68

ایران کی ناکہ بندی اور نیتوں کا فتور !

نیتیں خالص ہوں تو تنازع گھر کا ہو، محلے کا، ملک و قوم کا یا بین الاقوامی پلک جھپکتے حل ہو جاتا ہے۔ نیتوں میں فتور سادہ مسائل کو گھمبیر بنا دیتا ہے۔ پچھلے دو ہفتوں میں ایران امریکہ مذاکرات کی بیل کا کسی منڈھے نہ چڑھنا، نیتوں کا فتور ہے اور کچھ بھی نہیں۔ ایران کا دوٹوک اعلان کہ مذاکرات کرنے ہیں تو ناکہ بندی ختم کرنی ہو گی وگرنہ جنگ بندی میں توسیع کا کوئی فائدہ نہیں۔

بات حتمی، ایران کو مذاکرات کی میز پر لانا ہے تو ناکہ بندی ختم کرنا ہوگی۔ ایرانی پارلیمان کے اسپیکر باقر قالیباف کا واضح بیان کہ ’’ناکہ بندی اعلانِ جنگ ہے، ایران خاطر خواہ جواب دینے کی تیاری میں ہے‘‘۔ پاسدران انقلاب کے سپہ سالار کا برملا اظہار کہ ہماری بندرگاہیں بند رہیں تو خطے کی باقی تمام بندرگاہیں اور سمندری راستے بھی بند ہونگے۔ صدر ٹرمپ کی دوغلی سیاست نے تہران کیلئے کسی مربوط اور واضح مذاکراتی حکمتِ عملی کو ترتیب دینا ناممکن بنا رکھا ہے۔ واشنگٹن کے گرگٹ کے رنگوں کی مانند بدلتے موقف، متضاد پیغامات ، صبح کچھ اور شام کو کچھ اور ہوتے ہیں ۔ اسلام آباد ایک پیغام تہران تک پہنچا نہیں پاتا کہ چند گھنٹوں بعد ہی صدر ٹرمپ کا بیان اسکو غیر مؤثر یا غیر متعلق بنا دیتا ہے ۔ میری نپی تلی رائے کہ صدر ٹرمپ اپنی اندرونی سیاست بچانے کیلئے فتح کے کاغذوں پر ایران کے دستخط کا متمنی ہے اور اسکے بدلے یورینیم کی افزودگی سے لیکر آبنائے ہرمز ، سب کچھ ایران پر واری کرنے کو تیار ہے ۔

دوسری طرف ، ایران میں اندرون خانہ بحث یہ نہیں کہ مذاکرات کیلئے وفد اسلام آباد جائیگا یا نہیں ، وہاں بحث یہ ہےکہ صدر ٹرمپ اور نیتن یاہو کی چالبازی اور مکاری سے کیسے نبٹا جائے ۔ سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے حلقے امریکہ کی اس مکاری ، غیر مستقل مزاجی کو کسی قسم کا مارجن دینے سے انکاری ہیں ، ناکہ بندی بے مقصد نہیں ، امریکہ کا ٹارگٹ ایران میں معاشی بحران ، قحط ، خوف ، ڈر پیدا کرنااور ممکنہ طور پر داخلی اختلافات ، انتشار ، خلفشار پیدا کرنا ہے تاکہ عسکری دباؤ کی ممکنہ واپسی کیلئے فضا ہموار ہو سکے ۔ چنانچہ تہران میں سوال یہ نہیں رہا کہ مذکرات بارے غور وخوض ہو ، بلکہ یہ زیرِ بحث ہے کہ صدر ٹرمپ کا سوچا سمجھا میڈیا اور مذاکراتی حربہ اگر بڑی جنگ کا روپ دھار لے تو ایران نے آناً فاناً مقابلہ کیسے کرنا ہے۔ایرانی عسکری قیادت مذاکرات سے زیادہ اس نئی جنگی حکمت عملی کی ترتیب میں مگن اور مستغرق ہے ۔

خطہ کا امن پاکستان کی لائف لائن ہے اور پاکستان اپنے اس کردار کو مؤثر اور اہم ثابت کرنے کا موقع گنوانا نہیں چاہتا۔ چنانچہ پاکستانی فوج کے سربراہ نے تہران میں تین دن گزارے تو ایران کو ناکہ بندی کے باوجودسمجھانے،میانہ روی اختیار کرنے پر آمادہ کرنے اور مذاکرات میں شامل ہونے پر قائل کرنے کی بھرپور کوشش کی ۔ ایران سننے پر آمادہ نہیں کہ ’’دودھ کا جلا چھاچھ بھی پھونک پھونک کر پیتا ہے ‘‘۔ ایران کیلئے پاکستان کی مخلصانہ کوششوں سے زیادہ اہم امریکی مکاری اور دھوکہ دہی سے نبٹنا ہے ۔ ایران کے نزدیک ثالث پاکستان ہو،عمان یا کوئی اور، جب تک امریکہ کی ساکھ اور وعدوں کی پاسداری کا کوئی ضامن نہیں ملتا ، کوئی پیشرفت ممکن نہیں۔ یاد رکھیں 12 جون 2025 میں بارہ روزہ جنگ سے پہلے بھی ایران امریکہ کے ساتھ مذاکرات کر رہا تھا۔ پانچ ادوار پر مشتمل مذاکرات ہوئے، مگر بعد میں پتہ چلا کہ مذاکرات کے دوران امریکہ اور اسرائیل خفیہ طور پر ملکر ایران پر حملے کی منصوبہ بندی میں مصروف تھے ۔ یہ تو کرشمہ تھا اور ایران کی بہترین دفاعی حکمت عملی کہ اسرائیل کو منہ کی کھانی پڑی اور بارہ دن بعد ہی جنگ بندی کیلئے امریکہ سے رجوع کر لیا ۔ 25 جون کو ایران نے جنگ بندی کا نہیں کہا تھا ، اسرائیل نے امریکہ کو مجبور کیا کہ جنگ بندی کروائے ۔ 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل اپنی پوری طاقت کیساتھ میدان میں اترے ، 2 دن میں وینزویلا کی طرح ایران کو قبضے میں لینا تھا ۔ اس دفعہ بھی نظام دھوکہ دہی پرانی طرز کا ، بارہ روزہ جنگ کی طرح شد و مد سے مذاکرات جاری تھے ، عمان ثالث تھا ۔ 27 فروری ہی کو عمان کے وزیر خارجہ نے یہاں تک کہا کہ مذاکرات میں نمایاں پیش رفت ہو رہی ہے اور95فیصد معاملات طے ہو چکے ہیں ، اسکے باوجود امریکہ اور اسرائیل نے حملہ کر دیا ۔ لہٰذا اصل مسئلہ مذاکرات یا ثالثی کا نہیں، بلکہ صدر ٹرمپ اور نیتن یاہو کی ساکھ اور مکاری کا ہے ۔

10 دن پہلے اسلام آباد مذاکرات میں بھی ایران کی سنجیدگی دیدنی کہ 80 ماہرین کی ٹیم کیساتھ پہنچے ۔ دوسری طرف امریکی غیرسنجیدگی کہ امریکی وزارتِ خارجہ کو کانوں کان خبر نہیں کہ مذاکراتی ٹیم 3 افراد جے ڈی وینس ، اسٹیو وٹکاف ، جیرڈ کشنر پر مشتمل تھی ، تینوںکی تعلیمی و ذہنی قابلیت صفر پلس صفر پلس صفر برابر ایک بڑا صفر ہے ، غیرسنجیدگی کی بہترین مثال ہے ۔ مسئلہ یہ ہے کہ ایران کسی دھوکے باز شخص کیساتھ معاملہ کیسے کرے جو بنیادی کردار اور اخلاقی اصولوں سے عاری ہو ۔ اعتماد سازی کیسے ہو اور کون گارنٹی دے کہ اعتماد کا شدید بحران موجود ہے۔

ایران نے 28 فروری کو آبنائے ہرمز کو اپنے کنٹرول میں لیا اور عرصے سے سوچی سمجھی حکمت عملی کیساتھ پوری دنیا کو اس جنگ میں ملوث کر لیا ۔ تازہ ترین صورتحال کہ صدر ٹرمپ نے کل جنگ بندی میں غیرمعینہ مدت کیلئے توسیع تو کر دی ہے مگر ناکہ بندی برقرار رکھی ہے ۔ دوسری طرف ایران کا دو ٹوک اعلان کہ جب تک ناکہ بندی ہے ، ایران حالت جنگ میں ہے ۔ ایک دن پہلے ہی ایران نے جواباً دو جہاز اپنے قبضہ میں لے لئے ہیں ۔ خدشہ ہے کہ بات بڑھتے بڑھتے مواصلاتی کیبلز کو کاٹنے تک اور پھر بحیرہ احمر میں باب المندب یمنی حوثی اپنے کنٹرول میں لے کر سعودی تیل کی ترسیل میں رخنہ ڈالیں گے اور وہاں بھی انٹرنیٹ یا دوسری مواصلاتی کیبلز اُڑا دیں گے ۔ اگر بات یہاں تک پہنچی توپھر عالمی جنگ کا خطرہ بھی اور دنیا نہ صرف معاشی بحران کی زد میں ہو گی ، ہر طرح کے معاملات غرضیکہ زندگی کا ہر شعبہ ساکت و جامد ہو جائیگا ۔

اگرچہ صدر ٹرمپ نے ایران کو چند روز میں متفقہ تجاویز دینے کا عندیہ دے رکھا ہے،ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کسی طور خاطر میں نہیں لا رہے ، انکے نزدیک خلیج فارس اور آبنائے ہرمز میں کشیدگی کی ذمہ داری امریکہ اور اسرائیل پر ہے ۔ عالمی سطح پر بھی ٹرمپ کی پالیسیوں پر تنقید بڑھ رہی ہے، اور ان کی مقبولیت میں نمایاں کمی دیکھی جا رہی ہے، جبکہ خطے کے رہنما بھی اس بحران کے فوری اور پرامن حل پر زور دے رہے ہیں۔مذاکرات ایران کی پہلی ، دوسری یا تیسری ترجیح نہیں ہیں ۔ آج جبکہ آبنائے ہرمز اور باب المندب پر ایران کا مکمل کنٹرول ہے ، جو ایٹمی ہتھیار رکھنے سے زیادہ خطرناک ہے ۔ امریکہ اور اسرائیل آج تنہا جبکہ دنیا کے بیشتر ممالک اور تمام عوام ایران کیساتھ ہیں ۔ ایران نے پچھلے تین ہفتوں میں اگلی جنگ کی تیار کر لی ہے جبکہ امریکہ کسی طور لڑنا نہیں چاہتا ، اسرائیل اسے جھونکنا چاہتا ہے ۔ کیا بروز جمعہ ایرانی وفد اسلام آباد آئیگا ؟ ہاں ! اگر ناکہ بندی ختم ہو گئی ۔ بصورت دیگر نتیجہ بھیانک اور ہولناکیاں چار سُو ۔

بشکریہ جنگ نیوزکالم