300

میں نہیں مانتا میں نہیں جانتا۔ 

چینی قوم چائنا میں آباد ہے، ایرانی سرزمین پر ایرانی قوم متمکن ہے، انگریز ہی انگلستان کے خشکی و تری کے مالک و مختار ہے اور فرانس کے آشیانوں میں فرانسیسی ہی گوشہ نشین ہیں لیکن پاکستان کے طول وعرض میں سندھی، بلوچی، پنجابی اور پختون قومیں رہتی ہیں براہ کرم آپ یہ جاننے کی زحمت نہ کریں کہ پاکستانی قوم کہا رہتی ہیں آپ کونسا مطالعہ پاکستان کا پرچہ دینے بیٹھے ہیں۔

پاکستان میں شیعہ سنی کے بعد " میں دیوبندی ہوں" اور" میں بریلوی ہوں" کے نعرے لگائیں جاتے ہیں لیکن اس سے کیا فرق پڑتا ہے کہ دیوبند اور بریلی تو ہندوستان کے شہر ہیں کیوں کہ کون یہاں کسی کا شناختی کارڈ چیک کرتا ہے۔

یہ سراسر الزام ہے کہ پاکستان میں مینڈیٹ کا احترام نہیں کیا جاتا، مینڈیٹ ہی کا احترام کرتے ہوئے ہم نے مشرقی پاکستان کو بنگلہ دیش بنایا تھا اور بنگالیوں پر یہ احسان الگ کیا تھا کہ انہیں شہادت جیسے عظیم منصب پر فائز ہونے کا موقع فراہم کیا۔

پاکستان میں پارلیمنٹ تب بالادست ہوتی ہے جب صدارتی کرسی پر ضیاء الحق یا پرویز مشرف جیسے ___ براجمان ہو ورنہ جمہوریت میں تو اکثر اسمبلیاں تحلیل ہوئی ہیں یا وزرائے اعظم عدالتوں کے ذریعے گھر بھیجے گئے ہیں۔

میدان سیاست پاکستان میں میدان جنگ سے زیادہ خونریز ثابت ہوا ہے کیوں کہ انڈیا سے لڑی گئی جنگوں میں آج تک ایک بھی جرنیل شہید نہیں ہوا اور میدان سیاست میں تو بہت سارے سیاست دان اور قومی لیڈر شہادت کا جام نوش کر چکے ہیں۔

بھئی ہم مان گئے کہ اب پاکستان میں عدالت کے فیصلے پر برملا تنقید کرنا توہین عدالت کے زمرے میں نہیں آتا کیوں کہ مشرف کے خلاف فیصلہ آنے پر ریاستی اداروں نے کھل کر فیصلے کی مخالفت کی لیکن کسی کو توہینِ عدالت کا نوٹس نہیں ملا۔

عزیزانِ من۔ آپ ضرور سوچ رہے ہو گے کہ ایسے بے ربط اور طنزو مزاحیہ جملوں سے آج ملک صاحب کے تحریر کا موضوع بحث کیا ہے۔ تو عرض یہ ہے کہ آج بندہ ناچیز، حقیر، فقیر، پر تقصیر ایک مرتبہ پھر عالی جناب عمران احمد خان نیازی کی نام نہاد حکومت پر تجزیہ کرنے کی جسارت کررہا ہے۔ وہ یہ کہ لگ بھگ ڈیڑھ سال سے جنابِ نیازی نشے کی حالت میں اقتدار کے کرسی پر براجمان ہیں۔ اگر چہ جنابِ نیازی منشیات کا بکثرت استعمال کرتے ہیں لیکن یہاں نشے سے میری مراد طاقت کا وہ نشہ ہے جو ریاستی ادارے انہیں فراہم کررہا ہے۔ ملک میں موجودہ بگاڑ کی وجہ جنابِ نیازی کی وہ اصلاحی اقدامات ہیں جو خالص ملک و قوم کی خاطر اٹھائی گئی۔ جن میں سب سے پہلے وزیراعظم ہاؤس کے مکینوں کو بھینسوں کے خالص دودھ سے محروم کرکے بازار کا تازہ دودھ فراہم کرنے کے لیے بھینسوں کو اس قیمت پر فروخت کیا گیا جس کی دگنی رقم اس خبر کی تشہیر پر خرچ کی گئی ۔ نشے کی حالت میں اٹھائی گئی اصلاحی اقدامات کے سلسلے میں جنابِ نیازی نے بےجا ٹیکس بڑھا کر ملک کی تمام صنعتوں بشمول ریئل اسٹیٹ کو منجمد کردیا اور عوام کو انڈوں، مرغیوں اور کٹھو جیسے نئی صنعتوں کے میدان میں گھوڑے دوڑانے کی ترغیب دی گئی۔ جس کے نتیجے میں لاکھوں لوگ اپنی نوکریوں سے ہاتھ دھو بیٹھے اور آج کل گھروں میں آرام سے بیٹھے دو وقت کا کھانا کم کرکے ایک وقت کرنے پر غور کررہے ہیں۔ طاقت کے نشے سے سرشار جنابِ نیازی نے تخت نشینی کے بعد ملک کی باگ ڈور دوسری جماعتوں کے بھگوڑوں اور اپنے نااہل ہم نشینو کے حوالے کرکے خود بنفس نفیس اپنے سیاسی مخالفین کے تعاقب میں میدان میں نکلے اور عارضی کامیابی کے جھنڈے گاڑتے ہوئے مخالفین کو اسیر کرنے میں کامیاب ہوگئے۔ جس پر بے وقوف عوام نے پچھلی حکومت کے دیے ہوئے نوالے کو منہ میں چباتے ہوئے" جندہ باد" کا نعرہ لگایا۔ سیاسی مخالفین کی سرکوبی کے بعد جنابِ نیازی نے جب اپنے حواریوں کی کارکردگی کا جائزہ لیا تو سب سے زیادہ ناگفتہ بہ حالت وزارت خزانہ کی تھی حالاں کہ اس منصب پر اس نے وقت کے سقراط و بقراط پلس جنابِ اسد عمر کو فائز کیا تھا۔ جنابِ نیازی کی نظر میں اسد عمر ہی وہ ناخدا تھا جو ملک کی معیشت کی کشتی کو پار لگا سکتا تھا لیکن مواخذہ کرنے پر اسد عمر نے داستان کچھ یوں بیان فرمائی کہ جنابِ نیازی آپ نے تخت نشینی کے فوراً بعد تلوار بےنیام کرکے جنگ کا علم بلند کیا جو آپ کا کام نہیں تھا ، مجبوراً پہرے دارہی کو خزانہ کی رکھوالی کرنے پڑی۔ بہرحال جیسا لکھنے والوں نے لکھا تھا بلکل اسی سکرپٹ کے مطابق جنابِ اسد عمر کو ہٹا کر پرانے جادوگر جنابِ حفیظ شیخ کو وزارتِ خزانہ کا قلمدان سپرد کیا گیا۔ اور یہی جنابِ نیازی کی ہار کی ابتداء تھی کیوں کہ آئی ایم ایف کے در پر فقیر نیاز لینے گیا لیکن نیازی نے اب تک خودکشی نہیں کی۔ جنابِ نیازی کے زباں پر گھبرانا نہیں اور میں کسی کو نہیں چھوڑوں گا، جیسے کلمات کا ورد تسلسل کے ساتھ جاری ہے لیکن پھر بھی بے روزگاری، مہنگائی اور بدامنی جیسے بلاؤں کا نزول ختم نہیں ہورہا۔ شاید اس کی وجہ یہ کہ عالی جناب کے وزراء یکسوئی کے ساتھ شاملِ ورد نہیں ہے۔ جنابِ نیازی کی حکومت میں ٹماٹر کا فقدان آیا تواس پر وزراء نے سنجیدگی سے غور وفکر کرکے اور اپنی اجتہادی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے دہی کو ٹماٹر کا متبادل قرار دے کر امت پر عظیم احسان فرمایا۔ جب کبھی عوام کو آٹے کے مصنوعی بحران سے سابقہ ہوا تو سلطنتِ نیازیہ کے اہل منطق نے اس بحران کا ناقابل یقین حل نکالا اور عوام کو دو کے بجائے ایک اور ایک کے بجائے آدھی روٹی کھانے کا زبردست منطق پڑھایا۔

عزیزانِ من۔ اگر آپ کو اب ان کی قابلیت میں شک ہے تو ازراہِ تفنن ان کے وہ کارنامے ملاحظہ فرمائیں جو انہوں نے عوام کا پیسہ بچانے کی خاطر انجام دیں ہیں۔ وہ یہ ہے کہ جس حساب سے انہوں نے گندم افغانستان کو فروخت کیا اس سے کئی گنا مہنگی قیمت پر خرید کر اپنے عوام کو پیش کریں گے۔ اور عوام پر بوجھ کم کرنے کے لیے بجائے اس کے کہ مہنگائی کی وجہ جان کر اس کا سد باب کریں یہ اشیائے خوردونوش پر سبسڈی دیکر خزانے پر مزید بوجھ ڈال رہے ہیں تاکہ جلدی سے یہ ملک دیوالیہ ہو جائے۔ پچھلے دس سالوں میں ملک جتنا مقروض ہوا اس سے زیادہ تو آپ نے ڈیڑھ سال میں مقروض کردیا۔ جنابِ نیازی قوم کی لوٹی ہوئی دولت جن سے وصول کرنی تھی وہ تو جیلوں سے چھوٹ گئے کیا ان سے کچھ وصول ہوا ؟ اور وہ جو آپ کا دعویٰ تھا کہ روزانہ اربوں روپے کی کرپشن ہورہی ہے اب تو نہیں ہورہی ذرا بتائیں کہ وہ پیسے کہا ہے؟  ٹیکسوں میں اضافے کے  اور آئی ایم ایف سے آپ نے جو قرضہ لیا ہے ان پیسوں سے بتائیں آپ نے کہا پل بنایا، کہا سڑکیں تعمیر کیں،اور کہا ہسپتال، کالج یا یونیورسٹی کی بنیاد رکھی؟  جنابِ نیازی آپ کب تک عوام کو یہ باور کرائیں گے کہ یہاں چور ہے وہاں چور ہے بھئی 45 فیصد شوگر ملیں تو آپ کے خسرو اور ترین کی ہیں بتائیں پھر کیسے چینی 45 روپے سے 80 روپے کلو تک پہنچ گئی؟ اگر واقعی آپ کے صفوں میں چور نہیں ہے تو پھر آپ کی حکومت پشاور بی آر ٹی کی تحقیقات میں کیوں روکاوٹ بن رہی ہیں؟ اگر آپ چور نہیں ہے تو آپ کی حکومت فارن فنڈنگ کیس کے فیصلے سے کیوں خوفزدہ ہیں؟

عزیزانِ من۔ میں بھی ازراہِ تفنن آپ کی حکومت آپ کی حکومت کہہ رہا ہوں ورنہ اس بے چارے کی حکومت کہا ہے۔ حکومت تو اس کی ہوتی ہے جس کے ہاتھ میں ساری وزارتیں ہو مثلاً آپ وزارتِ خزانہ کو لیجئے جو حفیظ شیخ کے پاس ہے جسے کرائے پہ رکھا گیا ہے اگر آپ وزارتِ داخلہ کی بات کریں تو وہ اعجاز شاہ کے کنٹرول میں ہیں جو ریٹائر فوجی تو مگر پی ٹی آئی کا رکن نہیں ہے ، قانون کی وزارت ایم کیو ایم کے فروغ نسیم کے پاس ہے اور وزارتِ ریلوے کا بیڑا شیخ رشید کے ہاتھوں غرق ہو رہا ہے۔ اہم وزارتوں میں سے وزارتِ خارجہ آپ کے پاس ہے اس کی بھی سرگزشت کچھ یوں ہے کہ کشمیر آپ کے ہاتھوں سے نکل چکا ہے اور آپ ایران اور سعودی عرب کی 1400 سالہ دشمنی کو دوستی میں بدلنے کاخواب دیکھ رہے ہیں ۔

عزیزانِ من۔ میں نے ایک روح فرسا حقیقت آپ کے گوش گزار کی ہے کہ پچھلے ڈیڑھ سال سے عمران نیازی نشے کی حالت میں اقتدار کی گاڑی چلا رہے ہیں اور اس کے پرائے اور کرائے کے وزیر دیمک کی طرح اس ملک کی معیشت چاٹ کر کھوکھلا کر چکے ہیں اگر اس فتنہ کی بروقت اور فی الفور سرکوبی نہیں کی گئی تو یہ سلیکٹیڈ حکمران پے در پے ہماری گردنوں میں آئی ایم ایف کے طوق ڈالتا رہے گا اور ہمیں محکوم بناتا رہے گا۔

 جس حکومت کی اپنی نشستیں ہو کم

بیساکھیاں بنی ہو مینگل و ایم کیو ایم

قاضی و قمر، گر بن جائے پدر

ان میں نہ ہیں معیشت چلانے کا دم

ایسی کٹھ پُتلی کو، ایسی تبدیلی کو

میں نہیں مانتا میں نہیں جانتا۔

بشکریہ اردو کالمز