400

سب رنگ ہمارے

.ہم خوش قسمتی سے اس خطے میں رہتے ہیں, جہاں ہر رنگ کاموسم اپنے اندر ایک خاص کشش لیے ہمارے سامنے آتا ہے۔ اب جونہی سردی ختم ہوئی تو بہار جیسے خوش رنگ موسم کو فضا نے خوش آمدید کہا۔چپکے سے ڈالی ڈالی پھول کھلنے لگے ۔

 

 انہی کھلتے پھولوں کے موسم میں اب شجر کاری مہم کا آغاز ہونے کو ہے۔ سبز پاکستان مہم کے دوران وزیراعظم عمران خان نے اپنی تقریر جو کہ شجر کاری سے متعلق تھی میں کہا اللّہ کریم نے پاکستان کو 12 موسم دیئے ہیں. پہلے تو میری ناقص عقل یہ بات سمجھنے سے قاصر رہی ۔ تنقید میں مکمل ہوم ورک کے بعد ہی کرتی ہوں۔ اس لیے اس پر سرچ شروع کی۔

اس سوال کا جواب مجھے عام مالی سے مل گیا۔ اس کے مطابق ہمارے بارہ دیسی مہینے ہی ہمارے موسم ہیں .اس دوران کاشت ہونے والی فصل، پودے وغیرہ مختلف ہیں

بارہ موسم /بارہ مہینے

 

۱- چیت (بہار کا موسم)

۲- وساکھ (گرم سرد ملا جلا)

۳-جیٹھ (گرم اور لو چلنے کا مہینہ) ،

4-ہاڑ (گرم مرطوب پری مون سون) ،

۵- ساون (حبس زدہ گرم فل مون سون) ،

6۔ بھادوں (معتدل ھلکی مون سون بارشیں) ،

7- اسو یا اسوج (معتدل) ،

8- کاتک (ہلکی سردی) ،

۹- مگھر (سرد )

10۔ پوہ ( معتدل سخت سردی) ،

۱۱- ماہ یا ماگھ (سخت سردی ) ،

۱2- پھاگن (نارمل سردی سرد خشک ھوائیں)

 

اور ہر موسم / ماہ کی سبزیاں اور پھل رنگ اور ذائقہ بھی مختلف رکھتے ہیں.  ہنسنے والوں کو یقیناََ اپنی جہالت پر افسوس ہونا چاہیے۔ سب سے ضروری چیز اب ایک ہفتہ اینکر مہنگائی کو بھول کر موسم پر پروگرام کریں گے کیونکہ خان کو سیاست نہیں آتی. جی ہاں خان کو سیاست نہیں آتی لیکن اس کے پاس شعور اور علم کی طاقت ہے اس لیے ہمیں باہر کی بریانی سے گھر کے بسکٹ ہی بھلے۔میں اتنا جانتی ہوں وہ جیسا بھی ہے بشری خامیاں تو ہر کسی میں موجود ہیں, دھوکے باز نہیں ۔ وہ عوام کو مار مارکے سیدھا تو ضرور کرے گا۔ لندن بھاگ کر مشتبہ لوگوں سے ملاقاتیں نہیں ۔ اس کا یہ رنگ ہی کافی ہے .

 

ہمارے یہاں بات کرنے والا زیادہ اہم ہوتا ہے بہ نسبت اس کے کہ کیا بات کس تناظر میں کہی جا رہی ہے۔ اگر ہم کسی پر تنقید کر بھی رہے ہیں تو اسے براۓ اصلاح کریں نا کہ استہزا۶ کا پہلو نمایاں ہو۔ 

 

بات جب رنگوں کی ہو اور ایک بھولا بسرا رنگوں سے ھرا بسنت تہوار یادوں میں تازہ ہو جاتا ہے۔ اس سال سیالکوٹیوں نے یادوں سے نکال کر تازہ کرنے کا تاریخی  فیصلہ کیا۔ انتہائی  افسوس اور جہالت کا مقام ہے کہ کل کے مناۓ تہوار میں بسنت کے رنگوں سے نمایاں  رنگ عوام کے پروں سے اترتا دیکھا گیا۔ قانون کے محافظوںکو جس طرح لکار کر کہا جا رہا تھا ”آؤ دم ہے تو پکڑ کے دیکھاؤ“ ان سوشل میڈیا ویڈیوز نے تربیت کے تمام رنگ واضح کر دیۓ ۔ پہلی بات جب ہمیں پابند کیا جاتا ہے تو ہماری حد محدود ہو جاتی ہے۔ اس کو توڑنا سرخ لائن کراس کرنا ہے۔ جب لائن ہھی کراس ہو گئی تو بھلائی کی امید کہاں کی ...اور کس سے کریں۔

 

بات صرف یہ ہے رنگ کوئی بھی ہو کردار کی مہک اس میں چار چاند لگاتی ہے۔ اس لیے ذات پر چڑھا مصنوعی رنگ بہت جلد اتر کر اصلی رنگ نمایاں کر دیتا ہے۔ رنگوں کی یہ کہانی ازل سے ابد تک امر کر دی گئی ہے ۔اس لیے اب کی بہار میں چھپے سب رنگ ہمارے۔۔۔۔۔

بشکریہ اردو کالمز