بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح ؒ نے جس کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ قرار دیا تھاآج 5فروری2020 اس کشمیر میں لاک ڈاﺅن کو185دن گزر گئے بھارتی افواج بے گناہ کشمیری عوام پر دن رات مظالم کے پہاڑ گرا رہی ہیں ہزاروں مرد وخواتین بچے جیلوں میں قید انسانیت سوز درد ناک سزائیں بھگت رہے ہیں مسلمانوں کی رہائشوں،دوکانوں، پلازے،مساجد، مدارس، قیمتی مال موشی، کھیتوں، فصلوںکو نذر آتش کیا جا رہا ہے باپ کے سامنے بیٹی کی عزت تاتار اور ماﺅں کے سامنے جوان بیٹوں کا قتل عام کیا جارہا ہے
بیماروں کو علاج معالجے کی سہولیات دینے کے بجائے تیل چھڑک کر آگ لگائی جارہی ہے تحریک آزادی کشمیر لازوال قربانیوں کی اپنی مثال آپ ہے دنیا میں اتنی بڑی آزادی کی تحریک نہ چلی اور نہ ہی کسی ملک و قوم نے آزادی کے لئے اتنی بڑی مالی ،جانی قربانیاں دیں ہیںتحریک آزادی میں کشمیر کی خواتین نے اپنی عزتوں کو قربان کر دیا بھارتی افواج کی بر بریت کشمیریوں کی جد وجہد آزادی کو ختم نہ کر سکی بھارتی افواج معصوم کشمیری عوام کی آزادی کی آواز کو جتنا دبا رہی ہے اتنا ہی کشمیر ی عوام کی آزادی کی منزل قریب آرہی ہے کشمیری عوام نے گزشتہ 70برسوں سے بھارتی افواج کے مظالم کو برداشت کیا اور صبر و تحمل سے آزادی کی جدو جہد جاری رکھی اس کی مثال پوری دنیا میں نہیں ملتی بھارت کشمیریوں کی نسل کشی کئی سالوں سے کر رہا ہے
مگر عالمی برادری نے آنکھیں بند کر رکھی ہیںکشمیری بھارتی افواج کا بدترین تشدد برداشت کررہے ہیں اس سفاکیت اور بر بریت میں انکی جانیں قربان ہورہی ہیںمگر کشمیری عوام بھارتی تسلط قبول کرنے کے لئے تیار نہیں ہیںآج کشمیریوں کی جدو جہد اپنے عروج پر ہے بھارت جس طرح بھوکھلاہٹ کا شکار ہے کشمیریوں کی آزادی کی منزل قریب ہے پوری پاکستانی قوم کو متحد ہوکر کشمیریوں کے شانہ بشانہ کھڑے ہونا چائیے اور ملکر اقوام متحدہ پر زور دینا چائیے کہ اپنی منظور کردہ قراردادوں پر سنجیدگی سے عمل کرائے
آج پاکستان کی سالمیت کو کمزور کرنے اورکشمیر کو اپنا اٹوٹ انگ قرار دینے کی بھارتی گھناﺅنی سازشوں کا بھر پور جواب دینا ہو گا اور آج کے دن کی مناسبت سے اس بات کی ضرورت ہے
کہ حکمران کشمیری عوام کا پاکستان کے ساتھ الحاق کا جذبہ کبھی کم نہ ہونے دیں اس حوالے سے وزیر اعظم پاکستان عمران خان کشمیر ایشو پر پہلے ہی مضبوط موقف اختیار کر چکے ہیںکہ بھارت کے ساتھ دو طرفہ مذاکرات سے ہی کشمیر سمیت تما م حل طلب مسائل کا حل ممکن ہے بھارت اور پاکستان کے تعلقات کشمیر کی وجہ سے ہیں اگر بھارت کشمیر ایشو پر بات نہیں کرتا تو پاکستان کو بھی بھارت کے ہر کام کا بائیکاٹ کرنا چائیے کشمیر کی آزادی ہماری بقاءکی ضمانت اور کشمیر بنے گا پاکستان کا ماٹو تکمیل پاکستان کی علامت ہے آج یوم یکجہتی کشمیر اس جذبے کے ساتھ منایا جائے کہ کشمیر عوام کی منزل یقینی ہو جائے۔