جس طرح دہشتگرد انسانیت کے دشمن ہیں ٹھیک اسی طرح دہشتگردوں کے سہولت کار بھی انسان کہلانے کے لائق نہیں۔انسانیت امن، محبت، اخوت اور رواداری کا درس دیتی ہے۔ بدقسمتی سے کچھ افراد،گروہ اورملک ایسے بھی ہوتے ہیں جو دوسروں کے وسائل پرقابض ہونے،دیگرذاتی مفادات، مذہبی شدت پسندی یا سیاسی مقاصد کی خاطر انسانیت کی بنیادوں میں دہشتگردی کازہرگھول دیتے ہیں۔دہشتگرد وہ عناصر ہوتے ہیں جو پرتشدد کارروائیوں کے ذریعے اپنے نظریات مسلط کرنا چاہتے ہیں۔ وہ بے گناہ انسانوں کو قتل کر کے، بچوں کو یتیم اور عورتوں کو بیوہ بنا کر یہ سمجھتے ہیں کہ وہ کسی عظیم مقصد کی تکمیل کر رہے ہیں جبکہ درحقیقت وہ انسانیت کے سب سے بڑے مجرم ہوتے ہیں۔
دہشتگرد اور ان کے سہولت کار ایسے سیاہ کردار ہیں جو معصوم جانوں کو نشانہ بنا کر خوف، بے یقینی اور تباہی کا پیغام دیتے ہیں۔ ایسے عناصر نہ صرف عالمی معاشرے کے لیے ناسور ہیں بلکہ انسانیت کی سنگین توہین بھی ہیں۔دہشتگردی کے سہولت کار وہ لوگ ہوتے ہیں جو بظاہر عام شہریوں کی طرح زندگی گزارتے ہیں اوردرپردہ دہشتگردوں کو پناہ دیتے ہیں، مالی مدد فراہم کرتے ہیں، ان کے لیے معلومات جمع کرتے ہیں ،ان کی کارروائیوں پر پردہ پوشی کی ذمہ داری سرانجام دیتے ہیں یاکسی بھی دیگرطریقے سے اُن کے ساتھ تعاون کرتے ہیں۔ دہشتگردی ایک بیماری ہے تو سہولت کار اس کے پھیلاؤ کا ذریعہ ہیں۔ ان کا جرم بھی اتنا ہی سنگین ہے جتنا دہشتگردی ہے۔
بظاہردہشتگرد کسی فرد،قوم،قبیلے یاملک پر حملہ آورہوتے ہیں پردہشتگردی ایساسنگین جرم ہے جسے کسی بھی حالت میںپوری انسانیت پر حملہ تصورکرناچا ہیے۔ چاہے مسجد میں نمازی ہوں ،گرودوارے،کسی مندر،چرچ یاکسی بھی دیگرمذہب کی عبادت گاہ میں، سکول میں بچے، ہسپتال میں مریض، یا بازار میں عام لوگ۔ دہشتگرد ان میں تمیز نہیں کرتے۔ان کا مقصد صرف اور صرف تباہی، دہشت، اور عدم استحکام پیدا کرناہوتا ہے۔ جو فرد،گروہ،قوم یاملک ایسے درندوں کی مدد کرے وہ خون ناحق میں برابر کا شریک ہوتا ہے لہٰذادہشتگردی کی سہولت کاری کرنے والوں کوانسان کہلانے کاکوئی حق نہیں۔
دہشتگردی کے نتیجے میں انسانی معاشرے میں خوف و ہراس اوربے اعتمادی کا ماحول پیدا ہوتا ہے۔ تعلیمی ادارے، کاروبار، اور روزگار متاثر ہوتے ہیں۔ ملکی ترقی رُک جاتی ہے اور غیر ملکی سرمایہ کاری ختم ہو جاتی ہے۔ لوگ نفسیاتی دباؤ اور اضطراب کا شکار ہو جاتے ہیں۔
دین اسلام سمیت دنیا کا ہر مذہب قتلِ ناحق کو گناہ عظیم قرار دیتا ہے۔ قرآن مجید میں ارشاد ہے۔
جس نے ایک بے گناہ انسان کو قتل کیا گویا اُس نے پوری انسانیت کو قتل کیا۔ (سورة المائدہ: 32)
اسلام امن، صلح اور بھائی چارے کا مذہب ہے۔ دہشتگرد اور ان کے سہولت کار نہ صرف انسانیت بلکہ دین اسلام کے بھی مجرم ہیں۔دین اسلام اپنے پیروکاروں کوظالموں،جابروں،ناانصافوں ،دہشتگردوں اوراُن کے سہولت کاروں کیخلاف جہادکاحکم دیتاہے۔
اسلام یاکسی اورمذہب یامسلک کو بنیادبناکرمعصوم اورنہتے انسانوںکیخلاف ہونے والی پرتشددکارروائیاں اورقتل ناحق سنگین دہشتگردی ہے۔خواہ وہ دنیامیں کہیں بھی کسی بھی ملک میں ہو۔
انسانیت کی بقاء کی خاطردہشتگردوں اور سہولت کاروں کا خاتمہ ناگزیرہے۔دہشتگردی اوراوراُس کی سہولت کاری کے خاتمے کیلئے پوری دنیاکے انسانوں خاص طورپرحکمرانوں کامل بیٹھناضروری ہے۔
ضرورت اس امرکی ہے کہ عالمی طاقتیں دہشتگردی کے سہولت کاروں کو بھی دہشتگردوں کے برابر سزا دینے کیلئے ضروری قوانین بنائے اورعملی اقدامات اٹھائے۔دہشتگردوں اوراُن کے سہولت کاروں کودنیامیں کہیں پناہ نہ دی جائے۔
عوامی شعور بیدار کیاجائے،لوگوں کو آگاہ کیا جائے کہ سہولت کاری بھی سنگین جرم ہے۔ علماء کرام عوام کو دہشتگردی کی مذمت کا درس دیں۔ نوجوانوں کو مثبت سرگرمیوں کی طرف راغب کیا جائے تاکہ وہ شدت پسندوں کے ہاتھوں استعمال نہ ہوں۔ جدیدٹیکنالوجی کی مدد سے دہشتگرد نیٹ ورکس اور ان کے سہولت کاروں کی شناخت کر کے ان کا جڑ سے خاتمہ کیا جائے۔دہشتگرد صرف بم،گولی یا خودکش حملوں سے انسانوں کو نہیں مارتے بلکہ وہ انسانیت کے ضمیر کو بھی زخمی کرتے ہیںاور ان کے سہولت کار ان کے ناپاک عزائم میں برابر کے شریک ہوتے ہیں۔ ایسے لوگ کسی رحم، ہمدردی یا رعایت کے مستحق نہیں۔ دہشتگردی اور اس کے سہولت کاروں کا خاتمہ صرف قانون کا نہیں،بلکہ ہر انسان کا اخلاقی اور قومی فرض ہے۔
126