126

باغ کی سیر

باغ،آزاد جموں کشمیر کا ایک تاریخی ضلع ہے،۱۹۸۸ء میں اسے ضلع کا درجہ دیا گیا،یہ راولا کوٹ سے ۴۶ کلومیٹر اور مظفر آباد سے ۹۷ کلومیٹر کی مسافت پر ہے۔اس دھرتی کے باسیوں نے تاریخ کے آمروں اور ظالموں کے سامنے ہمیشہ علم بغاوت بلند کیا۔سردار شمس خان اس سرزمین کے ایک اہم سپوت تھے جس نے رنجیت سنگھ کے درباراور ان کے مقامی حواریوں کے جبرواستحصال اور ناجائز قبضے کے خلاف جھکنے سے انکارکرتے ہوئے بغاوت کی اور بہادری سے وطن کے مظلوم عوام کے حقوق اور آزادیوں کے لیے لڑتے ہوئے اپنا خون دے کر تاریخ میں امر ہو گیا۔ قبضہ اور معاشی جبر اپنی شکل بدلتا رہا مگر باغ کے عوام نے ہمیشہ مزاحمت کی،جبر و استحصال کے ہر نظام کے سامنے سیسہ پلائی ہوئی دیوار بنتے رہے۔سید خادم حسین شہید ۱۹۴۷ء میں ڈوگرہ کے تسلط سے محکوم کشمیریوں کی آزادی کے لیے علم بغاوت بلند کیا اور ۶؍ستمبر ۱۹۴۷ء کو باغ میں شہید کر دیے گئے۔اکتوبر ۱۹۴۷ء میں باغ کے کئی دیہات جلائے بھی گئے مگر یہاں کے غیرت مند اور حریت پسند باسیوں کے پائے استقلال میں ذرا سی لغزش تک نہ آئی،یہاں کے لوگ ہر دور میں مزاحمت کی طاقت ور آواز بنے رہے،میں ہر سال یہاں آتا ہوں،یہاں کے قلم کاروں،صحافیوں اور اساتذہ کرام سے مکالمہ ہوتا ہے اور یہاں کی تاریخ و تہذیب کے بارے جان کر ہمیشہ خوشی ہوتی ہے۔ ۱۴؍جون سہ پہر ایک بجے باغ پہنچا تو پروفیسر ڈاکٹر شرافت حسین استقبال کے لیے موجود تھے،شرافت حسین خواتین یونیورسٹی میں میں شعبہ ریاضی سے وابستہ ہیں،باغ شہر کی تعلیمی اور ادبی سرگرمیوں میں پیش پیش ہوتے ہیں،میں جب بھی باغ جاتا ہوں،میزبانی شرافت حسین کے ذمہ ہوتی ہے،آپ مع فیملی جس محبت و احترام سے نوازتے ہیں،وہ کشمیریوں کا خاصہ ہے،کشمیری مہمان نوازی میں ہمیشہ بہت آگے رہے۔کشمیر پہنچنے کی اطلاع سیکرٹری طلوعِ ادب اور خوبصورت شاعر شہباز گردیزی کو ملی تو انھوں نے ہنگامی طور پر پرل ویلی کالج میںڈاکٹر محبوب کاشمیری (میڈیکل سپریڈنٹ ڈی ایچ کیو)کی صدارت میں ایک شاندارنشست کا اہتمام کر لیا ،زبیر حسین زبیری جو خود بھی بہت باکمال شاعر ہیں،نے ہائی ٹی کا اہتمام کیا جہاں کشمیر بھر سے صحافی اور قلم کار تشریف فرما تھے۔ یہ نشست اور ملاقاتیں کئی حوالوں سے یاد گار تھیں،ڈاکٹر تسکین اقبال(پروفیسر آف باٹنی)سے گیارہ سال بعد مل رہا تھا،۲۰۱۳ء میں جب طلوع ادب کی دعوت پر باغ گیا تھا، پروفیسر تسکین اقبال نے باغ ڈگری کالج میں طالب علموں کے ساتھ ایک پرمغز مکالمے کا اہتمام بھی کیا تھا جہاں پاکستان اور کشمیر کی تہذیب و ثقافت پر سیر حاصل گفتگو ہوئی تھی،آج ایک دہائی کے بعد تسکین اقبال سے مل کر خوشی ہوئی،انھوں نے ہمیشہ کی طرح اپنی علمی و تحقیقی گفتگو سے مجھے متاثر کیا۔ڈاکٹر محبوب کاشمیری اگرچہ میڈیکل ڈاکٹر ہیں مگر ادب و ثقافت پر انتہائی گہری نظر رکھتے ہیں،ان کے تین شعری مجموعے چھپ چکے ہیں جن کو ناقدین ادب سے بھرپور پذیرائی ملی۔طلوع ادب باغ کی ایک اہم ترین ادبی تنظیم ہے جس اس وقت تک گیارہ سو سے زائد ادبی نشستیں منعقد کروا چکی ہے،یہ تنظیم اب ایک ادارہ بن چکا ہے جو آنے والے نسلوں کی ادبی تربیت کر رہا ہے۔ میرا یہ باغ کا پانچواں سفر تھا،۷۷۰ مربع میل اور پانچ تحصیلوں پر پھیلا ہوا یہ خوبصورت ترین سیاحتی مقام دنیا کی توجہ کا مرکز ہے،یہاں کے تفریحی مقامات میں سدھن گلی،گنگا چوٹی اور لسڈنہ انتہائی اہمیت کے حامل ہیں،مئی سے ستمبر تک ،کشمیر،پاکستان اور بیرون ملک مقیم پاکستانیوں اور کشمیروں کی بڑی تعداد سیاحت کے لیے آتی ہے۔حکومت کی عدم توجہی کی وجہ سے ان صحت افزاپر کوئی ترقی نہیں ہوئی،یہاں کے قدرتی حسن کو سرکاری سطح پر اس طرح تسخیر نہیں کیا گیا،جس کا یہ متحمل تھا۔ان مقامات پر عالمی معیار کا تفریحی پارک اور گیسٹ ہائوسز،ریستواران اور فائیو اسٹار ہوٹل ہونے چاہیے تھے،اس سے بہت سا ریوینیو بھی جنریٹ ہوتا اور دنیا کی توجہ بھی اس طرف ہوتی۔باغ اور اس سے ملحقہ وادیوں کا حسن یہاں کی سیاست کی نذر ہو گیا،میں ہر برس یہ سوچتا ہوں کہ اگلی مرتبہ جب آئوں گا،بہت کچھ بہتر ہوگا مگر اگلے برس حالات مزید گھمبیر ہو چکے ہوتے ہیں۔ ۲۰۰۵ء کے زلزلے میں باغ بری طرح متاثر ہوا تھا،یہاں پچیس ہزار کے قریب اموات ہوئی تھیں،یہاں کے کالج،سکول اور ہاسٹل مکمل طور پر زمین بوس ہو گئے تھے،کئی جگہوں پر عمارتوں تلے لاشیں بھی نہیں نکالی جا سکیں تھیں اور کئی جگہوں سے ہڈیاں نکال کر دفنائی گئیں تھیں۔اس حادثے کے بعد یہاں تعمیر و ترقی کی کوششیں اس قدر نہیں ہو سکیں،جتنی ہونی چاہیے تھیں،یہاں کے سیاست دان بھی الیکشن کے دوران کیے جانے والے وعدوں کو کسی کھاتے میں نہیں رکھتے اور ایوانوں میں پہنچنے کے بعد بھول جاتے ہیں۔یہاں کے سیاحتی مقامات کی خستہ حالی اس بات کی گواہ ہے کہ یہاں ایوانوں میں بیٹھنے والوں کو اس کی اہمیت کا قطعی اندازہ نہیں ہے۔ سیاست دانوں کے ترجیحات یقیناً بہت مختلف ہوتی ہیں۔لسڈنہ،گنگا چوٹی اور سدھن گلی سمیت دیگر درجنوں ایسے پوائنٹس ہیں جو تھوڑی سی کوشش کے بعد دنیا بھر کے سیاحوں کی توجہ کا مرکز بن سکتے ہیں،اگر سیاحوں کو بہتر انداز میں سہولیات فراہم کی جائیں۔وادی لیپا کی طرف جانے والے راستوں پر میں نے دو سال قبل ایک کالم لکھا تھا کہ اگر وہاں ٹنل بنادیے جائیں تو یہ راستہ بہت آسان ہوسکتا ہے،لیپا کے لوگوں کی زندگیوں کے آسان بنانے کے لیے یہاں کی اشرافیہ کو کام کرنا چاہیے۔جدید سہولیات سے آراستہ ہسپتالوں،پارکوں اور تعلیمی اداروں کا قیام اشد ضروری ہے۔باغ شہر میں تو کسی حد تک یہ سہولیات پہنچ گئیں مگر دیگر وادیوں میں ایسے سہولیات کا شدید فقدان ہے،اس کے لیے کام کرنے کی ضرورت ہے۔آزاد جموں کشمیر کا ہر سفر بہت یادگار ہوتا ہے،میں یہاں سے بہت سی یادیں اور پیار سمیٹ کر لاتا ہوں ،یہاں کے عوام کے لیے جب سہولیات کا فقدان دیکھتا ہوں تو دل اندر سے دکھی ہوتی ہے۔

بشکریہ اردو کالمز