صاحبوں آجکل ہر طرف سیاسی بحث مباحثوں میں عوام میں سیاسی شعور آجانے کی بازگشت سنائی دیتی ہے ،جسکا ذمہ دار عمران خان کو ٹہرایا جاتا ہے کہ انکی وجہ سے عوام نے سیاست دانوں سے سوال جواب شروع کردییے ہیں ،کے انکے پیسہ کہاں سے آیا ،فلاں لوٹا کیوں بن گیا وغیرہ وغیرہ۔ہمارے معاشرے میں لوگ تو وہسے لمحوں میں ایکدوسرے پر الزام لگادیتے ہیں ،بنا جانچ پڑتال کے۔رہی شعور آجانے کی بات تو ایوب خان کے دور میں چینی کی قیمت بڑھنے پر خوب واویلہ مچا تھا ، مشہور انقلابی شاعر حبیب جالب بھی اپنی انقلابی شاعری سے انقلاب لاتے رہے۔اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ شعور یا سیاسی شعور کیا ہے ، اصل بات خود احتسابی ہے خود اپنی اخلاقیات اور حق و صداقت کی بات کرنا ہی شعور ہے ،اپنے نماہیندوں کو حق و صداقت کے معیار پر چننا ہی اصل شعور ہے،مگر ایک اہم مسئلہ یہ ہے کہ عوام میں ایکدوسرے کے خلاف الزامات کا ڈھنڈورا ہی اتنا پیٹا جاتا پے کہ عام آدمی جس کو اصل حقائق کا صحیح ادراک نہیں ہوتا وہ فیصلہ نہیں کرپاتا ،بہرحال شعوری بیداری ایک خوش آیند بات ہے لیکن اسکا واضح فرق اب تک صرف اتنا ہی نظر آیا ہے کہ ہر آدمی صحافی بن گیا ہے اور سوال پوچھ رہا ہے مگر مسئلہ حل نہیں ہورہا۔اگر عوامی شعوری بیداری ضروری ہے تو سیاستدانوں کی شعوری بیداری بھی ضروری بلکہ زیادہ ضروری پے کیونکہ عوامی مسائل صرف بنیادی نوعیت کے ہیں ، اقتدار کے مسائل کے حل کے لیے سیاست دانوں میں سیاسی شعوری بیداری ضروری ہے۔
245