دنیا کے امیر ترین اور موثر ترین افراد میں شامل بل گیٹس کی پاکستان آمد کوئی معمولی واقعہ نہیں. گزشتہ کئی دہائیوں سے پاکستان جن حالات سے دوچار ہے ان کے پیش نظر اس سطح کی شخصیت کی پاکستان آمد یقینا ایک بہت بڑی کامیابی ہے۔پاکستان کے اندرونی بیرونی حالات کو خراب کرنے میں بھارت اور افغانستان میں بیٹھے پاکستان دشمن عناصر جو دن رات ہمارے ملک کا عالمی امیج خراب کرنے میں مصروف ہیں ان کی خواہشات کے علی الرغم اگر اس طرح کی سرگرمی پاکستان میں ہوتی ہے
تو اس کو خوش قسمتی کے سوا اور کچھ نہیں کہا جاسکتا۔ایک ایسا ملک جہاں پر بیرونی پراپیگنڈے کے زیر اثر غیر ملکی کھلاڑی ملک میں کھیلنے سے احتراز کریں،جہاں ائی ایم ایف اور ورلڈ بینک کے نمائندے پاکستان آکر مذاکرات کرنے کے بجائے دبئی میں بیٹھنا مناسب سمجھیں،جہاں سرمایہ کار سرمایہ کاری کرنا تو کجا یہاں آنے سے بھی اجتناب کرتے ہیں،مخصوص حالات کی وجہ سے عالمی ٹورزم نہ ہونے کے برابر ہو،پاکستان کی حکومت اور سکیورٹی ادارے چومکھی لڑائی لڑنے میں مصروف ہوں،اور اس لڑائی کے باعث پاکستان کے اندرونی حالات عدم استحکام کا شکار ہو،ان سارے اسباب کے باوجود بل گیٹس کی پاکستان آمد یقینا پاکستانیوں کے لئے ایک اچھی خبر اور تازہ ہوا کے جھونکے کی مانند ہے
،ہمارے کان سیاسی خبریں سننے کے اس قدر عادی ہوچکے ہیں کہ یہاں پر اس نوعیت کی خوش کن خبر جگہ نہیں بنا پاتی،یا پھر اگر جگہ ملے تو اس کی عمر ایک دن سے زیادہ نہیں ہوتی،جہاں اخبارات کی شہ سرخیاں ایک دوسرے کو دھمکیاں دینے پر مبنی ہو،جب نیوز چینلز کے بلیٹن صرف سننی خیز خبروں کو ترجیح دیتے ہوں وہاں اتنی بڑی شخصیت کی آمد کی خبر کا دب جانا کوئی غیر معمولی بات نہیں،لیکن میں سمجھتا ہوں کہ اس گھٹا ٹوپ اندھیرے میں اس جیسی شخصیت کی پاکستان آمد نے ہمارے دلوں میں امیدوں کے چراغ روشن کر دیئے۔وہ یہاں پر اگرچہ صرف چند گھنٹے موجود رہے لیکن ان کے چند گھنٹے ہمارے خارجہ پالیسی کے بزرجمہروں کی کئی سالہ محنت پر بھاری ہیں۔اگرچہ بظاہر انہوں نے یہاں پر کسی بڑے منصوبے کا اعلان نہیں لیکن اس کے باوجود ان کی آمد سے غیر ملکی سرمایہ کاروں کو تحفظ اور تقویت کا احساس ضرور ملا ہے۔ ایک رپورٹ
کے مطابق اپنی دولت کے اعتبار سے بل گیٹس اس وقت دنیا میں ایلون مسک، جیف بیزوس اور مارک زکربرگ کے بعد چوتھے نمبر پر ہیں مگر پھر بھی آپ کو یہ پڑھ کر حیرت ہو گی کہ ان کی دولت دنیا کے 130ممالک کے بجٹ سے زیادہ ہے اور ان ممالک میں پاکستان بھی شامل ہے۔ اس وقت بل گیٹس کی دولت کا تخمینہ 131ارب 40کروڑ ڈالر لگایا جاتا ہے جبکہ پاکستان کا سال 2021ـ22ئکا بجٹ محض 48ارب ڈالر ہے۔بل گیٹس کو پاکستان آمد پر سربراہ مملکت کا پروٹوکول دیا گیا جس کے وہ حقدار تھے انہیں ہلالِ پاکستان کا اعزاز بھی دیا گیا جو کہ قابل تحسین ہے۔اعلی ترین سطح پر ان کی عزت افزائی اور پیشوائی کے لئے کوئی کسر نہ چھوڑی گئی۔لیکن اس کے باوجود ان کی آمد سے مزید فائدہ اٹھایا جاسکتا تھا۔انفارمیشن ٹیکنالوجی سے وابستہ نمایاں ترین افراد کی بل گیٹس سے ملاقات کا اہتمام کروانا چاہیے تھا۔انفارمیشن ٹیکنالوجی کے طلباء کی بھی ملاقات کا بندوبست کیا جا سکتا تھا۔
پاکستان کی اعلی ترین یونیورسٹی کے طلباء سے آن لائن مکالمہ بھی ممکن بنایا جا سکتا تھا۔اور اگر اس طرح کے نمایاں ترین افراد بل گیٹس سے مطالبہ کرتے کہ وہ پاکستان میں بھی مائیکروسافٹ کے حوالے سے سرمایہ کاری کریں تو ان کی بات کو بھی نظر انداز کرنا ممکن نہیں تھا۔ہم اپنی معیشت کی بحالی کے لیے ملکوں ملکوں بھیک مانگنے پر مجبور ہیں،دوست ممالک کے دروازے کھٹکھٹا چکے ہیں،تو اگر پاکستان کی نمایاں ترین اور موثر شخصیات بل گیٹس سرمایہ کاری کا مطالبہ کرتی تو یقیناً وہ اس پر عمل درآمد کا وعدہ کرتا۔انفارمیشن ٹیکنالوجی سے وابستہ طلبہ و طالبات کو اگر بل گیٹس سے ملاقات کا موقع فراہم کیا جاتا تو نہ صرف ان طلبہ کی حوصلہ افزائی ہوتی بلکہ پاکستان کے طلباء کے ساتھ اس کا براہ راست رابطہ بھی ممکن ہو جاتا جو آگے چل کر پاکستان کے لیے انتہائی خوشی کا باعث بنتا۔لیکن ان سب باتوں کے باوجود میں سمجھتا ہوں کہ ان کا آنا ہی پاکستان کے لیے کافی ہے۔جس طرح وزیراعظم نے اپنا ذاتی اثر و رسوخ اور شخصیت کا استعمال کرتے ہوئے انہیں پاکستان آنے پر آمادہ کیا مستقبل میں ایلن مسک اور مارک زکربرگ کو بھی پاکستان آنے پر آمادہ کرنے کی راہ ہموار ہوئی ہے۔
انفارمیشن ٹیکنالوجی اس وقت دنیا میں سب سے زیادہ مؤثر سمجھا جانے والا مضمون ہے اس رجحان کو دیکھتے ہوئے میں یہ عرض کرنا چاہوں گا کہ ہمارے ماہرین تعلیم کو اپنے نصاب اور انداز تدریس پر ایک مرتبہ پھر غور و فکر کرنے کی ضرورت ہے۔ایک ایسا نصاب تعلیم ہماری ضرورت جو ہمارے بچوں کو عالمی تقاضوں سے ہم آہنگ بنانا سکے۔بدقسمتی سے ہمارے موجودہ نظام تعلیم میں جس طرح کا انداز تدریس اختیار کیا جا رہا ہے وہاں پر سو فیصد نمبر حاصل کرنے والے افراد تو جابجا ملتے ہیں لیکن اہل اور قابل افراد کی تعداد انگلیوں پر گنی جا سکتی ہے۔ہمیں اس بات پر غور کرنا چاہیے کہ اتنا طویل عرصہ گزرنے کے باوجود پاکستان کی یونیورسٹیاں کوئی ایسا سائنس دان پیدا کیوں نہیں کر سکی جس کی عالمی سطح پر پذیرائی کی جا سکے،ہماری یونیورسٹیوں سے فارغ التحصیل ہونے والے سائنسدان کوئی ایک بھی ایسی ایجاد کیوں نہیں کرسکے جس سے انسانیت کو نفع پہنچ سکے اور وہ عالمی معیار کے مطابق بھی ہو،اگر پی ایچ ڈی افراد کی تعداد بننے پر آئیں تو شاید ان کی تعداد لاکھوں میں نکلے لیکن ایسی تحقیقی کتب کا وجود عنقا ہوچکا ہے کہ جن کو صحیح معنوں تحقیقی کتاب کہا جا سکے،گیارہ سو میں سے گیارہ سو نمبر لینے کا مخیر العقول کارنامہ سرانجام دینے والے طلبہ و طالبات عملی زندگی میں جاتے ہیں تو وہاں کے تقاضوں سے ہم آہنگ کیوں نہیں ہو سکتے،بیوروکریسی سمیت ہر شعبہ زندگی میں تعلق داخل ہونے والے ہمارے طلبا و طالبات اہلیت سے کیوں محروم ہیں،یہاں کی یونیورسٹیوں میں نمایاں پوزیشن یہاں تک کہ گولڈ میڈل حاصل کرنے والے طلبہ و طالبات بین الاقوامی یونیورسٹیوں میں جگہ نہیں بنا پاتے،ہمارے طلبہ کے تحقیقی مقالہ جات عالمی یونیورسٹیوں میں قابل قبول کیوں نہیں ہوتے؟اب وقت آگیا ہے کہ نظام تدریس کا از سر نو جائزہ لیا جاے۔جو یونیورسٹی عالمی معیار کے سائننس دان اور موجد تیار نہ کرے انکے لیے سزاوار جزا کا نظام وضع کیا جاے۔اس حکمت عملی کے ساتھ تحقیق کیلے فنڈز کا اجراء ممکن بنایا جاے اور پھر ان سے نتائج اخذ کیے جائیں۔ہمارا ہمسایہ ملک خلا میں راکٹ بھیجے کی کوشش کر چکا ہے لیکن ہمارے خلائی تحقیق کے ادارے کیا کر رہے؟کسی کو کچھ پتا نہیں۔کیا بل گیٹس جیسے لوگ صرف یورپ میں پیدا ہو سکتے ہیں؟ہماری دھرتی اتنی بانجھ تو نہیں،ہمارے ماہرین تعلیم اور لیڈران کو اس طرف توجہ کرنے کی ضرورت ہے،
