641

لاک ڈاؤن،سفید پوش طبقہ اور ہماری ذمہ داریاں

شام کے وقت دروازے پر  دستک ہوتی ہے دروازہ کھولا جاتا ہے تو باہر چھوٹی سی
 بچی کھڑی  ہوتی ہے جب اس سے آنے کی وجہ پوچھی گئی تو وہ سہمی سی آواز میں کہنے لگی ہمارے گھر میں چاۓ بنائی جا رہی ہے مگر چاۓ کی پتی گھر میں موجود نہیں, والد کام پر گۓ ہیں جب کام سے لوٹیں گے تب ہمیں گھریلوں ضروریات کی چیزیں لے کر دینگے اور لاک ڈاؤن کی وجہ سے ان کی روز مرہ کی اُجرت کا بھی کوئی سبب نہیں بن رہا اور یہ بھی پتہ نہیں کہ اُنہیں کام لاک ڈاؤن کی وجہ سے مل پاۓ یا نہیں .
یہ سن کر دل خون کے آنسو رونے لگا کہ اس قدر حالات تنگ ہوچکے ہیں
جس طرح آپ جانتے ہیں کہ کورونا وائرس کی وجہ سےپورے ملک میں لاک ڈاؤن ہے وہ لوگ جو روزمرہ کی اُجرت پر مختلف دوکانوں ، کارخانوں اور ہوٹلوں پر کام کرتے تھے اب اُن کی اُجرت اِس لاک ڈاؤن کی وجہ سے نہیں مل پارہی ہے ان کے علاوہ وہ لوگ جو ہفتہ وار بازاروں میں اور مختلف مقامات پر ٹھیلے لگا کر اپنے گھر کے اخراجات برداشت کرتے تھے اب ان کا ذریعہ معاش اس لاک ڈاؤن کی وجہ سے فی الوقت بند ہے تو ایسے میں ان مستحق لوگوں کی کیسے امداد کی جاۓ 
جب مستحق لوگوں کی امداد کی بات ذہن میں آتی ہے تو اس کے ساتھ ساتھ اُن غریب اور مستحق لوگوں کی بات آتی ہے جو سفید پوش لوگ ہیں جن کی مالی حالات انتہائی پسماندہ اور مایوس کن ہیں لیکن وہ لوگ کسی پر یہ ظاہر ہونے نہیں دیتے اور ناہی لوگوں کی بھیڑ میں آکر اپنی غریبی کا اعلان کرتے ہیں اب ضرورت اس چیز کی ہے کہ کیسے اِن غریب اور مستحق خاندانوں کی امداد کی جاۓ اب چاہے وہ راشن کی صورت میں ہو یا مالی مدد ہو. 
جس طرح ہمارے ہاں راشن اور مالی مدد کی جاتی ہے کہ محلے میں کوئی گاڑی کسی صاحب استطاعت کی آجاتی ہے لوگوں کا ہجوم لگ جاتا ہے اس میں راشن تو تقسیم ہوجاتا ہے لیکن غیر منظم ہونے کی وجہ سے ان غریب اور مستحق سفید پوش لوگوں تک یہ امداد نہیں پہنچ پاتی .کیونکہ لوگوں کے ہجوم میں آکر  مانگنے سے انہیں شرمندگی کا سامنا کرنا پڑتا ہے وہ  چاہتے ہیں کہ ان کی  مدد پسِ پردہ کی جاۓ  لوگوں کے ہجوم میں آکر دینے سے یا لینے سے ان کی عزت نفس مجروح ہوتی ہے تو براۓ کرم  صاحب استطاعت اور مختلف فلاحی اداروں سے درخواست ہے کہ جب بھی اِن غریب اور مستحق لوگوں کی مدد کی جائے تو اسے پسِ پردہ رکھا جائے نہ کہ سَستی شہرت کا ذریعہ بنا کر ان کے عزت نفس کو مجروح کیا جاۓ ان کی تصاویر اخبارات میں بھی چھاپی نہ جائیں
 ہاں یہ کیا جا سکتا ہے کہ مختلف اسباب ان کے لیے بنائے جائیں تاکہ ان کی گھریلو ضروریات پوری ہوں  اور رات کے اندھیرے میں گھریلو ضروریات کی چیزیں ان تک پہنچائی جائیں تاکہ وہ دُوسرے لوگوں کی طرح آرام کی زندگی بسر کر پائیں. 
الحمداللّٰہ ہمارے معاشرے میں  بہت سے صاحب استطاعت  لوگ اور مختلف فلاحی ادارے ان غریب اور لا چار لوگوں کی راشن یا مالی صورت میں مدد کر رہیں ہیں اب یہاں پر  کیا صرف صاحبِ استطاعت لوگوں کی اور مختلف فلاحی اداروں کی ذمہ داری ہے اُن حضرات کی مدد کرنا ان کے ساتھ تعاون کرنا کیا میری ذمہ داری نہیں ؟ 
یاد رہے جب بھی انسان نے دُنیا میں کوئی بھی اچھا کام کرنے کا ارادہ کیا تو سب سے پہلے اس نے خود سے ابتدا  کی تو کیا میری ذمہ داری نہیں  کہ میں اپنےعزیز مستحق لوگوں، جس میں میرے رشتہ دار اور میرے پڑوسی شامل ہیں ان کی مدد کروں.  
کیوں نہ  یہ نیکی بھرا کام میں خود سے شروع کروں.بحثیت مُسلمان میری یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ اپنے مُسلمان بھائیوں کی اس مشکل وقت میں مدد کروں تو اللّٰہ تعالیٰ نے اگر آپ کو نوازا ہے تو آپ کم سے کم 10 خاندانوں کی ذمہ داری لیں اور انہیں ایک ماہ کا راشن لے کر دیں اگر 10 کو نہیں تو 5 اور اگر آپ کی اتنی استطاعت نہیں تو کم از کم ایک خاندان کی مدد ضرور کریں .
اور اگر آپ سے اتنا بھی نہ ہو تو ایک وقت کا کھانا کوشش کریں اپنے گھر سے بنا کر اُن لوگوں کے گھروں تک پہنچا دیں اور یہ کام اللّٰہ کی رضا کے لیے کریں نیکی کا عمل ہے نیک نیتی اور مخلصی سے کریں خالقِ کائنات آپ کے  مال میں مزید برکتیں عطا کرےگا تو اگر اس طرح ہم سب اپنی ذمہ داریاں سنبھالیں تو ایک وقت آۓ گا کہ آپ کے معاشرے میں،آپ کے شہر میں ،آپ کے صوبے میں اور پورے ملک پاکستان میں کوئی غریب اور مستحق خاندان بھوکا نہیں سوۓ گا.

بشکریہ اردو کالمز