363

مجھے اب زندہ نہیں رہنا 

 ہائے میرے نصیب میں تو شوہر پہ حکومت کرنا بھی نہیں لکھا ۔ نہ پیسوں کی فراوانی نہ ساس سے چھٹکارا ، بس فکریں مصیبتیں ہی رہ گئیں میرے لیئے ہیں ۔ میں کیوں آگئ اس دنیا میں ۔ کوئ خوشی تو نصیب میں ہے نہیں ۔ اس دن ساتھ والی فریدہ جب مجھے اپنا مہنگا ڈنر سیٹ دکھا رہی تھی تو میرا کتنا دل چاہا تھا کہ میرے پاس بھی ایسا مہنگا سیٹ ہوتا ۔ چلو خرید نہیں سکتی اس پہ تو دل کوسمجھا لیا تھا ، لیکن کیا تھا اگر فریدہ مجھے اس نئے نکور سیٹ کی پلیٹ میں بریانی ہی ڈال کر کھلا دیتی ، اپنی حسرت ہی پوری ہو جاتی ۔

اور وہ جو کھاڈی کے اتنے اچھے جوڑے دکھائے تھے آپا کلثوم کی بہو نے ، میں تو دل ہی مسوس کر رہ گئ ۔ سچی بات ہے ہماری تو آج تک اوقات نہ ہو سکی کہ ہم بھی کوئ برینڈ کا سوٹ خریدلیں ۔ لے کے وہی ہزار روپے والا سستا سا سوٹ لے دیتے ہیں ۔ کیا ہے اگر مجھے بھی کبھی ڈیزائنر جوڑا نصیب ہو ۔ لیکن نہ جی جب بھی کوئ فرمائش کرو آگے سے ہاتھ تنگ ہے سنا دیتے ہیں ۔ بتا رہی ، کچھ نہیں میری زندگی میں ، بس جی کو مار کے جیتے رہو ۔ اور جی کرے نہ کرے سال کے سال نئے جی سے ہوتے جاؤ ۔ اس وقت منے کے ابا کو تنگ ہاتھ یاد نہیں آتا ۔ تب آنے والا اپنا رزق لیکر آئے گا ، کا راگ سنا دیتا ہے ۔ اوپر تلے کے چھ بچوں جن سے صلے کی کوئ امید ہی نہیں نے مت مار رکھی ہے ۔ اور ان بچوں سے صلے کی امید کیا رکھوں جب بچوں کے باپ سے آج تک کوئ امید پوری نہیں ہوسکی .اس نے دیا کیا ہے مجھے ۔ بس وہی تین مرلے کا گھر جس کے باتھ روم کی ٹائیلز تک گھس چکیں ۔

رات کتنے چاؤ سے پزا کھانے کی فرمائش کی تو منہ دوسری طرف کر کے خراٹے لینے لگا ۔ پزا منگوا کر مجھے خوش کر دیتا تو کیا تھا رات کے دو ہی تو بجے تھے ۔ خود بھی تو مجھ سے بے وقت کھانے کی فرمائش کرتا ہے ۔

کوئ ایک دکھ ہو میری زندگی میں تو بتاؤں ۔ بس اپنی دکھ بھری زندگی کو ختم کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے ۔ روز روز مرنے سے ایک ہی بار مرجانا بہتر ہے ۔ ویسے بھی کون سا قیامت تک یہیں بیٹھے رہنا ہے .جب ایک دن مرنا ہی ہے تو پھر ابھی کیوں نہیں ۔ بس بتا رہی مجھے اب زندہ نہیں رہنا . میں نہیں ڈرتی ورتی اس سے ، ارے کل کی آتی آج آئے . میرے لیئے اس دنیا میں ہے کیا ، جو زندہ رہنے کی ہڑک ہو ۔ بس آج پکا فیصلہ کر لیا ہے جونہی منے کا ابا صبح کام پہ جائے گا ، اور میں نیند آور گولیوں کی بڑی مقدار کھا کر مر جاؤں گی ۔ 

ساری رات دن کے انتظار میں نیند نہیں آئ ۔ مجھے بس صبح ہونے کا انتظار تھا . صبح وقت سے پہلے ہی بستر سے اٹھ گئ ۔ منے کے ابا کو جلدی جلدی ناشتہ کروا کر کام پہ بھیجنا تھا تاکہ اپنا کام تمام کر سکوں ۔ پونے سات بجے منے کے ابا کو پورے سات بل والا دیسی گھی کا پراٹھا بنا کے دیا ۔ سوچا میرے بعد کب نصیب ہوگا اس کو ۔ سالوں کا ساتھ چھوٹنے والا تھا دل کو کچھ ہونا لازمی تھا ۔ ساتھ رہتا تو جانور بھی پیارا ہوجاتا یہ تو پھر منے کا ابا تھا ۔ سپیشل دودھ پتی بنا کے پلائ اسے ، دو پراٹھے ساتھ بھی دے دیئے . ۔ رات کی لڑائ کے آثار نہ پاکر وہ پریشان ہوگیا ” طبیعت ٹھیک ہے نا “ اس نے پوچھا ۔ میں آگے سے کچھ نہ بولی ۔ اب دنیا سے جاتے وقت کیا لڑائ کرنی ۔ کہا تو بس اتنا ، تم اپنے کام سے کام رکھو ۔ اور واشنگ مشین لگا لی ، کہ گندے کپڑوں کا ڈھیر لگا تھا ۔ میرے جانے کے بعد بچے کیا پہنتے .چلو چار دن تو آرام سے گذر ہی جائیں گے ان کے ۔ کپڑے دھوتے ہوئے خیال آیا گھر بھی کافی گندا ہو رہا ہے .کہ میرے مرنے پہ لوگ اکھٹے ہوں گے تو کیا سوچیں گے ، کتنی گندی تھی میں 

 ۔کپڑوں کی دھلائ سے فارغ ہونے کے بعد سارا گھر دھوڈالا ۔ اس گھر کے کونے کونے سے محبت تھی ، کہ ہر چیز کتنے پیار سے میں بنائ تھی اور اب اس ظالم شخص کی وجہ سب چھوٹ رہا ۔ فرش دھوتی جاتی اور روتی جاتی ۔ کچن کی لمبی چوڑی صفائ کرتے ہوئے میرے ہاتھ لرز رپے تھے ۔ پتہ نہیں میرے بعد اس گھر کا کیا حال ہوگا ۔ سب کام کرتے سہ پہر ہو گئ ۔ بچوں نے سکول سے آکر اودھم مچا رکھا تھا ، منا اور کاکی بھوک سے رونے لگے .ان کو روتے دیکھ کر میرا دل بیٹھ گیا ۔ کتنی ظالم ماں ہوں بچوں کو آخری بار اپنے ہاتھ سے کھانا بھی نہیں کھلا سکتی ؟ جھٹ سے ان کے لیئے نوڈلز بنائے ، تو لگے ہاتھ ان کے ابا کے لیئے اس کی پسندیدہ بریانی بھی بنا دی ۔ کیا یاد کرے گا ، میرے بعد کب اسے بریانی نصیب ہو نی ۔

لیکن یہی اچھا ہے اس کے لیئے ۔ ہک ہاہ جیتے جی تو قدر نہ کی اب میرے مرنے کے بعد ہی قدر آئے گی اسے ۔ کیا بتاؤں آپ کو ، میرا غم کوئ نہیں سمجھ سکتا ، رات پزے والا دکھ یاد کر کے ایک بار پھر میری آنکھیں آنسوؤں سے بھر گئیں ، اتنا بڑا دکھ کوئ دیتا ہے بیوی کو ۔ آج مجھے مرنا تھا اس لیئے میں سب کچھ جلدی جلدی کر رہی تھی پھر بھی شام ہو گئ ۔ دن کدھر گیا پتہ ہی نہیں چلا ۔ منے کا ابا کام سے واپس آگیا .واپسی میں اس کے ہاتھ میں پھولوں کے گجرے تھے اور میری پسند کی رس ملائ بھی ۔ 

رس ملائ یکھ کر منہ میں پانی آگیا ۔ قسمت دیکھو پزے کی طرح اب رس ملائ بھی کھائے بغیر ہی مروں گی ۔ میں نم آنکھیں لیئے کمرے میں گھس گئ منے کے ابا نے پیچھے سے آکر میرے ہاتھوں میں گجرے پہنادیئے ۔ میرے آنسو صاف کیئے تو میں پھوٹ پھوٹ کر رودی 

 ۔ عجب مشکل آن پڑی تھی ، اتنے پیار سے گجرے پہنانے والے کو چھوڑ کر کیسے مروں ؟ اور پھر اگر میں چلی گئ تو وہ سامنے والی رفعت چڑیل جس کی آنکھیں میرے ہی گھر لگی رہتی ہیں ، فٹ منے کے ابا کو اپنے قابو میں کر لے گی ۔ جو میرے بعد اسے گجرے پہنائے گا ، اور اس کے لیئے رس ملائ لیکر آئے گا ۔ نہیں نہیں میں اس چڑیل کے لیئے اپنی جگہ ہرگز خالی نہیں کروں گی ۔ اور منے کا ابا اتنا برا بھی نہیں کہ خود مر کر اسے کسی اور کو سونپ دوں ۔ مرنے کا ارداہ خاک میں ملا کر رس ملائ پیالے میں ڈالنے لگی ۔

منے کے ابا سے آج پھر بہت لڑائ ہوئ ہے . حرام ہے جو اس نے کبھی میری مانی ہو ۔ اس نے مجھے کچھ نہیں دیا سوائے دکھوں کے ۔ .بس فیصلہ کر لیا ہے مجھے اب زندہ نہیں رہنا .اس بار تو میں مر کے دکھاؤں گی . میں نے سوچ لیا ہے .نیند آور گولیاں جو پچھلی بار پیٹی سے نکالی تھی پتہ نہیں اب کس صندوق میں رکھی ہیں ۔ بس ایک بار دن چڑھ جائے ڈھونڈ لوں گی انھیں بھی ۔ دن کے انتظار میں رات بھر نیند نہیں آئ .اور ..............

 

 

 

بشکریہ اردو کالمز