204

24ویںوزیراعظم پاکستان میاں محمدشہبازشریف

   نومنتخب وزیراعظم پاکستان میاں محمدشہبازشریف  23ستمبر1951ء کوپیداہوئے ۔پہلی بار 1988 ء میں پنجاب اسمبلی کے ایم پی اے منتخب ہوئے۔1990ء میں این اے 96 لاہورسے قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔1993ء میںپی پی 125 لاہور 10 کے حلقے سے صوبائی اسمبلی کے رکن منتخب ہوکر قائد حزب اختلاف نامزد ہوئے۔1997ء میں پی پی 125 لاہور سے تیسری مرتبہ پنجاب اسمبلی کے رکن منتخب ہوکرپاکستان کے سب سے بڑے صوبہ پنجاب کے وزیر اعلیٰ بنے۔2008ء میں چوتھی مرتبہ بھکر سے صوبائی اسمبلی کی نشست پرکامیاب ہوکردوسری مرتبہ صوبے کے وزیراعلیٰ منتخب ہوئے۔2013ء میں لاہور سے ایک مرتبہ پھرپنجاب اسمبلی کے رکن بنے اور تیسری بار پنجاب کی وزات اعلیٰ کے منصب پربراجمان ہوئے۔2018ء میں قومی اسمبلی کے 4 حلقوں این اے249کراچی، این اے132 لاہور، این اے3 سوات اور این اے192 ڈیرہ غازی خان سے الیکشن میں حصہ لیا۔کراچی، سوات اور ڈیرہ غازی خان سے شکست کا سامنا کرنا پڑا جبکہ لاہور سے رکن قومی اسمبلی منتخب ہونے میں کامیاب رہے۔رکن قومی اسمبلی منتخب ہونے کے بعد انہوں نے عمران خان کے مقابلے میں وزیراعظم کا انتخاب لڑا جس میں عمران خان 176 ووٹ لے کر وزیراعظم منتخب ہوئے اور میاں محمدشہباز شریف کے حصے میں96 ووٹ آئے، بعدازاں میاںمحمد شہباز شریف قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف نامزد ہوئے۔2022ء میں عمران خان کیخلاف تحریک عدم اعتمادکی کامیابی کی بعدپی ڈی ایم اورپاکستان پیپلزپارٹی کی جانب سے میاں محمدشہبازشریف کووزیراعظم پاکستان منتخب کیاگیاجس کے بعدپاکستان کے اندرمہنگائی کے طوفان میں بے پناہ شدت آئی۔ تاریخ کے متنازعہ ترین الیکشن کے بعد3مارچ2024ء کو محمدشہبازشریف پاکستان کے 24ویں وزیراعظم منتخب ہوگئے۔پاکستان پیپلزپارٹی،ایم کیوایم ،پاکستان مسلم لیگ ق اوراستحکام پاکستان پارٹی نے میاں محمدشہبازشریف کے حق میں ووٹ دیا ۔ماضی کی طرح الیکشن 2024ء بھی متنازعہ ہی رہے۔پاکستان تحریک انصاف،تحریک لبیک پاکستان،جے یوآئی،جے ڈی اے اوردیگرکئی جماعتیں الیکشن کودھاندلی زدہ کہہ رہی ہیں۔تاریخ کے گہرے مطالعے کے بعدہم کسی بھی دورمیں ہونے والے الیکشن کوشفاف وغیرجانبدارنہیں کہہ سکتے۔راقم میاں محمدشہبازشریف کے انتخابی حلقے این اے123لاہورکارہائشی ہے۔این اے123لاہورسے میاں محمدشہبازشریف کی کامیابی کوبالکل بھی متنازعہ نہیں کہاجاسکتااس حلقے کے عوام کی اکثریت آج بھی مہنگائی کی شکایات کے ساتھ میاں محمدشہبازشریف کی کارکردگی سے مطمئن نظرآتے ہیں۔الیکشن 2024ء میں ن لیگ کی مرکزی یامقامی قیادت نے حلقے میں الیکشن کمپین کوخاص توجہ نہیںدی پھربھی اکثر لوگوں نے انہیں ووٹ کاحقدارسمجھا۔راقم یہ بات پوری ذمہ داری کے ساتھ کہہ سکتاہے کہ این اے123لاہورسے میاں محمدشہبازشریف کی کامیابی حقیقی ہے دھاندلی زدہ نہیں۔میاں محمدشہبازشریف پاکستان کے سب سے بڑے صوبہ پنجاب کے تین باروزیراعلیٰ رہ چکے ہیں اوراب مسلسل دوسری مرتبہ وزیراعظم منتخب ہوچکے ہیں ۔تمام ترنیک خواہشات کے ساتھ میاں محمدشہبازشریف کو وزیراعظم پاکستان منتخب ہونے پرمبارکبادپیش کرنے کے ساتھ ہی یہ کہنابھی اپنافرض سمجھتاہوں کہ اس موقع کوآخری سمجھیں یعنی آئندہ الیکشن کے موقع پرآپ یہ نہیں کہہ سکیں گے کہ قوم نے موقع دیاتوملک وقوم کی تقدیربدل دیں گے۔بے شمارچیلنجزکے باوجودعام آدمی کے کچن تک ثمرات نہ پہنچے توآپ کاکوئی بیانیہ عوام کی عدالت میں سرخرونہیں کرپائے گا۔پاکستان کی تاریخ چیخ چیخ کرکہہ رہی ہے کہ جتنے مواقع شریف خاندان کوملے اتنے کسی اورکے حصے میں نہیں آئے۔یہ سچ ہے کہ پاکستان مسلم لیگ ن کے ادوارمیں بڑی سڑکیںاورپل بنے یہ بھی سچ ہے کہ دہشتگردی اور بجلی کی لوڈشیڈنگ کوکنٹرول کیاگیا۔میٹروبس اوراورنج لائن ٹرین جیسے عوامی منصوبے بھی کامیابی کے ساتھ مکمل ہوئے جن سے لاکھوں عوام مستفید ہورہے ہیں پریہ ماضی ہوچکاآج بجلی اورگیس کے بھاری بھرکم بلوں نے عام آدمی کاکچومرنکال دیاہے جبکہ دیگربنیادی ضروریات زندگی کوبھی مہنگائی نے بُری طرح جکڑرکھاہے۔ماضی کی حکومتوں کی طرح اپوزیشن اوردیگرمخالفین کودیوارکے ساتھ لگانے پرتوانائیاں ضائع کرنے کی بجائے ملک وقوم پرخرچ کریں۔کوئی سیاسی جماعت دبانے سے ختم نہیں ہوسکتی لہٰذابہترہے دوسروں کی برائیوں کی بجائے اپنی کارکردگی کی بنیادپرسیاست کریں وہ بھی ٹکراوکے ماحول سے بچ کر۔یادرہے کہ ییلوکیپ سکیم،رکشہ سکیم۔بے نظیرانکم سپورٹ،مفت لیب ٹاپ،احساس کفالت، سستی روٹی مفت آٹا ،لنگرخانے پناہ گاہیں،مرغیاں،انڈے،کٹے وچھے اورایسے دیگرمنصوبے پاکستان کے قرضے نہیں اتارسکتے۔20کروڑسے زائدخواتین وحضرات کوبھیک کی بجائے روزگاردینے کیلئے سنجیدہ اقدام اٹھاناناگزیرہوچکاہے۔موجودہ ماحول میں چھوٹے سرمائے سے کاروبارکرنا ممکن نہیں رہا۔بیرون ملک بڑے بڑے سرمایہ کاروں کی منتیں کرنے کی بجائے پاکستانیوں کیلئے آسانیاں پیداکرکے ملک کواپنے پیروں پرکھڑاکرناممکن بھی ہے اورمستقبل کیلئے انتہائی مفیدبھی۔ماضی کی طرح سستایامفت دس کلوآٹا سستی چینی۔گھی کی متنازعہ فراہمی جیسے منصوبوں سے وقتی طورپردل بہلایاجاسکتاہے پرمہنگائی اوربے روزگاری کے دلدل سے نکلناممکن نہیں۔ماضی کی طرح اتحادیوں اورماضی کی حکومتوں کے شکوے شکایتیں اپنی جگہ عام آدمی کوریلیف دینے میں کامیاب نہیں ہوتے توبہترہوگاآئندہ چپکے سے سیاست چھوڑدیں بصورت دیگرعوام آپ کوبری طرح شکست سے دوچارکردیں گے۔آپ کی حکومت مزدورکی زندگی میں آسانیاں پیداکرنے میں کامیا ب ہوگئی توآپ کوپھرحکومت کرنے کا اورہمیں مبارکباددینے کاموقع مل جائے گانہیں توعوا م کی طرف سے اللہ حافظ
 

بشکریہ اردو کالمز