھما چَھم بارشیں برستی ہیں خداۓ رحمٰن عزوجل کا کروڑ ہا کروڑ احسان کے اس نے ہمیں ماہِ رمضان جیسی عظیم الشان نعمت سے سرفراز فرمایا اس مہینے میں اجر ثواب بہت بڑھ جاتا ہے نفل کا ثواب فرض کے برابر اور فرض کا ثواب ستّر گنّا کر دیا جاتا ہے بلکہ اس مہینے میں روزےدار کا سونا بھی عبادت میں شمارکیا جاتا ہے عرش اُٹھانے والے فِرِشتے روزہ داروں کے لیے دعاء پر آمین کہتے ہیں 
ایک اور حدیث پاک کے مطابق
"رَمَضَان کے روزہ داروں کیلیے دریا کی مچھلیاں افطار تک دعاۓ مغفرت کرتی رہتی ہیں"
 (الترغیب والترھیب ج 2ص 55حدیث 6)

ماہِ رمضان المبارک کے کیا کہنے اس کی تو ہر گھڑی رحمت بھری ہے اس ماہ مبارک میں اللّٰہ عزوجل نے قرآن پاک نازل فرمایا اس مہنے کی ہر  دن اور ہر  رات عِبادت ہوتی ہے روزہ عبادت ،افطار عِبادت ،افطار کے بعد تَراویح کا انتظار عِبادت ،تَراویح پڑھ کر سَحری کے انتظار میں سونا عِبادت،پھر سَحَری کھانا بھی عبادت الغرض ہر آن میں خدا عزوجل کی شان نظر آتی ہے بہت سی احادیث مبارکہ رَمَضَان کے شان وتعظیم کے حوالے سے ملتی ہیں جن کو سن کر ایمان تازہ ہوجاتا ہے  آئیے چند احادیث شانِ رَمَضَان کے حوالے سے ملاحظہ فرمائیں
حضرت سیدنا ابوہریرہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے 
 آپ صل اللّٰہ علیہ والہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں" پانچوں نَمازیں،اور جمعہ اگلے جمعہ تک اور ماہِ رمضان اگلے ماہِ رمضان تک گناہوں کا کفارہ ہیں جب تک کہ کبیرہ گناہوں سے بچا جاۓ"
سبحان اللّٰہ عزوجل ماہِ رمَضَان مبارک میں گناہ صغیرہ کے کفارہ کا سامان ہو جاتا ہےالبتہ گناہ کبیرہ توبہ سے معاف ہوتیں ہیں اور توبہ کا طریقہ یہ ہے کہ جو گناہ ہوا خاص اس گناہ کا ذکر کر کے دل کی بیزاری اور آئندہ اُس سے بچنے کا عہد کر کے توبہ کریں.
مزید رمضان کی فضیلت کے حوالے سے آتا ہے 
ہمارے پیارے آقا کریم صل اللّٰہ علیہ والہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں "اگر بندوں کو معلوم ہوتا کہ رَمَضَان کیا ہے تو میری اُمّت تمناکرتی کہ کاش!پورا سال رَمَضَان ہی ہو."
(صحیح ابن خزیمہ ج 3ص190حدیث 1886)

سبحان اللّٰہ کتنی عظیم الشان یہ ماہِ مبارک ہے جس کا ہر لمحہ گنہگاروں کے لیے  شفاعت اور مغفرت کا سامان ہے گناہ گاروں  کے مغفرت کے بارے میں احادیث مبارک میں ایک اور جگہ آتا ہے پڑھیۓ اور جھومیۓ
حضرت سیدنا عبداللّٰہ ابنِ عباس رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہےکہ آپ صل اللّٰہ علیہ والہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں"اللّٰہ عزوجل ماہِ رَمَضَان میں روزانہ افطار کے وقت دس (10)لاکھ ایسے گنہگاروں کو جہنم سے آزاد فرماتا ہے جن پر گناہوں کی وجہ سے جہنم واجب ہوچکا تھا ،نیز شبِ جمعہ اور روزِ جُمعہ (یعنی جمعرات کو غروبِ آفتاب سے لے کر جُمعہ کو غروب ِ آفتاب تک)کی ہر ہر گھڑی میں ایسے دس(10) دس(10) لاکھ گنہگاروں کو جہنم سے آزاد کیا جاتا ہے جو عذاب کے حقدار قرار دیئے جاچکے ہوتے ہیں."
(کنزالعمال ج 8 ص 223 حدیث 23716)

اللّٰہ عزوجل کا کروڑ ہا کروڑ احسان کے ہمیں مُسلمان پیدا کیا اور مسلمانوں میں شامل کر کے ایسی عنایتوں کا حقدار بنایا اب یہ نعمتیں اس مُسلمان کےلیے ہیں جو ماہِ رَمَضَان کا قدر کرے اس میں نیک اعمال کرے ہمیں ماہِ رَمَضَان کی شان کی تعظیم کی توفیق عطا فرماۓ اس کی برکتیں لوٹنے کی توفیق عطا فرماۓ یہی ماہِ رَمَضَان شفاعت کا سامان بھی بن سکتی ہے آیے اس حوالے سے ایک حدیث ملاحظہ فرماۓ کہ رَمَضَان کا احترام کرنے والے پر اللّٰہ عزوجل کتنا کرم کرتا ہے اور کس درجہ مہربان ہوتا ہے
 چنانچہ بُخارا میں ایک مجوسی (آتش پَرست) رہتا تھا ایک مرتبہ رَمَضَان شریف میں وہ اپنے بیٹے کے ساتھ مسلمانوں کے بازار سے گزررہا تھا اس کے بیٹے نے کوئی چیز علانیہ طور پر کھانی شروع کر دی مجوسی نے جب یہ دیکھا تو اپنے بیٹے  کو ایک طمانچہ رسید کر دیا اور خوب ڈانٹ کر کہا،تجھے رَمَضَان المبارک کے مہینہ میں مسلمانوں کے بازار میں کھاتے ہوۓ شرم نہیں آتی ؟
لڑکے نے جواب دیا ابّا جان!آپ بھی تو رَمَضان شریف میں کھاتے ہیں والد نے کہا ،میں مسلمانوں کے سامنے نہیں اپنے گھر کے اندر چُھپ کر کھاتا ہوں،اس ماہِ مبارک کی بے حرمتی نہیں کرتا.کچھ عرصہ بعد اس شَخص کا انتقال ہوگیا کسی نے خواب میں اُس کو جنّت میں ٹہلتے ہوۓ دیکھا تو حیرت سے پوچھا ،تُو تومجوسی تھا ،جنّت میں کیسے آگیا؟ کہنے لگا ،"واقعی میں مَجوسی تھا ،لیکن جب موت کا وقت قریب آیا تو اللّٰہ تعالیٰ عزوجل نے احترامِ رَمَضَان کی برکت سے مجھے ایمان کی دولت سے اور مرنے کے بعد جنّت سے سر فراز فرمایا."(نزھتہ المجالس ج 1 ص217)

دیکھا آپ نے رَمَضَان المبارک کا احترام و اکرام کرنے کے سبب اللّٰہ تعالیٰ نے ایک آتش پرست مجوسی کو نہ صرف ایمان کی دولت نصیب کی بلکہ اُس کو جنّت کی لازوال نعمتوں سے بھی مالا مال فرمادیا اس واقعہ سے خصوصاً اُن اسلامی بھائیوں کو درسِ عبرت حاصل کرنا چاہیئے جو مُسلمان ہونے کے باوجود رَمَضَان المبارک کا احترام نہیں کرتے اوّل تو خود روزہ نہیں رکھتے ،پھر چوری اور سینہ زوری یوں گلیوں کےکونوں اور دوکانوں پر کھڑے،سگریٹ کے کش لگاتے ،پان، گٹکہ چباتے ،حتٰی کہ بعض تو اتنے بیباک وبےمروّت کہ سرِ عام پانی پیتے ،بوتل پیتے بلکہ کھانا کھاتے بھی نہیں شرماتے.یاد رہے جس طرح رَمَضَان المبارک کی تعظیم کرنے والوں کیلیۓ اُخروی انعامات وکرامات کی بشارات ہیں وہاں اس مبارک مہینے کی ناقدری کرتے ہوۓ اس گناہ کرنے والوں کیلیۓ وعیدات بھی ہیں
پیارے بھائیوں غور کیجۓ کیا  ہمیں مرنا نہیں ؟کیا اس دُنیا میں اس طرح دند دناتے پھریں گے ؟یاد رکھۓ!ایک نہ ایک دن موت ضرور آنی ہے اللّٰہ تعالیٰ عزوجل ہمیں رَمَضَان المبارک کا احترام کرنے اور اپنی آخرت سنوارنے کی توفیق عطا فرماۓ  .اللّٰہ عزوجل اُن لوگوں کو ہدایت نصیب فرماۓ اور اِس بابرکت مہینے کی تعظیم کرنے کا ظرف عطا فرماۓ اور جس طرح رَمَضَان المبارک میں روزہ رکھنے اور اس کا احترام کرنے کا حق ہے اُس حق پر پورا اترنے کی توفیق عطا فرماۓ

بشکریہ اردو کالمز