دسمبر کے گزر جانے سے پہلے
تم لوٹ آنا
تمہیں کیسے یاد دلائیں ہم
یہ ہجر کا موسم جب بھی آتا ہے
سرد ہوائیں اور زندگی کی گہرے اندھیرے
تنہائیوں کا رقص
بے چین کروٹیں
گہری لمبی راتیں
دیواروں پر لرزاں یادیں
آنکھوں کو دھندلائے رکھتی ہیں
اور آنکھوں میں ٹھہری بےبسی بے چین کیے رکھتی ہے
دسمبر کے واپس آتے ہی ہم اس طرح
ماضی کی یادوں میں ڈوب جاتے ہیں
تمہارے ساتھ کی مہک
تمہاری یادوں کی لہر
ماضی کا والہانہ پن
مستقبل کا ہجر
کھلی کھڑکی
چاند کا ہماری بے بسی پر مسکرانا
میری چاہت کی آنکھوں میں تیرتے آنسو
کسی بےوفا کی راہ میں
مچلتے یاد کی جگنو
کتنی ازیت دیتے ہیں
تمہیں واپس بلاتے ہیں
دسمبر کے گزر جانے سے پہلے
تم لوٹ آنا۔