353

         دسمبر

 

دسمبر کے گزر جانے سے پہلے

تم لوٹ آنا

تمہیں کیسے یاد دلائیں ہم

یہ ہجر کا موسم جب بھی آتا ہے

سرد ہوائیں اور زندگی کی گہرے اندھیرے

تنہائیوں کا رقص

بے چین کروٹیں 

گہری لمبی راتیں

دیواروں پر لرزاں یادیں

آنکھوں کو دھندلائے رکھتی ہیں

اور آنکھوں میں ٹھہری بےبسی بے چین کیے رکھتی ہے

دسمبر کے واپس آتے ہی ہم اس طرح

ماضی کی یادوں میں ڈوب جاتے ہیں 

تمہارے ساتھ کی مہک

تمہاری یادوں کی لہر

ماضی کا والہانہ پن

مستقبل کا ہجر

کھلی کھڑکی

چاند کا ہماری بے بسی پر مسکرانا

میری چاہت کی آنکھوں میں تیرتے آنسو 

کسی بےوفا کی راہ میں

مچلتے یاد کی جگنو

کتنی ازیت دیتے ہیں

تمہیں واپس بلاتے ہیں

دسمبر کے گزر جانے سے پہلے

تم لوٹ آنا۔

بشکریہ اردو کالمز