399

خواتین، بازار اور جنسی ہراسانی کہ روک تھام

یہ حقیقت ہے کہ ہمارے شہر بازار میں خواتین محفوظ نہیں۔ 

اگر میں اس کا سماجی تجزیہ کر کے بتائوں تو اس کی وجہ یہ ہے کہ 

وہ جگہ جہاں انسان زیادہ ہوں، لوگوں کی آپس میں زیادہ جان پہچان نہ ہو، زیادہ تر لوگوں کا انٹرایکشن (میل جول) ٹرشری یعنی نامانوس نوعیت کا ہو وہاں عورت محفوظ نہیں رہتی۔  

تاہم یہ تھیوری بھی ابھی ناقص ہے۔

آپ کالج کی چھٹی کے اوقات میں پشاور شہر کے بازاروں میں درجنوں کی تعداد میں کالج بوائز اور سکول بوائز کے گروپ دیکھیں گے جو کہ چھٹی کے بعد بازار میں صرف اور صرف اس نیت سے گھوم پھر رہے ہوتے ہیں کہ وہاں پر عورتوں کو تاڑیں اور موقع ملے تو کندھا مار کر آگے نکل جائیں اور جو زرا زیادہ " بہادر " قسم کے ہوتے ہیں وہ ہراسمنٹ کی حد تک چلے جاتے ہیں۔ ہراسمنٹ کے لفظ میں باقی کہانی پنہاں ہے جو میں کہنا چاہتا ہوں۔ 

یہ میں فلپائن کی بات نہیں کر رہا بلکہ آپ کے پشاور شہر کی بات کر رہا ہوں۔ پشاور کے بازار، مینا بازار، کوچی بازار، کریم پوری بازار، چوک شادی پیر، ہشتنگری، فقیر آباد پل وغیرہ، یہ وہ علاقے ہیں جہاں اس قسم کا مشاہدہ تقریبا روز چلنے والوں کو دیکھنے کو ملتا ہے۔ 

ہاں خاتون کے ساتھ مرد ہو تو اس کے ساتھ گزارا کیا جاتا ہے۔ 

ایسے میں قصوروار ہر بار خواتین کو قرار دینا نہ صرف ناانصافی ہے بلکہ ظالم، جابر، مکار، اور ناہنجار کی طرف داری کے مصداق ہے۔ 

نقاب شدہ خواتین کے پیچھے پیچھے میلوں تک جانا۔ ان ہی کے ساتھ چینگچی پر آگے بیٹھنا، ان کے تانگے یا رکشہ کے ساتھ ساتھ اپنی بائیک چلانا، ان کی گود میں اپنا نمبر پھینکنا، آوازیں کسنا۔ یہ سب ہر روز کا معمول ہے بھئی یہاں کے بازاروں میں۔ 

کبوتر کی طرح آنکھیں بند کرنے سے کچھ نہیں ہونا۔ اپنے بیٹوں کہ تربیت کا خیال رکھئے۔ دنیا گول ہے۔ گھوم پھر کر آپ کہ بہن بیٹی کے ساتھ بھی یہی کچھ ہو سکتا ہے۔ 

ایسے میں ان بازاروں میں موجود تاجروں کی انجمنوں کا یہ فرض بنتا ہے کہ لڑکوں کے گروپس پر کڑی نظر رکھیں تاکہ خواتین خود کو محفوظ سمجھ کر وہاں شاپنگ کر سکیں۔

کیا اس کی وجہ ٹک ٹاک ہے؟ 

اس موضوع پر ایک جگہ بحث ہوئی جس پر میرا نقطہ نظر تھوڑا مختلف ہے۔ 

 

جب ٹیک ٹاک نہیں تھا تب بھی یہی حال تھا شہر بازار کا۔

 

پہلے ہم نے ٹی وی کو بدنام کیا کہ ٹی وی نے نئی نسل کو خراب کر دہا۔ 

پھر وہ سی آر آیا تو جس کے گھر وی سی آر ہوتا تو گویا وہ تو بالکل ہی مدر پدر آزاد "روسیان دی".

 

 پھر سی ڈی پلیئر آیا تو وہ بدنام، 

 

پھر اس کے بعد کیبل آئی جو ابھی تک بدنام ہے۔

 

 فیس بک وغیرہ کے آنے کے بعد وہ بدنام۔ اب تک ٹاک بدنام۔ 

 

یعنی پچھلے 50 سالوں میں ٹی وی، وی سی آر، سی ڈی پلیئر، کیبل نیٹ ورک، فیس بک، ٹک ٹاک وغیرہ سب بدنام ہیں اور جو ان کو استعمال کر رہے ہیں تو وہ "جبری" معصوم ٹھرے؟ 

 

نا بھئی نا۔ میں یہ منطق نہیں مانتا۔ مسلہ تو لڑکوں میں ہے۔ 

 

میں ٹیکنالوجی کو الزام دینے میں احتیاط کا مشورہ دوں گا۔ 

 

میرے نزدیک شہر بازار میں خواتین کی ہراسانی کی وجہ ٹک ٹاک نہیں ہے۔ 

 

تاہم وجہ جو بھی ہے، معاشرے میں لڑکوں کے گروہ ہزاروں سال سے یہی کام کرتے آئے ہیں تاہم ، 

یہ انتظامیہ کا کام ہے کہ شہر بازار کو وہ کتنا محفوظ بنا سکتے ہیں اور بنائیں۔ 

 

آپ شاہی باغ یا شہر کے گورگٹڑھی پارک میں چلے جائیں۔ یہ دونوں پارک خواتین اور فیملیز کے لئے آپ کو انتہائی ناموزوں لگیں گے۔ لڑکوں کے جوق در جوق اور ان کی بھوکی نظریں۔ 

 

تاہم اگر آپ گیریژن پارک چلے جائیں تو آپ کو وہاں فیملی کے ساتھ کوئی مسلہ پیش نہیں ہوگا اور آپ خود کو قدرے محفوظ محسوس کریں گے۔ 

 

وجہ؟ 

 

گیریژن پارک میں انٹری پر آرمی والے کھڑے ہوتے ہیں اور پارک کے اندر بھی جگہ جگہ وردی پہنے بندوق تانے کھڑے رہتے ہیں اور گشت بھی کرتے رہتے ہیں جو کسی کا لحاظ نہیں کرتے۔ 

 

انتظامیہ کا چوکنا رہنا ہی کسی جگہ کو محفوظ بنا سکتا ہے۔

بشکریہ اردو کالمز