شکاگو کے شہیدوں کے نام

یہ ذکر ہے 19 ویں صدی کے آغاز کا، جب ہم امریکا، انگلستان، فرانس، جرمنی سمیت پورے یورپ میں سرمایہ داری نظام قریب قریب دو سو برس مکمل کر چکا تھا۔

یہ ذکر ہے 19 ویں صدی کے آغاز کا، جب ہم امریکا، انگلستان، فرانس، جرمنی سمیت پورے یورپ میں سرمایہ داری نظام قریب قریب دو سو برس مکمل کر چکا تھا۔ یہ ضرور تھا کہ اب سرمایہ داری نظام کی خرابیاں بھی پوری طرح عیاں ہو چکی تھیں، سرمایہ داری نظام کا جبر و استحصال بھی جاری تھا، کیفیت یہ تھی کہ مزدوروں سے چودہ گھنٹے کام لیا جاتا اور انتہائی قلیل اجرت دی جاتی۔

یہ ضرور ہوا کہ جہاں جہاں سرمایہ داری نظام تھا وہاں وہاں یہ تحریک شروع ہو گئی کہ ہمارے کام کے گھنٹے کم کیے جائیں، تمام صنعتی ممالک کے مزدوروں کا یہی مطالبہ تھا۔ ایک جبر کی شکل یہ بھی تھی کہ مزدوروں کو طلوع آفتاب سے پہلے ہی کام پر لگا دیا جاتا اور انھیں ناشتہ کھانے کی بھی اجازت نہ تھی۔ عذر یہ پیش کیا جاتا کہ اگر مزدور ناشتہ کھا کر کام شروع کریں تو پھر مزدور سستی و کاہلی کا مظاہرہ کرتے ہیں اور ٹھیک سے کام نہیں کرتے۔ بہرکیف جس تحریک کا ہم ذکر کر رہے ہیں وہ 1820 کو نکتہ عروج پر تھی لیکن منزل مقصود ابھی بہت دور تھی اور 1850 تک یہ مزدور تحریک جاری رہی۔ مزدوروں نے یہ تحریک کامیابی کے یقین کے ساتھ جاری رکھی۔

 

 اگرچہ سرمایہ داری جبر بھی وقت گزرنے کے ساتھ بڑھتا جا رہا تھا۔ البتہ مزدور تحریک اس حد تک تو کامیاب رہی کہ انگلستان و فرانس کے مزدوروں کے کام کے گھنٹے کم کرکے دس کر دیے مگر امریکا و یورپ کے مزدور چودہ گھنٹے کام کرنے پر اب تک مجبور تھے، چنانچہ اب پھر سے گویا نئی صف بندی کی گئی اور امریکا و یورپ کے مزدوروں نے نئے عزم کے ساتھ یہ مزدور تحریک جاری رکھنے کا فیصلہ کیا، تمام تر جبر و استحصال کے باوجود یہ تحریک جاری رہی۔ البتہ اب روس کے مزدور بھی جوکہ زارشاہی و سرمایہ داری نظام کے جبر کا شکار تھے ،اس تحریک میں پوری طرح شریک ہو چکے تھے۔ 

 

19 ویں صدی کی مزدور تحریک کی جانب، تو دوسرے دور کی مزدور تحریک ایک طرح سے نسلوں کی تحریک تھی۔ اچھی بات یہ تھی کہ یہ تحریک 1880 کے زمانے میں داخل ہو گئی، اس زمانے میں اگر مزدور پوری طرح پرعزم تھے کہ اب سرمایہ کو ہمارے کام کے گھنٹے کم کرنا ہی ہوںگے تو دوسری جانب سرمایہ دار بھی ہر قسم کے تشدد روا رکھنے کے لیے تیار ہو چکا تھا، ان تمام حالات میں امریکا کے صنعتی شہر شکاگو میں محنت کشوں نے ایک بھرپور احتجاج و ہڑتال کا اعلان کر دیا تھا۔ یہ ذکر ہے یکم مئی 1886 کا۔ شکاگو شہر سے فیلے ویلفیا باٹلی مور لاس اینجلز مونٹ ریل، بوسٹن نیویارک کو ریلیں جاتی ہیں لیکن آج تمام ریل سروس معطل ہے۔

اسی شہر شکاگو میں درمیان میں ایک دریا مچیگن بھی بہتا ہے، اسی دریا میں بحری جہاز بھی سامان لے کر آتے اور دیگر شہروں کو جاتے ہیں، پھر ٹریکٹر تیار کرنے کا ایک بہت بڑا کارخانہ ہے، یہ کارخانہ مکورمک کی ملکیت ہے۔ مکورمک خاندان آج 21 ویں صدی میں بھی امریکا کے چند امیر ترین خاندانوں میں شمار ہوتا ہے۔ مگر یکم مئی 1886 تمام قسم کی کاروباری سرگرمیاں معطل ہیں تمام مزدور مارکیٹ کی جانب رواں دواں ہیں جہاں ایک بہت بڑے جلسہ عام کا اہتمام کیا گیا ہے۔ چنانچہ جب مزدور کے جلسے کا آغاز ہوتا ہے تو شہر کی تمام پولیس و ان کی معاونت کے لیے آنے والی فوج بھی مزدوروں پر اپنی بندوقوں کے دہانے کھول دیتے ہیں چونکہ مزدور اس ناگہانی آفت کے لیے تیار بھی نہ تھے مزدوروں کے وہاں سے فرار ہونے کے تمام راستے بند تھے۔

یوں بھی مزدور اپنے ہاتھوں سے لوہا تو پگھلا سکتا ہے دھرتی کا سینہ پھاڑ کے اناج پیدا کر سکتا ہے مگر مزدور سپاہی بھی ہوتا ہے کہ ہتھیار اٹھا کر دوبدو لڑائی لڑ سکے۔ چنانچہ سیکیورٹی والوں نے خوب قتل عام کیا، شام تک یہ کیفیت تھی کہ ہر جانب مزدوروں کی چیخ و پکار تھی، ہر گھر میں صف ماتم تھی، جاں بحق مزدوروں کی تعداد ہر کوئی بتانے سے قاصر تھا، بلکہ آج تک ان جاں بحق مزدوروں کی تعداد وثوق سے کوئی نہیں بتا سکتا۔ رات گزری 2 مئی 1886 کا سورج طلوع ہوا۔ آج پھر مزدوروں نے ایک احتجاجی جلسے کا اعلان کیا، آج گزشتہ یوم کے شہید مزدوروں کے لباس کو جو خون آلود تھے بہ طور پرچم لہرایا گیا جو پرچم کل تک سفید تھا آج سرخ تھا۔ آج ایک مزدور دوست اخبار نے لکھا تھا کہ’’ مزدورو! بہادری سے آگے بڑھو، لڑائی شروع ہو چکی ہے، مزدوروں کی بڑی تعداد بے روزگار، سرمایہ دار اپنے خونی پنجوں کو نظام اور قانون میں چھپائے ہوئے ہے۔‘‘

 

مزدورو! تمہارا یہ نعرہ ہونا چاہیے کہ کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا، یکم مئی کی اہمیت آنے والے زمانے میں سمجھی جائے گی، تمہارے حقوق طلب کرنے کا دن ہے سرمایہ دار بغیر لڑائی کے کام کے گھنٹے کم نہیں کرے گا۔ 2 مئی 1886 کو پھر ایک خونی کھیل کھیلا گیا بلکہ آج کا دن کل سے بھی ہولناک تھا۔ آج بھی زخمی و جاں بحق مزدوروں کی تعداد لاتعداد تھی۔ اس تمام ریاستی دہشت گردی کو ہے مارکیٹ بلوے کا نام دیا گیا، بہت سارے مزدور گرفتار ہوئے، چار کو پھانسی کی سزا دی گئی۔ مگر مزدوروں کی جدوجہد رکی نہیں بلکہ پوری دنیا میں پھیل گئی، بالخصوص روسی مزدوروں نے جدوجہد کی مثال قائم کی، انھوں نے اپنی پارٹی قائم کی اور دنیا بھر کے مزدوروں کو اپنے اپنے ملکوں میں مزدوروں کی پارٹیاں قائم کرنے کی ترغیب دی اور بالآخر روس میں مزدور اپنی ریاست 1917 میں قائم کرنے میں کامیاب ہو گئے۔ البتہ بعدازاں پورے یورپ میں سوشل انقلاب برپا ہو گیا، مگر آج بھی بہت سارے ممالک میں مزدور جبر کا شکار ہیں، چنانچہ شاعر مشرق علامہ اقبال نے فرمایا تھا کہ ؎

تو عادل ہے قادر مگر تیرے جہاں میں

ہیں تلخ بہت بندہ مزدور کے اوقات

کب ڈوبے گا سرمایہ داری کا سفینہ

دنیا تیری منتظر ہے روز مکافات

 

بشکریہ روزنامہ آج