مسفر معارج کے واقعات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے معروف سیرت نگار ضیاء الامت حضرت جسٹس پیر محمد کرم شاہ الازہری اپنی کتاب ضیا ء النبی میں تحریر کرتے ہیں ''اللہ جل مجدہ کے عبد منیب اور حبیب لبیب صل اللہ علیہ والہ وسلم کے جو آنسو طائف کی زمین پر ٹپکے ،خون ناب کے جو معطر قطرے گلشن اسلام کی آبیاری کے لیے جسم اطہر سے بہے،شان کریمی نے انہیں موتی سمجھ کے چن لیا۔اور دعا کے لیے اٹھنے والے ہاتھ کیا اٹھے کہ قدرت کی بندہ نوازیوں نے روشن مسقبل کی کلید ان مبارک ہاتھوں میں تھما دی ۔آئے روز الطاف الہی کا یوں مسلسل ظہور ہونے لگا کہ خاطرعاطر پر حزن و ملال کا جو غبار پڑا تھاوہ صاف ہوتا گیا۔آخر وہ مبارک رات آئی جبکہ دست قدرت نے اپنے مادی معنوی اور روحانی خزانوں کے منہ کھول دیے۔''(ضیاء النبی جلد دوم)معراج کا یہ مبارک سفر علماء کرام کی اکثریت کی رائے کے مطابق 27رجب المرجب کو پیش آیا ۔جب ایک طرف تو حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالی عنہا اور آپ کے شفیق چچا حضرت ابو طالب کی وفات ہو چکی تھی تو دوسری طرف سفر طائف نے آپکی طبعیت پر ملال کی کیفیت طاری کر دی تھی۔اس موقع پر اللہ کریم نے اپنے حبیب صل اللہ علیہ والہ وسلم پر اپنی رحمتوں اور انعامات کی بارش کر دی۔اور دیدار الہی کی دولت سے شاد کام فرمایا۔
غیر ضروری طوالت سے بچتے ہوئے اختصار کے ساتھ سفر معراج کا تزکرہ کریں گے۔اور پھر اسی سفر کے دورن پیش آنے والے واقعات کا اجمالی ذکر کر کے اختتام کی طرف بڑھیں گے ۔مختلف کتب سیرت اور تفاسیر قرآن کے مطالعہ کے بعد اس سفر مبارک کا مختصر تزکرہ کچھ اس طرح سے ہے کہ حضوراکرم صل اللہ علیہ والہ وسلم ایک رات خانہ کعبہ میں حطیم کے پاس آرام فرما تھے کہ حضرت جبرائیل امین اپکی خدمت میں حاضر ہوئے۔آپکو بیدار کیا اور عرض کی اللہ کریم آپ سے ملاقات کے مشتاق ہیں۔پھر حضور کو زم زم کے کنویں کے نزدیک لایا گیا۔آپ کے سینہ اقدس کو چاک کر کے ایمان و حکمت سے بھرا ۔ایک تشت اسی سینہ اقدس میں انڈیلا گیا اور پھر سینہ مبارک کو پہلے والی حالت پر درست کر دیا گیا۔حرم سے جب اپ باھر تشریف لائے تو آپکی سواری کے لیے ایک جانور حاضر کیا گیا۔جسکو براق کہا جاتا ہے۔اسکی سرعت رفتار کا یہ عالم تھا کہ جہاں اسکی نظر پڑتی وہاں اسکے قدم پڑتے۔حضور اکرم صل اللہ علیہ والہ وسلم اس پر سوار ہو کر بیت المقدس تشریف لائے جہاں پر تمام انبیا ء کرام صف آرا ہو کر آپکا استقبال اور پیشوائی کے لیے تیار کھڑے تھے۔حضور اکرم صل اللہ علیہ والہ وسلم کی اقتدا میں سب نے نماز ادا کی۔پھر مختلف آسمانوں کی طرف عروج شروع ہوا۔پہلے آسمان پر ابوال آدم حضرت آدم علیہ السلام اور ساتویں آسمان پر اپنے جد کریم حضرت ابراہیم خلیل اللہ سے ملاقات ہوئی۔انہوں نے اپنے فرزند دلبند کو خوش آمدید کہا۔ضیاء النبی میں ہے کہ اس وقت آپ بیت المعمور کے ساتھ ٹیک لگائے ہوئے تھے۔حضور اکرم صل اللہ علیہ والہ وسلم آگے بڑھے اور سدرة المنتہی کی طرف سفر شروع کیا۔اپنی کیفیات کا اظہار قرآن کریم کی سورة نجم کی آیات نمبر8-9-10میں ہوا(ترجمہ)پھر وہ قریب ہوا۔اور قریب ہوا یہاں تک کہ صرف دو کمانوںکے برابر بلکہ اس سے بھی کم فاصلہ رہ گیا۔پس وحی کی اللہ نے اپنے محبوب بندے کی طرف جو وحی کی(ضیاء القرآن) اسی مقام پر دیگر نعمتوں اور انعامات کے ساتھ ساتھ نماز کی نعمت بھی عطا ہوئی۔ابتداء میں 50نمازوں کا حکم ہوا۔حضرت موسی کی گزارش پر حضور اکرم صل اللہ علیہ والہ وسلم کئی مرتبہ رب کریم کی بارگاہ میں حاضر ہوئے اور نمازوں کی تخفیف کی درخواست پیش کرتے رہے۔رب کریم قبول فرماتا رہا۔یہاں تک کہ حکم ہوا نمازیں پانچ رہیں گی لیکن ثواب پچاس نمازوں کا ملتا رہے گا۔
پھر آپ صل اللہ علیہ والہ وسلم واپس زمین کی طرف تشریف لائے۔یہاں پر یہ عالم تھا کہ ابھی رات کا وقت تھا۔صبح کے کہیں اثار نہیں تھے۔آپ کا سینہ مبارک گرم تھا۔اور یوں لگتا تھا کہ آپ ابھی تشریف لے گئے تھے۔اور ابھی واپس تشریف لے آئے۔یہاں واقع معراج کو انتہائی اختصار کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔اسکی جزئیات اور تفصیلات ۔طولانی ہیں جسکی یہاں گنجائش نہیں ہے۔تفصیل کے لیے ضیا ء القرآن جلدپنجم اور ضیا ء النبی جلد دوم کا مطالعہ مفید رہے گا۔اس اختصار سے واضح ہوتا ہے کہ سفر معراج کے تین مراحل تھے اول مسجد الحرام سے مسجد اقصی تک اس سفر میں مسلم شریف کی حدیث نمبر 2375کے مطابق معراج کی شب جب حضور صل اللہ علیہ والہ وسلم حضرت موسی کی قبر سے گزرے تو آپ اپنی قبر سے کھڑے ہو کر نماز ادا فرما رہے تھے ۔اسی مرحلہ میں حضور نے تمام انبیاء کرام سے ملاقاتیں کیںاور دوسرا مرحلہ بیت المقدس سے لے کر سدرة المنتہی تک ہے۔اسی مرحلہ میں ہر آسمان پرانبیاء اور فرشتوں نے آپ کا شایان شان استقبال کیا۔مختلف انبیا ء کرام سے ملاقاتیں کیں۔معراج کا تیسرا اور سب سے اہم مرحلہ سدرة المنتہی سے لے کر بارگاہ ربوبیت میں حاضری تک کا تھا۔انہیںحالات کو سورة نجم میں بیان کیا گیا ہے ۔اس واقع معراج پر سب سے خوب صورت تبصرہ حضرت امام جعفر صادق رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا ۔آپ سے سفر معراج کے متعلق پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا کہ بے شک اللہ کریم زمان و مکان کی قید سے پاک ہے ۔لیکن وہ چاہتا تھا کہ فرشتوں اورآسمانوں کے باسیوں کو اپنے پیغمبر کی تشریف آوری کا شرف بخشے۔اور انہیں اسکی زیارت کے شرف سے مشور کرئے۔نیز آپ صل اللہ علیہ والہ وسلم کواپنی عظمت کے ۔عجائبات۔ دیکھائے۔تاکہ واپس آکر وہ لوگوں کو بیان کریں (تفسیربرھان جلد 2صحفہ400)
دور حاضر میں سر سید احمد خان نے اس واقع کو خواب کا واقعہ قرار دیا لیکن حضور ضیا ء الامت نے ضیا ء النبی میں اس کا مفصل دلائل کے ساتھ رد فرمایا۔میں ان تفصیلات میں جانے کے بغیر صرف انکی واقعات کا زکرمناسب سمجھتا ہوں جو بطور امت ہمارے لیے نجات اور بخشش کا باعث ہے۔
غیبت کرنے والوں کا تزکرہ: حضور اکرم صل اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا معراج کی رات میرا گزر ان لوگوں پر ہوا جنکے ناخن تانبے کے تھے اور وہ ان سے ہی اپنے سینوں اور چہروں کو چھیل رہے تھے میں نے پوچھا یہ کون لوگ ہیں تو فرمایا یہ آپکی امت کے وہ لوگ ہیں جو غیبت کرتے اور انکی بے ابروئی میں لگے رہتے تھے۔
سود کھانے والوں کا بیان:حضور اکرم صل اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا میرا گزرایسے لوگوں سے ہوا جنکے پیٹ اتنے بڑھے ہوئے تھے جتنے انسانوں کے ۔رہنے۔ والے گھر ۔ ان میں سانپ اور ۔بچھو۔۔ جو ان کے پیٹ سے نظر آ رہے تھے میں نے دریافت کیا کہ یہ کون لوگ ہیں؟حضرت جبرائیل نے عرض کی یہ وہ لوگ ہیں جو سود کھاتے ہیں اور سود کا کاروبار کرتے ہیں۔
زانی مرد اور عورتوں کا تزکرہ:آپ صل اللہ علیہ والہ وسلم کا گزر ایسی قوم سے ہوا جن کے سامنے ایک ھانڈی میں پکا ہوا گوشت تھا اور دوسری ھانڈی میں سڑا ہوا گوشت تھا ۔لیکن وہ لوگ پکا ہوا۔۔ گوشت کے بجائے گلا سڑا گوشت کھا رہے تھے۔سرکار دو عالم صل اللہ علیہ والہ وسلم نے پوچھا لہ یہ کون لوگ ہیں تو جبرائیل نے عرض کی یا رسول اللہ صل اللہ علیہ والہ وسلم یہ وہ لوگ ہیں جن کے پاس ۔طیب ا۔۔ اور حلال عورتیں تھیںلیکن اسکے باوجود وہ ۔فحشوں ۔ عورتوں کے ساتھ ۔رات بسر۔۔ کرتے تھے۔
امانتوں میں خیانت کرنے والوںکا زکر:آپ صل اللہ علیہ والہ وسلم کا گزر ایک ایسی قوم سے ہوا جنہوں نے لکڑیوں کے بھاری گھٹے باندھ رکھے تھے اور ان میں اٹھانے کی ہمت نہ تھی اور ان میں مزید لکڑیاں ان گھٹوں میں شامل کر رہے تھے۔ حضور صل اللہ علیہ والہ وسلم نے دریافت کیا یہ کون لوگ ہیں؟ تو جبرائیل نے عرض کی یا رسول اللہ صل اللہ علیہ والہ وسلم یہ وہ لوگ ہیں جو لوگوں کی امانتیں اپنے پاس رکھتے تھے لیکن واپس نہیں کرتے تھے اور مزید امانتیں اپنے پاس رکھ لیتے تھے۔اور صحیح طور پر امانتیں ادا کرنے میں تساھل سے کام لیتے تھے۔
بے عمل علماء کا تزکرہ: آپ صل اللہ علیہ والہ وسلم کا گزر ایسی قوم سے ہوا جنکی زبانیں اور باچھیں لوہے کی کینچیوں سے ۔۔۔ سے کاٹی جا رہی تھی۔جبرائیل سے پوچھا یہ کون لوگ ہیں تو انہوں نے عرض کی یا رسول اللہ صل اللہ علیہ والہ وسلم یہ وہ امت کے بے عمل علماء ہیں جو خود تو لوگوں کو ۔نصحیت۔۔ کرتے تھے لیکن خود اس پر عمل نہیں کرتے تھے۔اس طرح انہی لوگوں کے درمیان ایک بوڑھے شخص اور ایک بوڑھی عورت نے آپکو متوجہ کرنا چاہا لیکن حضرت جبرائیل نے اپکو متوجہ ہونے سے روک دیا ۔پوچھنے پر بتایا بوڑھا مرد شیطان تھا اور بوڑھی عورت دنیا تھی ۔آپ نے شیطان اور دنیا سے اعراذ کر کے اپنا سفر جاری رکھیں۔
خوش نصیب جنتیوں کا ۔۔۔۔کا تزکرہ:
آپ صل اللہ علیہ والہ وسلم کا گزر ایک ایسی قوم سے ہوا جو ایک ہی دن میں فصل کاشت کرتی اور اسی دن پھل اٹھا لیتی۔جبرائیل نے عرض کی یا رسول اللہ صل اللہ علیہ والہ وسلم یہ وہ لوگ ہیں جو اللہ کی راہ میں جھاد کرنے والے ہیں ۔انکی ایک نیکی 700نیکیو ں سے بڑھ کر ہوجاتی ہے۔اور اللہ کی راہ میںجو۔خرچ کرتے ہیں اللہ انکو نعم البدل عطا فرماتا ہے۔پھر آپ نے انبیاء کی نماز کی امات کروائی جس کا تزکرہ امام زرکانی نے تفصیل سے بیان کیا ہے۔۔ واقع معراج دراصل آقائے دو عالم صل اللہ علیہ والہ وسلم کے عروج کا آغاز تھا۔عام الحزن کے خاتمے کا سال تھا۔واقع معراج نے کفار مکہ کے دلوں میں حضور اکرم صل اللہ علیہ والہ وسلم کی دھاک بیٹھا دی۔شب معراج نے کفار مکہ کے دلوں میں دھاک بیٹھا دی۔شب معراج کو شب بیداری کرنا ،اس میں نوافل پڑھنا،قرآن کریم کی تلاوت کرنا،آقائے دو عالم صل اللہ علیہ والہ وسلم پر درود پڑھنا عظیم فائدہ کا باعث ہے۔اور اگلے دن روزہ رکھناصلحائے امت کا معمول رہاہے۔اللہ تعالی ہم سب کو واقع معراج کے تمام پہلوں کو سمجھنے اورور بیان کی گئی باتوں پر عمل کرنے کی توفیق عطا کرئے۔
551
