246

سرکاری سکولز کی  آؤٹ سورسنگ، ایک تلخ حقیقت:

ایک معروف این جی او نے پنجاب بھر سے 25 تباہ حال سرکاری سکولز کو اپنی تحویل میں لینے سے انکار کر دیا۔ اگر ہم ان اسکولز کی حالت دیکھیں تو بخوبی اندازہ ہو جائے گا کہ اس تباہی کا ذمہ دار کون ہے۔ یہ کوئی عام انکار نہیں بلکہ ایک آئینہ ہے جو  اب تک  کی ہماری تعلیمی پالیسیوں اور اداروں کی ناقص حالت کو دکھا رہا ہے۔

 

ہم نے 77 سال سے اپنے غریب طبقے کے معصوم بچوں کو معیاری تعلیم فراہم کرنے کے لیے سکولز کو بنیادی سہولیات دینا بھی ضروری نہیں سمجھا۔ بجائے اس ناکامی کا اعتراف کرنے کے یا ان سکولوں کو سہولیات اور اساتذہ فراہم کرنے کے، ہم انہیں آؤٹ سورس کر کے اپنی ذمہ داری سے جان چھڑانا چاہتے ہیں۔ کوئی ہمیں یہ سمجھائے کہ ان سکولوں کو بحال کرنے کے لیے کروڑوں روپے کہاں سے آئیں گے؟ اور اتنے بڑے اخراجات کون برداشت کرے گا؟   یہ اخراجات صرف حکومت ہی برداشت کر سکتی ہے کوئی عام فرد نہیں ۔ آئینِ پاکستان کے مطابق بچوں کو ابتدائی تعلیم دینا حکومت کی  ذمہ داری ہے، مگر ہم اس سے پیچھا چھڑانے کے چکر میں ہیں۔

اشرف المخلوقات کے ہرہرفرد کا ہر ایک اللا تللا ہم نے پورا کرنا ہے، اس اعلٰی و ارفع طبقے کے ہر ایک بندے کے پورے پورے کنبے کی  عیاشیوں کی مکمل ذمہ داری ہم نے اٹھائی ہوئی ہے ان کے موبائل بیلینس اور پانی کی بوتل سے لیکر باقاعدگی سے کروڑوں کی مالیت کی نئی نئی قیمتی گاڑیاں خریدنے تک کا خرچہ بڑی فراخ دلی سے کرتے چلے آ رہے ہیں، پورے ملک کے طول و عرض میں موجود ان چھوٹے چھوٹے مغلِ اعظموں کے ایک ایک نمائندے کی خدمت میں درجن بھر خدمتگار سرکاری خزانے سے رکھے ہوئے ہوتے ہیں، گاڑی کا دروازہ کھولنے بند کرنے کیلئے الگ، گھنٹی کی اواز سن کر اندر بھاگم بھاگ آنے والا الگ، چائے پیش کرنے والا الگ، سائن کرتے وقت اوراق  اگے پیچھےکرنے والا الگ وغیرہ وغیرہ ۔ 

لیکن جب بات آتی ہے غریب کے بچے کے سکول کے کمرے کی تعمیر کی، یا کسی بند سکول میں ٹیچر بھرتی کرنے کی، تو ہمیں فوراً ملک کی دیوالیہ ہونے کا خطرہ لاحق ہو جاتا ہے۔ اگر کسی سکول کی صفائی کے لیے ملازم رکھا جائے، تو خزانہ خالی ہونے کا خدشہ ہوتا ہے۔ غریب طبقہ ہماری ترجیحات میں ہے ہی نہیں۔ اس ساری صورتحال میں سب سے زیادہ متاثر وہ بچے ہیں جن کے والدین انہیں سرکاری سکولوں میں بھیجنے پر مجبور ہیں۔ ان بچوں کے پاس کوئی دوسرا راستہ نہیں، مگر حکومت کی ترجیحات میں وہ شامل نہیں ہیں۔ پسے ہوئے طبقے کی بنیادی انسانی ضروریات چھین چھین کر اشرف المخلوقات کی  عیاشیوں اور مراعات میں اضافے پر اضافہ کیا جا رہا ہے۔

 

ہمیں اپنے اعمال پر غور کرنا چاہیے۔ ہم اشرف المخلوقات کے "خوابوں" کو پورا کرنے میں لگے ہوئے ہیں، اور غریب طبقے کے حقوق کو نظر انداز کر رہے ہیں۔ یہ شرمناک حقیقت ہمیں سوچنے پر مجبور کرتی ہے کہ ہم اپنے ملک کی بنیادی تعلیم کے نظام کو کس طرح تباہ کر رہے ہیں۔ 

۔

گنجی نہائے گی کیا اور نچوڑے گی کیا؟ کے مصداق اب جو بھی این جی او یا کوئی فرد ان سکولز کو اپنی تحویل میں لے گا، یہ بات تو واضح ہے کہ اپنی جیب سے ایک روپیہ بھی نہیں لگائے گا۔ اس نے کیا پڑھانا اور کیا کمانا۔ نتیجتاً، یہ سکول مزید تباہی کا شکار ہو جائیں گے اور چند ہی سال میں صفحہ ہستی سے مٹ جائیں گے۔ کیونکہ جب تک ہم خود ان سکولوں کی بحالی اور ترقی کے لیے وسائل فراہم نہیں کریں گے، کوئی بھی ان کی بگڑتی ہوئی حالت کو سدھارنے میں دلچسپی نہیں لے گا۔ یہ صرف سکولوں کا خاتمہ نہیں ہوگا بلکہ غریب بچوں کے مستقبل کا اندھیروں میں دھکیلنا ہوگا۔

بشکریہ اردو کالمز