خرچا ہے بہت، آمدنی کم اِس ماہ
مہنگائی کی میں تاب کہاں سے لاؤں
’’روزہ مرا ایمان ہے غالبؔ لیکن
خس خانہ و برفاب کہاں سے لاؤں‘‘
287
خرچا ہے بہت، آمدنی کم اِس ماہ
مہنگائی کی میں تاب کہاں سے لاؤں
’’روزہ مرا ایمان ہے غالبؔ لیکن
خس خانہ و برفاب کہاں سے لاؤں‘‘