86

سولر یعنی سورج کا لائسنس

یوں محسوس ہوتا ہے جیسے سورج نے اپنی کرنیں بھیجنےسے پہلے کسی خاموش سرکاری دفتر میں حاضری لگائی ہو۔گیٹ پر چوکیدار نے روک کر پوچھا ہو: کاغذات دکھائیں!اور سورج نے شرمندگی سے کہا ہو: جناب، میں تو صدیوں سے روزانہ آتا ہوں… مگر جواب آیا ہو: قانون سب کیلئے برابر ہے! پھر سورج نے فارم نمبر 786-دھوپ/الف بھر کر تین کاپیاں جمع کروائیں، ایک پر دستخط، دوسری پر انگوٹھا، اور تیسری پر محکمۂ شمسی وسائل کی مہر لگوا کر ہر کرن کو باقاعدہ فائل نمبر الاٹ کیا گیا ہو: شعاع نمبر 101۔ صرف رہائشی استعمال کیلئے، تجارتی دھوپ علیحدہ لائسنس کے تحت دستیاب ہے!

لگتا ہے اب سورج بھی سرکاری اثاثہ قرار پانے والا ہے۔محکمۂ شمسی وسائل کے زیرِ انتظام۔ صبح ہوتے ہی نوٹس آئے گا: آج کی دھوپ کا کوٹہ محدود ہے، براہِ کرم ضرورت کے مطابق شعاعیں استعمال کریں، اضافی روشنی پر سرچارج لاگو ہوگا۔ چھت پر لگے پینل بیچارے ایسے شرمندہ کھڑے ہوں گے جیسے انہوں نے چوری چھپے دھوپ ذخیرہ کر لی ہو، اور شام کو میٹر ریڈر دروازہ کھٹکھٹائے گا:جناب! آج آپ نے مقررہ حد سے زیادہ سورج جذب کیا ہے،اضافی کرنوں کی فیس جمع کرا دیں۔ رسید ساتھ لایا ہوں، کیش یا آن لائن؟ایک زمانہ تھا جب بندہ چھت پر سولر پینل لگاتا، سورج سے سیدھا معاہدہ کرتا اور خوشی سے کہتا: اب بل کم آئے گا! اب لگتا ہے کہ سولر لگوانا نہیں، کسی مقابلے کا امتحان پاس کرنا ہے۔ پہلے درخواست، پھر تصدیق، پھر تصدیق کی تصدیق، پھر فائل گم، پھر فائل مل، پھر کہا جائے: آپ کی درخواست زیرِ غور ہے، تب تک براہِ کرم سورج سے کم دوستی رکھیں!سولر کمپنی والا بھی اب سیدھا نہیں پوچھتا کہ کتنے پینل لگوانے ہیں؟ وہ پہلے سنجیدگی سے پوچھتا ہے: لائسنس ہے؟ این او سی ہے؟ این او سی کیلئے اپلائی کیا ہے؟ اپلائی کرنے کیلئے اپلائی کیا ہے؟ بندہ بیچارہ کہتا ہے: بھائی! میں تو بس پنکھا اور فریج چلانا چاہتا ہوں… جواب آتا ہے: پہلے سسٹم نہیں، سسٹم کا سسٹم سمجھیں!

اور یہ سب سن کر یوں لگتا ہے جیسے ہم دھوپ نہیں، کوئی قیمتی ہتھیار خرید رہے ہوں۔ فرق صرف اتنا ہے کہ بندوق میں گولیاں ہوتی ہیں اور سولر میں کرنیں۔مگر کاغذی کارروائی دونوں میں برابر! شاید کل کو یہ بھی شرط لگ جائے کہ آپ دھوپ صرف دن کے اوقات میں استعمال کر سکتے ہیں، رات کو چاندنی سے بجلی بنانے کی کوشش کی گئی تو قانونی کارروائی ہوگی!

تصور کیجیے ایک دن ایسا آئے جب حکومت اعلان کرے:محترم شہریو! آج بادلوں کی وجہ سے دھوپ کی سپلائی متاثر ہے، لہٰذا لوڈشیڈنگ شیڈول کے مطابق صرف مخصوص علاقوں کو سورج فراہم کیا جائے گا۔ باقی لوگ کل دوبارہ کوشش کریں!اور اگر کسی نے بادلوں کو بلا کر دھوپ کم کروانے کی کوشش کی تو فوراً نوٹس: یہ ایک غیر قانونی سرگرمی ہے کیونکہ اس سے حکومتی آمدنی متاثر ہوتی ہے!پھر ایک اور عجیب منظر سامنے آئے گا۔سرکاری ٹیمیں چھتوں پر چڑھ کر پینلز کی تلاشی لے رہی ہوں گی:یہاں اضافی دھوپ جمع کی گئی ہے! ضبط کر لو!اور پینلز پر کمبل ڈال دیا جائے گا تاکہ وہ غیر قانونی روشنی جذب نہ کر سکیں۔

اب بات یہاں تک آ پہنچی ہے کہ اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو کل کو ہوا بھی اپنی آزادی کھو بیٹھے گی۔ ہر سانس کے ساتھ ایک خاموش بل منسلک ہوگا: براہِ کرم تازہ ہوا استعمال کرنے کی فیس ادا کریں، زیادہ سانس لینے پر اضافی ٹیکس لاگو ہوگا۔ پارک میں چہل قدمی کرنے والے لوگ گہری سانس لینے سے پہلے ادھر اُدھر دیکھیں گے کہ کہیں کوئی انسپکٹر تو نہیں کھڑا۔ بچے پتنگ اڑاتے ہوئے ڈریں گے کہ زیادہ ہوا استعمال نہ ہو جائے۔کہیں پتنگ کے ساتھ جرمانہ بھی نہ آ جائے۔یوں لگے گا کہ فطرت کے سب سے سادہ تحفے بھی فائلوں میں بند ہو چکے ہیں۔دھوپ، ہوا، بارش۔سب کے الگ الگ محکمے، الگ الگ فیسیں، الگ الگ اجازت نامے۔ اور ہم بیچارے انسان، دھوپ میں بھی سایہ ڈھونڈتے پھریں گے تاکہ بل کم آئے۔

اصل مزاح تو تب بنتا ہے جب ایک طرف کہا جائے:سولر لگائیں، ملک کو خودکفیل بنائیں اور دوسری طرف ایسا نظام بنا دیا جائے کہ بندہ سوچے: بھائی میں بل ہی دے دیتا ہوں، یہ فائلوں کا جنگل کون کاٹے!

شاید مستقبل میں بچے اسکول میں یہ سوال پوچھیں:سر! سورج کیسے نکلتا ہے؟

استاد جواب دیں: بیٹا، پہلے سورج درخواست دیتا ہے، پھر افسر صاحب Approve کرتے ہیں، تب جا کر طلوع ہوتا ہے!اور اگر کبھی سورج نے ہڑتال کر دی تو خبر یوں ہوگی:سورج نے لائسنس کی تجدید نہ ہونے پر آج طلوع ہونے سے انکار کر دیا، شہریوں سے صبر کی اپیل!

آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ اگر روشنی کو بھی لائسنس کا محتاج بنا دیا جائے تو اندھیرا خوشی سے تالیاں بجانے لگتا ہے۔ اور جب اندھیرا تالیاں بجانے لگے تو سمجھ لیں کہ ہم نے معاملہ کچھ زیادہ ہی سنجیدہ کر دیا ہے۔لہٰذا بہتر یہی ہے کہ دھوپ کو دھوپ رہنے دیا جائے۔نہ اس پر مہر لگائی جائے، نہ اسے فائلوں میں قید کیا جائے۔ ورنہ وہ دن دور نہیں جب سورج بھی اعلان کرے۔’’جب تک میرا لائسنس Renew نہیں ہوتا، میں طلوع نہیں ہوں گا‘‘

بشکریہ انڈپینڈنٹ نیوز