96

ڈوبتے پاکستان میں اپنے چیف کی تلاش

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل گذشتہ ہفتے سیلاب سے ہوئی تباہ کاری دیکھنے پاکستان آئے تھے۔ انھوں نے فرمایا کہ انھوں نے اپنی پوری زندگی میں اتنی تباہی کبھی نہیں دیکھی اور پاکستان کو جو نقصان پہنچا ہے وہ ناقابل تصور ہے۔

دنیا میں خوراک کی فراہمی اور آٹے دال کے بھاؤ پر نظر رکھنے والے ماہرین چیخ چیخ کر دستک دے رہے ہیں کہ پاکستان جیسا وہ ملک، جسے فخر تھا کہ ہمارے ہاں بھوکا کوئی نہیں سوتا، اب بھوک اس کے دروازے پر دستک دے رہی ہے۔

سیلاب زدہ علاقوں سے رپورٹنگ کرنے والے صحافی دہائیاں دے رہے ہیں کہ جو پالتو جانور اس آفت سے بچ گئے ہیں، ان کے لیے چارہ ختم ہو رہا ہے۔

 

ہمارے حکمران، اپوزیشن والے اور میڈیا اس بات پر سینگ پھنسا کر بیٹھے ہیں کہ جنرل باجوہ کو اگر ایک چھوٹی موٹی ایکسٹینشن اور دے دی جائے تو موجودہ سیاسی بحران کا شاید حل نکل آئے۔

بحث صرف اس پر جاری ہے کہ تھوڑی دی جائے، پوری دی جائے یا پھر کوئی اپنی پسند کا چیف ڈھونڈ لیا جائے۔

پاکستانی فوج میں سے اپنی پسند کا چیف تلاش کرنا ہماری پرانی عادت ہے اور اپنی پسند کا چیف تلاش کرنے کے بعد اس کے ہاتھوں بے عزت ہونا اس سے بھی پرانی عادت ہے۔

بھٹو نے اپنی پسند کا ضیا ڈھونڈا، اسی نے بھٹو کو پھانسی پر لٹکایا۔ نواز شریف نے اپنی پسند کے کتنے لگائے اور انھوں نے نواز شریف کے ساتھ کیا کیا، سب کو یاد ہو گا۔ عمران خان کی چیف چننے کی باری آئی تو اپوزیشن کو اتنا ڈرا دیا گیا کہ انھوں نے جیسے تیسے سازش کر کے عمران خان کو گھر بھیج دیا۔

ابھی بھی بحث صرف اس بات پر ہے کہ اگلا چیف عمران خان منتخب کرے گا یا عمران خان کے دشمن۔ اس بات پر کوئی بحث نظر نہیں آئی کہ ہماری بھوکی بھینسوں، بکریوں کو چارہ کون پہنچائے گا۔

جنرل باجوہ، جن کی چھوٹی یا بڑی ایکسٹینشن کے گرد موجودہ بحث گھوم رہی ہے، وہ بھی فرماتے ہیں کہ ان کے پاس بھی ایک جامع ماحولیاتی منصوبہ ہے۔ پتا نہیں چھ سال تک انھوں نے اسے قوم سے کیوں چھپائے رکھا۔

دفاعی امور کے بارے میں میرا علم صفر ہے۔ آئندہ چیف بننے کے امیدواروں کے نام بھی نہیں پتا لیکن اتنا جاتنا ہوں کہ یہ پانچ سات سے زیادہ نہیں ہو سکتے۔ پاکستان کا وزیراعظم چاہے کوئی بھی ہو، اس کو ان ہی پانچ سات میں سے ایک چننا ہو گا۔

عمران خان کل 110 فیصد وٹ لے کر بھی وزیراعظم بن جائیں تو وہ بھی یہ نہیں کر سکتے کہ تھوڑی بہت پریڈ تو ابرار الحق کو بھی آتی ہے، چلیں انھیں چیف بنا دیتے ہیں یا مولانا طارق جمیل ملک کا بڑا درد رکھتے ہیں، انھیں سپہ سالار مان لیتے ہیں۔ (ویسے سپہ سالار جو بھی بنے گا، اسے مومن ہونے کا سرٹیفیکیٹ مولانا طارق جمیل خود ہی دے دیں گے)

اور جو پانچ سات ہیں، یہ بھی نہیں ہو سکتا کہ ان میں سے کوئی کمیونسٹ پارٹی کا خفیہ رکن نکل آئے یا گھر میں چھپ کر استاد بڑے غلام علی خان کو سنتا ہو۔ جس کو بھی بناؤ گے وہ تگڑا ہو گا، محب وطن ہو گا اور اگرچہ میں نہ نام جانتا ہوں، نہ ذات پات نہ تجربہ لیکن حلف لے کر ابھی سے آپ کو بتا سکتا ہوں کہ وہ ایک پروفیشنل فوجی ہو گا، جس کو عسکری امور کا وسیع تجربہ ہو گا اور جس کو سیاسی معاملات میں کوئی دلچسپی نہ ہو گی۔

جو آج حکومت میں ہیں وہ اپوزیشن میں تھے، جو ملک کو آزاد کرانے چلے ہیں، وہ حکمران تھے۔ ایک دوسرے کی شکل دیکھنا بھی گوارا نہیں کرتے تھے۔ جنرل باجوہ کی ایکسٹینشن کا مسئلہ آیا تو سر جوڑ کر بیٹھے اور صرف 13 سے 17 منٹ کے اند مسئلہ حل کر لیا۔ اس وقت ملک میں کوئی قدرتی آفت بھی نہیں تھی۔

اب بار بار یاد کرانا پڑتا ہے کہ حضور ایک تہائی ملک ڈوبا ہوا ہے، لاکھوں لوگ سڑکوں کے کنارے کھلے آسمان تلے پڑے ہیں، اگر جنرل باجوہ کو ایکسٹینشن دینی ہے، چھوٹی دینی ہے، بڑی دینی ہے، دیں لیکن اپنا وقت ضائع نہ کریں۔

بشکریہ ہم سب