پشاور سے ایک کوسٹر بذریعہ سوات موٹروے روانہ ہوئی تو اس کی منزل ضلع لوئر دیر کا صدر مقام تیمر گرہ تھا۔اس کوسٹر میں دو حقیقی بھائی رحیم الدین اور وقاص الدین بھی سفر کرر ہے تھے ۔ان کے پاس براجمان ایک مسافر نے سیاست اور حالات حاضرہ پر بحث چھیڑ دی۔دوران گفتگو،نوک جھونک اور تکرار بڑھتی چلی گئی ۔اس نے کہا ،میرا لیڈرسچ بول رہا ہے ،تمہارا لیڈر چور ہے ۔ہاتھا پائی شروع ہوئی تو دیگر مسافروں نے معاملہ رفع دفع کروانے کی کوشش کی ۔بات بظاہر ختم ہوگئی اور دونوں فریق اپنی نشستوں پر بیٹھ گئےمگر جس کا دعویٰ تھا کہ اس کا لیڈر سچا اور باقی سب جھوٹے ہیں ،اس نے سیاسی مخالفین کو سبق سکھانے کی ٹھان لی۔اس نے اپنے دوستوں اور ساتھیوں کو ٹیلیفون کرکے بلا لیا۔مسافر بس مردان کے قریب کاٹلنگ بائزئی انٹر چینج پہنچی تو ایک جتھے نے کوسٹرکو زبردستی روک لیا۔ان مشتعل افراد نے رحیم الدین اور وقاص الدین کو بس سے باہر نکال کر پیٹنا شروع کردیا۔حملہ آوروں میں سے ایک نے پستول نکال کر گولی چلادی یوں رحیم الدین موقع پر ہی قتل کردیا گیا جب کہ اس کا بھائی شدید زخمی حالت میں اسپتال پہنچا دیا گیا۔ مردان پولیس نے اس افسوسناک واقعہ کا مقدمہ درج کر لیا ۔یہ تو محض ایک سانحہ ہے جس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ نفرتوں کے جو بیج بوئے گئے ،وہ اب برگ و بار لارہے ہیں ۔
آپ کو یاد ہوگا ،کبھی پبلک ٹرانسپورٹ اور حجام کی دکان پریہ جملہ لکھا ہوتا تھا کہ سیاسی گفتگو کرنا منع ہے مگر اب لگتا ہے شاید اس طرح کا نوٹس ہر گھر ،محلے ،مسجد ،مندر ،ٹرین ،بس اور بازار میں آویزاں کرنا پڑے گا۔عمران خان کے عقیدت مندوں کااصرار تویہ ہے کہ انہوں نے خوف کے بت توڑ دیئے اورلوگوں کو بولنے کا شعور دیا ہے لیکن سچ یہ ہے کہ انہوں نے انتہا پسندی کی آمیزش کے ساتھ مذہبی بحث کی طرح سیاسی گفتگوکو بھی شجر ممنوعہ بنادیا ہے۔ان کے مقلدین اس لڑائی کو حق و باطل کا معرکہ سمجھ کر سیاسی مخالفین سے نبردآزما ہوتے ہیں ۔مذہبی اصطلاحات اور روایات کا حوالہ دیکر مشابہت و مماثلت پیدا کرنے کے چلن نے بردباری اور برداشت ختم کردی ہے۔
یہ کریڈٹ جناب عمران خان کو جاتا ہے کہ انہوںنے سیاست کو بے توقیر اوررسوا کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔مروت، وضع داری، لحاظ، شرم، حیا، رکھ رکھائو اور ظرف جیسی اقدار و روایات کو تبدیلی کے کچرا دان میں پھینک دیاگیا ہے۔ انحطاط کا یہ عالم ہے کہ سیاست جو کبھی اصولوں کا پیشہ ہوا کرتی تھی، اب ابوالفضولوں کا مشغلہ بن چکی ہے۔سیاست جو کسی دور میں نظریے، سوچ اور کردار سے عبارت تھی، اب تکرار،ماردھاڑ اور مخالفین پریلغار کے حوالے سے پہچانی جاتی ہے۔سیاست جو ماضی میںشعوری پختگی کی موثر تدبیر گردانی جاتی تھی اب طفلانہ پن اور ناپختگی کی سفیر سمجھی جاتی ہے۔آپ شایدسوچ رہے ہوں گے کہ پرانے زمانے کے سیاستدان بھی دودھ کے دھلے نہیں تھے۔ سرتسلیمِ خم، وہ رجالان سیاست بھی یکسر بے داغ نہیں تھے، ان کے ہاں بھی سیاسی چالیں چلنے اور مخالفین کو مات دینے کا رجحان تھامگر بصد احترام عرض کروں کہ ان کی کچھ حدود وقیود تھیں، اصول و ضوابط تھے، اقدار وروایات تھیں۔وہ کسی حادثے کی پیداوار نہیں تھے۔ وہ محض دشنام طراز،گردن فراز اور گفتار کے غازی نہیں تھے۔ایک ہی گھر میں مختلف سیاسی جماعتوں کے جیالے اور متوالے تب بھی ہوا کرتے تھے مگر بحث و تمحیص کے دوران آداب مجلس اور حفظ مراتب کا خیال رکھا جاتا تھا۔اب تو حالات یہ ہیں کہ گھر میں دستر خوان پر سیاسی گفتگو شروع ہوجائے تو تلخیاں پیدا ہوجاتی ہیں۔اب تو یہ تقسیم ہر طرف بہت واضح دکھائی دینے لگی ہے۔اساتذہ اور طلبہ میں خلیج حائل ہوگئی ہے۔صحافت کے شعبہ میں لکیر کھینچ دی گئی ہےیا آپ عمران خان کے ساتھ ہیں یا پھر عمران خان کے خلاف۔عدلیہ اور دفاعی ادارے اس تقسیم سے محفوظ نہیں رہے۔سیاسی کارکن ننگی تلواریں لےکر گھوم رہے ہیں۔جس طرح کبھی مذہبی مناظروں کے نتیجے میں ایک دوسرے کے خلاف فتوے جاری کرنے کا رجحان ہوا کرتا تھا ،بالکل اسی طرح اب سیاسی اختلاف کو غداری سے لنک کرنے کا چلن ہے۔چور ،ڈاکو،پٹواری،لفافہ تو بہت معمولی اور چھوٹے ہتھیار ہیں ،پانسہ پلٹتا دکھائی دے تو ملک دشمنی او ر غداری کا لیبل چسپاں کر دیا جاتا ہے۔
چند ماہ پہلے میں نے ایک واٹس ایپ گروپ میں تجویز دی کہ اگر اس پلیٹ فارم کی مقصدیت کو برقرار رکھنا ہے تو سیاسی نوعیت کے تبصروں پر پابندی عائد کردی جائے کیونکہ اس طرح کی گفتگو سے تلخیاں پیدا ہوتی ہیں۔ایک صاحب نے طنزیہ انداز میں جواب دیا ،’’ان کے کہنے کا مقصد ہے چور کو چور نہ کہیں۔‘‘ایک خاتون نے فرمایا،’’یہ تجویز دینے والے صاحب پٹواری لگتے ہیں۔‘‘یعنی اگر آپ شرانگیزی اور ناگوار صورتحال سے بچنے کیلئے بحث سے گریز کی راہ اپنائیں تو گویا آپ بھی چور ہیں یا پھر ان کے ہمنوا۔مگراس آپا دھاپی سے دامن بچانے کا بہترین نسخہ یہی ہے کہ اس طرح کی طعنہ زنی پر مشتعل نہ ہوں اور سیاسی و مذہبی بحث سے گریز کریں۔خاموشی بھی ایک طرز اظہار ہے ۔شیکسپیئر کے مشہور ڈرامے ’’میکبیتھ‘‘کی طرز پر بالی ووڈ کے بے مثل پروڈیوسر، ہدایت کار اور موسیقار وشال بھردواج نے2003ء میں ’’مقبول‘‘کے نام سے جو فلم بنائی، اس کے ایک منظر میں میاں کا کردار نباہنے والے منفرد اداکار پنکج کپور ایک باتونی چھوکرے کو نصیحت کرتے ہوئے کہتے ہیں:’’میاں پان کھایا کرو ،منہ بند رہتا ہے۔‘‘آپ کو پان چبانے کا شوق نہیں تو پھر ہر طرف یہ جملہ جلی حروف میں آویزاں کرنے کے بعد خود بھی ذہن نشین کرلیجئے کہ سیاسی گفتگو کرنا منع ہے۔