لاڑے دے ناں دی ویل ، ووٹی دے ناں دی ویل ۔ وے دے دے ودھائی ، وے اللہ جوڑیاں سلامت رکھی بوہا تے کھول ۔ بول بول کر تھک گئیں ہم لیکن گھر والوں نے بوہا نئی کھولا ۔ گھر کے اندر سے باتوں اور کھانوں کی خوشبو باہر تک آرہی تھی لیکن پانی تک نصیب نہیں ہوا ویاہ والے گھر سے ۔ کم ظرفوں نے لاکھوں روپے ویاہ پہ لگادیئے لیکن ہمیں چند ٹکے دیتے موت پڑگئی انھیں ۔ اللہ کرے یہ گھر ہی نہ وسے ، طلاق ہوجائے ۔ ہمیں بوہا نہیں کھولا تو اللہ کرے یہ بوہے ہمیشہ کے لیئے بند ہوجائیں ۔ بھکے ، شوہدے ، ککھ نہ رے ان کا پینو میراثن جھگی میں بیٹھ کر پورے دل سے بددعائیں اور کوسنے دے رہی تھی ۔ اے جھلی اے شودی اے بددعا نئ دیتے کسی کو ۔ یہ تو اپنے اپنے نصیب کی بات ہے ہمارے نصیب میں بوہتی روٹی نہیں لکھی تو کیا کر سکتے ہیں ۔ میں بھی تو اکثر خالی ہاتھ آتا ہوں مجھے دیکھا کبھی اس طرح کسی کو بددعائیں دیتے ؟ باپو کہتا تھا کچھ بھی ہوجائے کسی کو بددعا نئی دیتے ۔ اور ہم اکیلے تھوڑی ہیں دیکھ جا کے باہر کس کس کی جھگی میں آگ جل رہی ؟ کملی اے بہت سوں کے چولہے ٹھنڈے پڑے ہیں ۔ یہ کام ہی ختم ہورہا ہے تو ایویں نہ چولاں مارا کر ، طیفے نے اپنی بیوی پینو کو سمجھانا چاہا ۔
کام ختم ہورہا تو چھوڑ کیوں نئی دیتے اسے ۔ دیکھ طیفے جو بھی ہے میں اب کسی کے گھر ودھائیاں مانگنے نئی جاؤں گی ۔ اتنی ذلت اور خواری کے بعد ملتا کیا ہے لوگوں کی جھڑکیاں اور گالیاں ۔ نئی سہی جاتی اب مجھ سے یہ ذلالت ۔ خوشی کا موقع ہوتا ہے لیکن ہم ذلیل ہو کر آتے وہاں سے ۔ گانا بجانا کر کے اپنا رزق ہی تو کمانے جاتے ہیں ادھر ، لیکن ہماری آوز سنتے ہی لوگ بوہے بند کر لیتے ۔ جو گانا سن لیتے وہ بھی کوئی عزت نئی دیتے ۔ عورتیں مر مر کر پیسے نکالتیں ہیں اور مردوں کی خباثت کا اچھی طرح پتہ ہے تجھے ۔ اور وہ جو چوہدری ہے خصماں نوں کھانا ، آئے روز بھیج دیتا ہمیں فلاں گھر ویاہ ہے جنج جانی منڈے کی ۔ ہم اتنا سرخی پاوڈر لگا کر جاتی ہیں ، ایک کو کچھ ملتا نہیں اور وہ پیچھے دوسرا گروہ بھی بھیج دیتا ۔ کمبخت یہ نئی سوچتا ایک کو واپس تو آ لینے دوں ۔ لیکن نئی اس نے تو جاسوسی کروانی ہوتی کہ کہیں اس سے دھوکہ نہ ہو جائے ۔ دولت لیکر کہیں بھاگ نہ جائیں ہم ۔ پچھلے جمعے کو جدھر بھیجا تھا اس نے یہ کہہ کر کاکا ہوا ہے منتوں مرادوں کے بعد بڑی ویلیں ہوں گی ادھر سے ۔ ملا کیا پانچ سو کا نوٹ ۔ ہم چار پانچ سو میں سے کتنا بانٹتیں ۔ تین سو تو رکشے کا کرایہ لگ گیا تھا دوسو لیکر گھر کیسے آتیں ۔ مجبوراً بیٹھی رہیں وہیں ڈھیٹ بن کر ، ودھائیاں مانگ مانگ اور لوریاں گاگا کر حلق خشک ہوگیا تب کہیں جاکر اس کالے منہ والی نے اک پانچ سو کا نوٹ اور دیا ساتھ میں دھمکی بھی کہ خبردار اب اگر کوئی تم میں سے گلی میں نظر بھی آئی ، پینو کو ہفتہ پرانا دکھ بھی یاد آگیا ۔
طیفے چھوڑ دے اس کام کو کوئی اور دھندا شروع کر اب بھک برداشت ہوتی ہے نہ ذلت ۔ اور ان نمانوں کا کیا قصور جو ہماری وجہ سے بھک برداشت کرتے ، اپنے ڈیڑھ اور ڈھائی سال کے دونوں بچوں کو دیکھتے ہوئے پینو نے کہا جو مٹی کے فرش پر برہنہ جسم اور ننگے پیر جھگی سے باہر اپنے ہی جیسے حلیے والے بچوں کے ساتھ کھیل رہے تھے ۔
ساری حیاتی یہ بچے میرے دودھ پر تو نہیں پل سکتے ۔ اب تو دودھ بھی کم اترتا کاکے کی بھک بھی نہیں مٹتی بلکتا رہتا ہے اوپر سے تیسرا بھی آنے والا دنیا میں ۔ چھوڑ دے بھانڈ پنا طیفے اب جگتوں پر کوئی نئی ہنستا ۔ چل کہیں اور جا بسیں ، اور کوئی عزت کا کام کریں ۔
دو رکھوں گا تیری گدی پہ ، اپنا پیشہ چھوڑ کر اپنے باپ دادا کی بستی کردوں طیفا پینو کی بات پہ بھڑک ہی اٹھا ۔
تو چمٹا رہ باپ کے پیشے اور ازلوں کی بھک سے ، لیکن میں اپنے بچوں کو بھک کی نذر نئی ہونے دوں گی پینو غصے سے چلائی ۔
جا دماغ نہ خراب کر میرا ، تمھیں پتہ ہی نئی لوگ آج بھی جگتوں پر ہنستے ہیں اور آج بھی ناچ گانے پر دبا کے ویلیں دیتے ہیں ۔ موبائل پر دیکھتی نئ اتنی ویلیں ملتیں ہیں کہ زمین بھر جاتی نوٹوں سے ۔ اور وہ جو اس دن ٹی وی پر کہہ رہا تھا تشریف لاتے ہیں ملک کے مشہور کامیڈین اور کتنی تالیاں بجی تھیں اس کے لیئے ۔ ہمیں لوگ سو روپیہ نہیں دیتے اور انھیں بک کرنے کے ہزاروں ایڈوانس دے دیتے ۔ تجھے کیا لگتا ہے یہ کامیڈین کیا کرتے ہیں ۔ طریقہ اور سہی لیکن یہ بھی ہماری طرح لوگوں کو ہنسانے کا کام ہی کرتے ہیں ۔ ان کا ایک جملہ یا ایک آدھ بات مشہور ہوجائے تو ساری حیاتی وہی ایک بات ہر پروگرام میں سناتے رہتے ۔ اور کتنے ایسے مزاحیہ فنکار ہیں جو رج کے پھیکا مزاح پیش کرتے ۔ میرے انداز پر تو لوگ ہنس ہنس کر لوٹ پوٹ ہوجاتے ہیں ۔ طریقہ غلط ہو سکتا لیکن ہمارا پیشہ برا نہیں ہے ۔ ہمیں تو بادشاہ کے درباروں میں خاص اہمیت دی جاتی تھی طیفا بڑے فخر سے بولا ۔
بس سوچ لیا ہے ہم پیشہ نہیں طریقہ بدلیں گے ۔ صبر کر تھوڑا ٹیم لگے گا لیکن سب ٹھیک ہوجائے گا انشاءاللہ ۔ کچھ سوچتے ہوئے طیفے نے پینو کو تسلی دی ۔
پینو اور طیفے دونوں نے زمانے کے ساتھ چلنے کا فیصلہ کرلیا ۔ طیفے سے طیف اور پینو سے نیناں کا سفر زیادہ مشکل نہیں تھا ۔ دونوں نے حلیہ اور رہائش بدلی ۔ تھوڑی سی خود پہ محنت کی اپنی صلاحیتوں کو جانا اور پھر ان صلاحیتوں کو نکھارنے کی کوشش کی تو خدا نے بھی ان کا ساتھ دیا ۔
پینو کی آواز اچھی تھی لیکن سر کی سمجھ نہ تھی
۔ باقاعدہ گانا سیکھنے کے لیئے پینو نے معروف گلوکار کی شاگردی اختیار کی ۔ پینو میں آگے بڑھنے کی لگن تھی ۔ خان صاحب کی سنگت میں پینو جلد ایک اچھی گائیکہ بن گئی ۔ طیفے نے مزاحیہ خاکوں کی ویڈیوز بنا کر یو ٹیوب پہ اپ لوڈ کرنا شروع کردیں ۔ کچھ وقت ضرور لگا لیکن اس نے اپنی صلاحیتوں کو منوالیا ۔
پینو اب بھی شادی بیاہ کے موقعوں پر گاتی ہے لیکن اب وہ پینو میراثن نہیں شہر کی معروف سنگر نیناں ہے ۔ اب کوئی اسے نہیں دھتکارتا ۔ نیناں ایک ایک فنکشن کے لاکھوں ایڈوانس لیتی ہے اور اصل پیمنٹ سے زیادہ ویلیں ملتیں اسے ۔ طیفا بھی چموٹا چھوڑ کر مائیک پکڑنا سیکھ گیا ہے ۔ طیفا اب پنڈ کا بھانڈ نہیں مشہور کامیڈین ہے جس کے ملین فالوورز ہیں ۔