غازی علم الدین شہید کا نام آپ کی شہادت کے بعد آج بھی دوائم سے چمک رہا ہے۔ آپ کی ساتویں پشت ''لہنا سنگھ ''سے ملتی ہے، جو مغل بادشاہ نورالدین محمد جہانگیر کے زمانے میں مسلمان ہوئے، اور حضرت برخوردار کے نام سے زاہد و پرہیزگار مشہور ہوئے۔ آپ کی چھٹی پشت سے طالع مند اور پھر اسی طالع مند کے گھر4د سمبر1908ء بمطابق8ذی القعد1326ہجری بروز جمعرات کو علم الدین پیدا ہوئے۔آپ بمقام کوچہ چابک سواراں سریانوالہ بازار لاہور جو آج بھی آپ کی وجہ سے کوچہ''سرفروشاں ''کہلاتا ہے،اِسی نواح میں بچپن گزارا۔
علم الدین کے والد مستری طالع مند، والدہ چراغ بی بی، بڑا بھائی محمد دین اور ہمشیرہ(بہن) معراج بیگم تھیں۔
آپ نے ابتدائی تعلیم مدرسے میں حاصل کی،آپ کو پڑھائی سے کچھ خاص لگائو نہیں تھا،لہذا آپ کے والد محترم مستری طالع مند نے آپ کو بھی بڑھئی(لکڑی) کا کام سکھا دیا۔
آپ نے اپنے بھائی سے بھی سیکھا مگر مستری نظام الدین نے آپ کو اعلٰی پائے کا کاریگر بنا دیا، اِس طرح آپ لاہور اور ملتان میں بھی کام کے لیے گئے، اور پھر یکم جنوری1928 ء کو والد محترم کے ہمراہ کوہاٹ گئے وہاں ٹھیکہ لے رکھا تھا۔
کوہاٹ آپ کو راس آ گیا اور آپ تنو مند ہو گئے اور آپ کا جسم بھی بن گیا، اسی دوران مارچ٩٢٩١ء میں بٹے بھائی محمد دین کے گھر بچی پیدا ہوئی، اسے دیکھنے لاہور آئے،او28مارچ1929ء کو آپ کی منگنی ماموں زاد فاطمہ بی بی سے ہوئی، انہی دنوں لاہور کے ہر گلی کوچے میں ہندو ناشر راجپال کا نام واجب القتل کے لیے گونج رہا تھا،ہر دل غمگین،ہر آنکھ اشکبار،اور ہر جوان اس کو واصلِ جہنم کرنے کا متلاشی تھا، حکومت برطانیہ نے اس کو اس عمل پر6ماہ سزا سنائی مگر شدھی، سنگھٹن نے اس کو رہا کروایا بلکہ اس کے لیے پولیس تعنیات کی گئی،یہ ہندووں کا لیڈر بن گیا، اور مسلمانوں کے لیے واجب القتل۔
علم الدین کے اندر بھی چنگاری جل چکی تھی، مگرآپ سے پہلے دو مسلمان مجاہد غازی عبدالعزیز خان اور لاہور سے غازی خدا بخش نے راجپال پر حملہ کیا مگر وہ زخمی اور غازی عبدالعزیز کو14سال جبکہ غازی خدا بخش کو 7سال قید سنائی گئی۔
انہی دنوں ایک رات آپ نے گھر میں سفید پوش بزرگ کی زیارت کی، انھوں نے فرمایا:۔
''علم الدین اٹھ! اور جا کر اس بے غیرت کا کام تمام کر دے۔ ''
٦ اپریل کے روز علم الدین نے وزق والوں کی اس سنت کو پورا کر کھایا،فجر کی نماز لال مسجد
(شاہ عالمی دروازہ) میں ادا کی اور اس کے بعد حضرت داتا گنج بخش المعروف داتا علی ہجویری کی درگاہ پر حاضری دی، قبل از دوپہر اپنی بھاوج (اقبال بی بی) سے میٹھے چاول کھانے کی فرمائش کی اور ان کو مذاق مذاق میں بتایا:۔
''بھابی! میں خوش ہوں، آج میری قسمت سنور جائے گی مدینے والے آقا و مولاۖ نے مجھے اپنی حرمت و تقدس کی خاطر چن لیا ہے، مجھے ایک عظیم سعادت نصیب ہونے والی ہے میں آج راجپال کے ٹکڑے ٹکڑے کر دوں گا۔ ''
یہ کہہ کر آتمارام کباڑیے سے ١ روپے عوض لیا ہوا چھرا لے کر نکلے۔اور اس کی دوکان واقع میو ہسپتال روڈ نزد گلی پان والی پر پہنچے،اور چھرا اس کے سینے میں پیوست کر دیا۔پولیس ملازم کھانا کھانے گئے تھے۔جیسا کے راجپال کے ملازم بھگت رام اورکدار ناتھ دوکان پر موجود تھے،مگر بت بنے کھڑے تھے۔راجپال کو جہنم واصل کرنے کے بعد (ودیا رتن)کے ٹال پر پہنچے،اور وہیں نلکے کے پانی سے راجپال کے ناپاک خون کو پانی کی نذر کیا۔راجپال قتل ہو گیا، ہر طرف اب یہ ہی گونج رہا تھا،اچانک غازی صاحب کے دل میں خیال آیا کہیں راجپال بچ نہ گیا ہو،لہذا اسی وقت اس کی دوکان پر گئے آپ کے ہونٹوں پر تبسم تھا پولیس نے راجپال کے ملازموں کی نشاندہی پر آپ کو گرفتار کر لیا۔اور نعروں کی گونج میں آپ نے واشگاف الفاظ میں کہا:''نابکار راجپال کا قاتل میں ہوں، میں نے جو کچھ کیا ہے خوب سوچ سمجھ کر کیا ہے اور اپنے رسولۖ کا بدلا لیا ہے، محبوب خداۖ کی حرمت و تقدس کی حفاظت میرا فرض تھا، میرے نزدیک یہ کوئی جرم نہیں بلکہ کارِخیر ہے۔ ''اور پھر مسکراتے ہوئے کہا:۔خدا کا شکر ہے میری محنت ٹھکانے لگی ''
کدارناتھ نے انار کلی تھانے میں قتل کی رپورٹ درج کروائی اور شہر میں دفعہ144 نافذ کر دی، رات کو راجپال کا پوسٹ مارٹم ہو چکا تھا، صبح ہندوئوں کے جمِ غفیر میں نعش ورثا کے حوالے کی گئی اور نعش کو باغ بیرون ٹکسالی دروازہ سپرد آتش کیا گیا اور راکھ راوی کے تندو تیز موجوں کے حوالے کی گئی۔پولیس نے ہندوئوں کو خوش کرنے کے لیے تفتیش کا دائرہ وسیع کردیا، غازی صاحب کے گھر والوں کو ایذا پہنچائی۔مہاشہ راجپال کے قتل کا مقدمہ ٠١ اپریل کو سنٹرل جیل میں ایڈیشنل ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ مسٹر ای۔ایس۔لوئیس کے سامنے پیش کیا گیا۔غازی صاحب شفاف لباس اور ہتھکڑیوں سے لیس بینچ پر بیٹھے تھے،آپ نے قتل قبول کیا،غازی موصوف کی طرف سے فرخ حسین بیرسٹر نے مقدمے کے پیروی کی،مگر آپ کو سزائے موت سنائی گئی،اپیل کی گئی اہلِ لاہور نے علامہ اقبال کی سر کردگی میں مقدمے کی پیروی کرنے کے لیے محمد علی جناح کی خدمات حاصل کیں، آپ ممبئی سے لاہور آئے مقدمے کی پیروی میں غازی علم دین نے قتل کا اعتراف کیا جسے آپ نے نا بدلا۔ قائداعظم محمد علی جناح نے کیس کا رخ بدل دیا مگر آپ کی سزا برقرار رہی،کیس کے لیے علم دین ڈیفنس کمیٹی قائم کی، چندہ جمع کیا گیا،پریوی کونسل تک اٹھارہ ہزار( (18000 روپے کے اخراجات ہوئے مگر آریہ سماج،شڈھی سنگھٹن کے دباو نے انگریز حکومت کو بھی فیصلہ نہ بدلنے دیا اور آپ کو پھانسی کی سزا سنائی گئی،غازی موصوف کا مقام و مرتبہ اس بات سے بھی واضح ہو جاتا ہے کہ آپ لکھنا پڑھنا نہیں جانتے تھے لیکن آپ کے قیامِ جیل میں پورا قرآن آپ کو حفظ ہو گیا، خدا جانے انہیں یہ علم کون سکھا گیا،ملاقاتیوں کو قرآنی آیات پڑھ کر سناتے اور بڑے بڑے مشکل نکات فلسفیانہ انداز میں آسانی سے حل کر دیتے تھے،جیل میں جمعہ کے جمعہ روزہ رکھتے،ہر وقت باوضو رہتے اور درود شریف کا ورد کرتے رہتے۔لاہور کی جیل میں لواحقین کو بتایا مجھے سفید پوش بزرگ کی زیارت نصیب ہوئی ہے انہوں نے میرے سر پر دستِ شفقت پھیرا اور فرمایا:۔
''بیٹا مطمئن رہو،تجھے جلد ہی بلا لیا جائے گا۔اس دن سے مجھے کمال درجہ سکون قلب میسر ہے''
22 مئی1929ء کو غازی موصوف کا وزن128پونڈ تھا اور شہادت کے وقت وزن بڑھ 140 پونڈ ہو گیا۔
ان کو خوشی تھی اور وہ جلد سے جلد آقاۖ کے حضور پہنچنا چاہتے تھے، پریوی کونسل لندن نے پہلے آپ کو لاہور میں پھانسی دینی تھی مگر وہ مسلمانوں کے غیظ و غضب سے ڈرتے تھے لہذا آپ کو 31اکتوبر کو ساڑھے نو بجے شب سنٹرل جیل لاہور سے بذریعہ موٹر گوجرانوالہ اور وہاں سے ساڑھے بارہ بجے رات گاڑی میں میانوالی روانہ کیا گیا۔میانوالی کے لوگوں کا بیان ہے کہ شہر میانوالی میں مدت سے ایک مجذوب رہتا تھا جو کسی سے کبھی بات نہ کرتا تھا مگر جب غازی علم الدین رحمتہ اللہ علیہ کی میانوالی میں آمد ہو رہی تھی اس رات گلی کوچوں میں دوڑتا پھر رہا تھا بلند آواز سے نعرے لگاتا ہوا اعلان کرتا،''میانوالی کے لوگو! تمہیں مبارک ہو، تمھارے پاس ایک عاشقِ رسول آ رہا ہے۔ ''
ساری رات اس نے تالیاں پیٹتے،قہقہے لگاتے یوں ہی گزار دی اور سپیدہ سحر طلوع ہونے سے پہلے ایسا روپوش ہوا کہ آج تک اس کا کوئی سراغ نہیں مل سکا۔
اور یہاں 14١کتوبر کو صبح سویرے فسٹ کلاس ڈبے سے غازی صاحب اترے اور پولیس حراست میں میانوالی جیل لائے گئے،ہر روز سینکڑوں افراد دیدار کے لیے جیل آتے اور سیال شریف کے سجادہ نشین صاحبزادہ حضرت محمد ضیاء الدین سیالوی بھی آپ سے ملنے میانوالی آئے۔اس کے علاوہ شاعر،بزرگ،بچے اوربوڑھے بھی دور دور سے آپ کی ایک جھلک دیکھنے کے لیے آتے۔
آخری ایام میں آپ نے اپنی بھاوج سے کہا:۔''بھابی! تو کہتی تھی میں اپنے لختِ جگر کو تیرا ہم زیب (شہ بالا) بنائوں گی اب تیرے وعدہ کا کیا ہوا؟۔۔بے اختیار موصوفہ کی زبان سے نکل گیا:۔''میں اپنا وعدہ ضرور نبھائوںگی۔ ''
خدا کی قدرت آپ کی شہادت کے تھوڑی مدت بعد نور احمد (بھتیجے)کا انتقال ہو گیا اور وہ سر کی طرف مدفون ہے۔
٠٣ اکتوبر کو آخری ملاقات کے لیے غازی علم الدین رحمتہ اللہ علیہ کے ورثا کو میانوالی جیل میں بلایا گیا تو انہیں جیل والوں سے معلوم ہوا کہ آج غازی صاحب بہت خوش ہیں،ورثا نے سبب دریافت کیا تو آپ نے فرمایا:۔''مجھے خواب میں حضرت موسی کا دیدار نصیب ہوا اور انھوں نے مجھے خوشخبری سنائی، اے علم الدین!تجھے مبارک ہو، ربِ غفور نے تیری قربانی قبول فرمالی ہے اور نبی آخرالزماں حضرت محمدۖ کے دربار میں تیرا تذکرہ کثرت سے ہوا کرتا ہے۔ ''لہذا اس پر خوش ہوں کہ میں جلد ہی دربارِ رسالتۖ میں پہنچ جائوں گا۔
غازی موصوف کے ورثا کو پانچ دستوں میں تقسیم کیا گیا،جو کہ ٤١ افراد فی دستہ پر مشتمل تھا،اس دن آپ روزے سے تھے اور ورثا سے کہا کہ کوئی بھی مجھے رو کر نہ ملے ورنہ میں اس سے نہیں ملوں گا بلکہ خوش و خرم ملے۔
پہلے دست کی قیادت محترم والدصاحب،دوسرے کی والدہ محترمہ، تیسرے کی بھائی جان اور چوتھے کی بہن نے قیادت کی جبکہ پانچواں دستہ دوستوں اور دور و نزدیک کے رشتہ داروں پر مشتمل تھا، غازی موصوف ان سے مسکراتے ہوئے ملتے اور اپنے مٹی کے پیالے سے سبھی کو دو دو گھونٹ پانی پلاتے ان کی خیریت دریافت کرتے اور ان کو نصیحتیں کرتے،اور یوں دو بجے ملاقات ختم ہو گئی حالانکہ ہزاروں لوگ ملاقات کرنے کے خواہش مند تھے۔اسی دن آپ نے سپر انٹینڈنٹ جیل کو مجسٹریٹ کی نگرانی میں وصیت لکھوائی اور کمشنر لاہور کے ذریعے آپ کے والد محترم کو پہنچائی گئی، وصیت تو لمبی ہے مگر اس کہ چند لائنیں آپ کے روبرو کرتا ہوں:
(وصیت)''گزارش ہے میرے سب رشتہ داروں کو تاکید کر دی جائے کہ مجھے پھانسی مل جانے سے ان کے سب گناہ بخشے نہیں جائیں گے بلکہ ہر ایک کے اپنے اپنے عمل ہی اس کو دوزخ سے بچا سکتے ہیں۔لہذا عمل نماز قائم رکھنا، میری قبر کا فرش دو فٹ اونچا اور٠٣ فٹ مربع ہو، قبر اندر سے کچی جبکہ باہر سے سنگِ مر مر سے مزین ہو، اور قبر کے اردگرد لکڑی کا جنگلہ والد بزرگوار اپنے ہاتھوں سے بنا ہوا لگائیں، تھڑے کے چاروں اطراف گلاب کے پودے لگائے جائیں، کنواں اور مسجد بھی تعمیر کی جائے اور جو آدمی میرے خاندان سے وفات پائے میری قبر کی دائیں طرف اس کی قبر بنائی جائے۔
میری لاش کے ساتھ ذکر اللہ ہو ضرور ہو، سر سے پگڑی کوئی نہ اتارے، میری قمیض جو عدالت میں ہے وہ میرے ماموں سراج دین کو، شلوار میرے بھائی محمد دین اور اس کے علاوہ چار چیزیں اور ہیں، پگڑی تایا مہر دین، قمیض ململ چھوٹے تایا نور دین کرتی جھنڈو برادر پھجے کو اور سلیپر بھائی غلام محمد کو دیئے جائیں۔سب مسلمانوں کو اسلام و علیکم، میرا حال اخبار میں ضرور نکلوایا جائے نماز کی سب مسلمانوں کو تلقین، میں نے یہ قتل اس واسطے کیا تھا کہ اس نے میرے آقا کی (نعوذباللہ) بے عزتی کی تھی،
535