میں جب بھی اپنے مصنوعی کارپوریٹ سیکٹر کے ماحول سے گھبرا جاتا ہوں تو اس کلب کا رخ کرتا ہوں جہاں وہ اجلا اجلا سا بابا شام کو جاگنگ کرنے آتا ہے۔۔ اسے دیکھ کر ہی میری آدھی ٹیشن دور ہو جاتی ہے۔۔ اور اس کی مسکراہٹ میں جادو ہے۔۔ آج بھی میں دفتر میں فارن کوالیفائیڈ لبرل کولیگز کی ایک نئی علمی بحث سے ڈر کر میری گاڑی کا رخ بابے کے کلب کی طرف ہو گیا۔ میں جانتا تھا کہ جو باتیں آج ہوئی ہیں ان کا جواب بابے کے پاس نہیں ہو گا۔۔ مگر کچھ لمحے سکون ضرور مل جائے گا۔۔
شائد مجھے آتے ہوئے دیر ہو گئی تھی بابا واکنگ ٹریک پر نہیں تھا۔۔ میں جیم کی طرف گیا تو اسے پسینے میں شرابور وزن اٹھائے ہانپتے دیکھا۔۔ مجھے دیکھ کر وہ مسکرایا۔ میں قریب گیا تو دانت نکالنے لگے اور ہنس کر پوچھا کیا ہوا تیری بھوتھی آج بہت اتری ہوئی ہے۔۔
میں نے سر جھٹکتے ہوئے کہا کچھ نہیں ہے۔۔ یار بابے
وہ بولا۔۔ کہیں سے ڈر کر آ رہا ہے۔۔
میں نے اس کی آنکھوں میں دیکھا تو شرارت سے چمک رہی تھیں۔۔
یار بابے۔۔ کیا دنیا واقعی 2022 میں تباہ ہو جائے گی۔ ؟
بابا ہنسا ۔۔ اور بولا کس نے کہا ہے۔۔؟
یار بابے۔ ۔۔۔۔وہ ایک کتاب آئی ہے دفتر کے لڑکوں نے اس کو پڑھا ہے ۔۔ آج بحث ہو رہی تھی کہ "دنیا کو انوناکی 2022 میں تباہ کر دیں گے"
ہاہاہا۔۔ بابے نے قہقہ لگایا۔۔ اور بولا چل تو کافی شاپ میں میرا انتظار کر میں دس منٹ میں آتا ہوں۔
میں اچھا کہہ کر مڑا تو وہ وزن والی راڈ کے نیچے سے بولا۔۔ میرے لئے اورنج جوس اور اپنے لئے بڑا کپ کافی کا آڈر کر ۔۔۔
اوکے۔۔۔ میں نے بغیر اسے دیکھے سر ہلایا۔۔
میں نے کافی شاپ کے صوفے پر گرتے ہوئے نیم دراز حالت میں ویٹر کو کافی اور بابے کے جوس کا آڈر کیا۔۔ اور سگریٹ سلگا کر سوچنے لگا کہ کیا واقعی بنی نوع انسان 2022 میں اس کرہ ارض سے مٹ جائے گا؟؟؟
پتہ ہی نہیں چلا بابا جی کندھے پر تولیہ ڈالے پسینے کو خشک کرتے اندر آ گئے۔۔
میرے ساتھ صوفے پر بیٹھتے ہوئے کہنے لگے۔۔ یار بچہ۔۔ تو اگر خود بھی کچھ پڑھ لیا کرے تو اتنی ٹینشن نہ ہو تجھے۔۔ اس طرح کی ہزاروں کتابیں ہر سال چھپتی ہیں اور 1932 سے ہزاروں فلمیں بن چکی ہیں۔ جن میں زمین کے ختم ہونے یا بنی نوع انسان کے مٹ جانے یا کسی خلائی مخلوق کے زمین پر حملہ آور ہونے کی داستانیں لکھی جاتی ہیں۔۔ نوجوان یہ منفی سوچ کے تھکی ہوئی ذہنیت کے لوگ ہیں۔ یہ تو جس کتاب کی بات کر رہا ہے اس کے مصنف کا نام Maximillien de Lafayette ہے اور کتاب کا نام ہے۔۔
"2022:WHAT WILL HAPPEN TO US WHEN THE ANUNNAKI RETURN TO
EARTH IN 2022?"
یہ کتاب شائد 2013 میں چھپی تھی۔۔ اور اب کسی پاکستانی لبرل کے ہاتھ لگ گئی ہے۔۔جو اب اپنی علمیت کے جھنڈے گاڑھنے لگا ہے ۔۔
میں چونک گیا۔۔ بابے یار ۔۔ میرا خیال تھا تجھے تو پتہ ہی نہیں ہو گا۔۔
بابے نے بیگ سے باڈی اسپرے نکالا اور اپنے اوپر چھڑکتے ہوئے بولا۔۔ یہ تمام مفروضے ہیں۔۔ تجھے انوناکی "ANUNNAKI " کے بارے میں علم ہے یہ کون ہیں ؟
نہیں۔۔۔ میں ہکلایا۔۔
بابے نے ایک فلک شگاف قہقہہ لگایا اور بولا۔۔ چل آج تجھے میں ایک مفروضہ سناتا ہوں ۔۔ اپنے ان پڑھے لکھے دوستوں سے کہنا کہ اس مفروضے کو علمیت سے رد کر دیں میں سب کو 5 اسٹار پارٹی دوں گا۔۔
میں صوفے پر سیدھا ہوتے ہوئے بولا۔۔وہ کیا ۔۔؟؟
بابا بولا۔۔ تمہیں علم ہے "ANUNNAKI" کیا ہے؟؟
نہیں۔۔ دوست بتا رہے تھے کہ یہ وہ فرشتے ہیں جو دنیا کی ابتداء سے بنی نوع انسان کو علم اور جدت سکھا رہے ہیں دنیا کو چلا رہے ہیں اور اب بھی ان کا عمل دخل دنیا میں ہے۔۔ اور انہیں ہماری دنیا کا ماحول اب پسند نہیں آ رہا تو اب وہ اسے پھر سے تباہ کر دیں گے۔۔ اور نئے انسانوں کو بسائیں گے۔۔
اس مرتبہ بابے کا چہرہ سنجیدہ ہو گیا۔ ۔۔۔
وہ بولا تم بالکل الٹ سمت میں جا رہے ہو۔۔ سنو۔۔ انوناکی کی سادہ اردو "دیوتا" کی ہے۔ یہ ان دیوتاوں کا سب سے پہلا ثبوت دنیا کی پہلی سلطنت اکیڈین "akkadian" کی تختیوں اور کھدائی سے برآمد ہونے والی میخی رسم الخط کے زریعے سے ملتا ہے۔۔ اور یہ آج سے کم وبیش 5 ہزار سال قدیم ہے۔ اور یہ ثبوت بھی اس لئے ملا ہے کہ اس سے قدیم زبانیں اور علامات سمجھنے کا ہمارے پاس اب کوئی ذریعہ نہیں ہے۔ انوناکی دو دیوتاوں "آن" An آسمانی اور "کی" ki زمینی دیوی کے باہم اختلاط سے پیدا ہونے والے خداؤں کا مجموعہ ہے۔ یعنی آسمانی دیوتا نے زمینی دیوی سے تعلقات بنائے تو جو دیوتاوں کی اولاد پیدا ہوئی انہیں انوناکی کہا جاتا ہے۔۔ ان کی تاریخ قدیم میسوپوٹیمیہ، مصر، اور بابل کے علاوہ ہندو مت میں بکثرت ملتی ہے۔ ان کی شکلیں جانور ( شیر ،لومڑی،بھیڑیا،ہاتھی ،بندر وغیرہ ) جیسی اور جسم مضبوط انسانوں جیسے ہوتے تھے۔ اگر تم اہرام مصر کی تصاویر دیکھو تو وہاں تمہیں اس طرح کی چیزیں بکثرت دکھائی دیں گی۔ اور ہندو مت میں بندر اور ہاتھی اور دوسری دیویا یا دیوتا جو ادھے انسان اور آدھے سانپ یا کوئی بھی جانور جیسے دکھتے ہوں گے۔۔ بقول ان تہذیبوں کے اور یونانی دیومالائی کہانیوں کے ان انوناکی دیوتاوں نے زمیں پر بسنے والی خواتین سے اپنے تعلقات استوار کئے اور ان کے زریعے سے زمین میں اپنی نسل بڑھائی۔۔ چونکہ دیوتاوں کی اولاد ہونے کے ناطے پیدا ہونے والے انسان زیادہ عقلمند اور طاقتور تھے اور انہیں انوناکیوں کی پشت پناہی بھی حاصل تھی لہذا بادشاہ یا حکمراں یہی لوگ بنے اور آج تک بن رہے ہیں۔ جن میں فرعون مصر کی کئی لاشوں اور ڈھانچوں کے سر غیر معمولی اور جسامت بھی غیر معمولی ہیں۔ بقول تمام قدیم مذاہب انسانی ترقی میں ان کا ہاتھ ہے ۔ انہیوں نے ہی ایسے ایسے کارنامے انجام دئے ہیں جن کو دیکھ کر آج بھی عقل دنگ رہ جاتی ہے۔۔ مثلا اہرام مصر ،ابولہول کا مجسمہ جس کی شکل تو عورت یا مرد جیسی ہے جسم شیر کی طرح اور دونوں جانب پر ہیں۔۔ اس کی لمبائی 189فٹ اور اونچائی 65فٹ کے قریب ہے۔ دور سے دیکھیں تو پہاڑ سا نظر آتا ہے۔ یہ مجسمہ تقریباً تین ہزار سال قبل مسیح ایک بڑی چٹان کو تراش کر بنایا گیا تھا لیکن اب جبکہ کاربن ڈیٹنگ( جس سے کسی بھی چیز کی اصل عمر کا اندازہ لگایا جاتا ہے) کے مطابق اس sphinx یا ابو الہول کے مجسمے کی عمر کم وبیش آج سے 8 لاکھ سال قدیم ہے۔۔ جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس زمانے میں بھی کوئی انتہائی سمجھدار اور عقلمند قوم آباد تھی۔۔ اور اس کے نچلے دھڑ پر پانی کے اثرات ایک بڑے طوفان کی اطلاع بھی دیتے ہیں جو غالبا طوفان نوح ہو سکتا ہے۔۔۔ اس طرح دیگر دیوتا اپنی ہیئت اور جسامت سے اپنے کام اور اقتدار کا اظہار کرتے نظر آتے ہیں۔۔
میری تو کافی دھری کی دھری رہ گئی۔۔۔ میرے منہ سے صرف اتنا نکلا ۔۔ یار بابے چھا گیا ہے۔۔۔۔!!!
وہ بولا اگے سن ابھی تو پارٹی شروع ہوئی ہے۔۔۔مجھ سے پوچھنے لگا کیا تم نے آرنلڈ کی فلم ٹرمینٹر کا پہلا پارٹ دیکھا ہے ۔۔ یہ 1984 میں ریلیز ہوئی تھی ۔۔ یہ فلم انوناکی کی مکمل کہانی جدید زبان اور اسلوب میں بیان کرتی ہے۔۔
جی۔۔ جی میں نےاس کے تمام پارٹ دیکھے ہیں۔۔ مین نے اثبات میں سر ہلایا۔۔
انوناکی یا دیوتاوں کا زکر صرف قدیم داستانوں ہی میں نہی ملتا بلکہ یہ بائبل اور یہودیوں کی کتاب genesis میں بھی ملتا ہے۔۔ جسے کتاب ابتداء آفرینش کہا جاتا ہے۔۔ اور اسی طرح ٹرمینٹر کی تیسرے سیکوئل کا نام بھی لوگوں کو بیوقوف بنانے کو "genisys " رکھا گیا جس کی عجیب توجیہہ پیش کی گئیں۔۔
ہوا یوں کہ 1945 یا 46 میں چند غریب چرواہے یروشلم سے مشرق کی جانب صحرائے یہودا میں اپنی بکریاں چرا رہے تھے۔ وقت گزاری کے لئے انہوں نے سامنے پہاڑیوں پر سب سے دور پتھر مارنے کی شرط رکھی۔۔ اچانک ایک پتھر ایک پہاڑی شگاف کے اندر اس طرح سے گرا کہ آواز سے یوں محسوس ہوا جیسے کسی بڑے ہال یا گہرے کنوئیں میں پتھر گرتا ہے۔ لڑکوں نے جا کر دیکھا تو وہاں ایک غار تھی۔ اور اس میں مٹی کے مرتبان رکھے تھے جو سب محفوظ تھے مگر ایک ٹوٹا ہوا تھا جس سے کاغذ یا پرانے قریم کپڑے نما کچھ باہر نکلا ہوا تھا۔۔ لڑکوں نے علاقے کے لوگوں کو بتایا جس پر پتہ چلا کہ یہ حضرت عیسی علیہ السلام سے کم وبیش 5 سو سال پرانے مذہبی تحریری نسخے ہیں ۔۔ جو book of Enoch یا "کتاب اخنوخ" کی اصل مکمل شکل ہے۔۔ اخنوخ اسلام میں حضرت ادریس علیہ السلام کو کہا جاتا ہے۔ اور اس کتاب کا صحرا ئے یہودا جو کہ یروشلم کے قریب ہے اس بات کو ظاہر کرتا تھا کہ بائبل دراصل تورات یا تلمود یا old testament جو یہودیوں کی کتاب ہے اس کی نقل ہے ۔۔ لہذا بائبل میں book of enoch کا صرف سرسری زکر ہے جبکہ اصل کتاب تو اسرئیلوں نے 1946 میں غاروں سے ڈھونڈ نکالیں۔ جس میں حضرت ادریس علیہ السلام کا مکمل آسمانی سفر تمام جزئیات کے ساتھ موجود ہے جو کہ صرف یہودیوں کا خاصہ ہے۔۔ ان تمام نسخہ جات کو dead sea scrolls کا نام دیا گیا۔۔ اور اب تحقیق سے ثابت ہو رہا ہے کہ یہ سب کچھ جعلی تھا۔۔ لیکن تب تک تقریبا تمام دنیا میں اس کا چرچا بحیثیت کتاب اخنوخ یا ادریس علیہ السلام کا آسمانی سفر کے طور پر ہو چکا تھا۔۔ جس میں آسمان میں موجود رب نے کچھ فرشتوں جن کی تعدد 36 یا کچھ سو ہے کی ڈیوٹی لگائی کہ زمین پر مخلوقات پر نظر رکھیں انہیں watchers کا نام دیا گیا ۔۔ وہ فرشتے جب زمین پر آئے تو یہاں موجود حسین خواتین کے دیوانے ہو گئے۔ اور کئی بہک گئے۔ ان فرشتوں کی اس حرکت پر انہیں آسمانی خدا نے اسمان سے نکال دیا ۔ انہیں "Fallen angels" کا نام دیا گیا۔۔ یہ جب زمین پر آئے اور خواتین سے تعلق قائم کیا تو اس کے نتیجے میں جو اولاد پیدا ہوئی وہ انتہائی طاقتور، عظیم الجثہ، اور عقلمند ترین ٹھہری۔۔ اور اسی کے ہاتھ زمین کا اقتدار آتا چلا گیا۔۔
تو!!! اس کا Annunaki سے کیا تعلق ہوا ۔۔ میں نے صوفے پر کروٹ بدلتے ہوئے پوچھا۔۔۔
بابا سٹپٹا گیا اور بولا۔۔ عقل کے اندھے۔۔۔ ادریس علیہ السلام حضرت نوح علیہ السلام کے دادا یا پر دادا تھے۔۔ان کے زمانے میں علم الفلکیات اور رمل نجوم فال وغیرہ کا علم اپنے عروج پر تھا۔ جب ان کی قوم نے ان علوم کے زریعے زمین پر فساد برپا کرنا شروع کیا تو انہیں اس قوم کو تنبیہ کرنے اور ایک خدا کو ماننے کے لئے بھیجا گیا۔۔ جب قوم متواتر انکار کرتی رہی تو انہیں آسمانوں کی طرف اٹھا لیا گیا۔۔ اور قوم کو تباہ کر دیا گیا۔۔ لیکن یہ فرشتہ پرستی ، اصنام پرستی اور ستارہ پرستی کی ابتدا اس قوم سے ہوئی ہے۔۔ ان کے نزدیک جو انوناکی مر جاتا یا اپنا کام مکمل کر لیتا وہ آسمان میں ستارہ بن جاتا۔ یا اس کا گھر و سلطنت کا نشان کوئی ستارہ ہوتا۔۔ انہی نادانیوں کو درست کرنے کی زمہداری حضرت نوح علیہ السلام پر عائد ہوئی۔۔ اور 950 سال ان کو تبلیغ کرنے کے باجود جب ان کی اصلاح نہ ہوئی تو سیلاب نوح یا طوفان نوح نے انہیں سب کو مٹا دیا۔۔
تو آپ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ انوناکی کی تعلیم پیغمبر ادریس علیہ السلام نے دی۔۔ میں نے چونک کر پوچھا؟؟
نہیں۔۔۔ مین کچھ اور سمجھانا چاہ رہا ہوں۔۔ وہ یہ کہ سیلاب نوح علیہ السلام کی ابتدا میسوپوٹیمیہ سے ہوئی اور دوبارہ آباد ہونے پر یہ میسوپوٹیمیہ ہی تھا جہاں Akkadian کی سلطنت قائم ہوئی جنہوں نے پھر سے وہی دیوتا پرستی یعنی انوناکی کی بنیاد رکھی۔۔ اورپھر سے شرک کرنا شروع ہوئے۔ جس پر خدا نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو ان کی طرف مبعوث کیا۔۔
تو کیا Fallen angels اکیڈینز سلطنت کا خدا تھا جس نے زمین کی دیوئ سے اولاد یعنی انوناکی پیدا کئے؟؟؟ میں نے پوچھا۔۔
ایسا نہیں ہے۔۔ بابا بولا۔۔ دراصل جب بھی کسی قوم کو شرک پر آمادہ کیا گیا۔۔ انہیں دیوتاوں کی شکل میں فرشتوں سے متعارف کرایا گیا۔۔ جبکہ یہ سب جنات تھے۔
اور یہ جو 1946 میں book of enoch کا اسرائیلی علاقوں سے ملنا ہے جس میں آسمان سے آنے والے فرشتے ثابت کئے گئے ہیں یہ دراصل دجالی پلان کا حصہ ہے۔۔
ارے بابے تم پھر سے مولوی بن گئے نا دجال کو بیچ میں لے آئے ہو۔۔ میں نے طنزیہ کہا۔۔
سنو !!! بابے نے فیصلہ کن انداز میں کہا۔۔۔
زمین پر انسان سے قبل جن آباد تھے۔ جب اقتدار آدم علیہ السلام کو سجدہ کر کے انسان کی طرف منتقل ہوا تو سرکش جنات نے انسان کو اپنے قابو میں کرنا کا منصوبہ بنایا جس کا ذکر قرآن میں ابلیس کے مکالمہ میں موجود ہے۔۔ کہنے لگا کہ۔۔
قَالَ فَبِمَا أَغْوَيْتَنِي لَأَقْعُدَنَّ لَهُمْ صِرَاطَكَ الْمُسْتَقِيمَ (16)
ابلیس نے کہا : '' تو نے مجھے گمراہی میں مبتلا کیا ہے تو اب میں بھی تیری سیدھی راہ پر (گھات لگا کر) بیٹھوں گا ؛
ثُمَّ لَآتِيَنَّهُمْ مِنْ بَيْنِ أَيْدِيهِمْ وَمِنْ خَلْفِهِمْ وَعَنْ أَيْمَانِهِمْ وَعَنْ شَمَائِلِهِمْ وَلَا تَجِدُ أَكْثَرَهُمْ شَاكِرِينَ (17)
پھر انسانوں کو آگے سے ' پیچھے سے ' دائیں سے ' بائیں سے غرض ہر طرف سے گھیروں گا (اور اپنی راہ پر ڈال دوں گا) اور تو ان میں سے اکثر کو شکرگزار نہ پائے گا " الاعراف
اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ شیاطین اور سرکش اور مشرک جنات نے انسانوں کو گمراہ کرنا شروع کیا۔۔ اور اپنے ماننے والوں کو یہ باور کرایا کہ وہ جنات یا زمینی مخلوق نہیں بلکہ آسمانی فرشتے ہیں اور انسان کو علم و فضل دینے زمین پر وارد ہوئے ہیں۔۔ اسی کتاب اخنوخ میں 36 Fallen angels کا زکر ہے جس میں سے ایک کا نام سن کر تمہیں حیرت ہو گی۔۔اس کا نام "اعزازیل" ہے ۔۔ اور ہم سب جانتے ہیں کہ اعزازیل ابلیس کا نام ہے۔۔جو کہ فرشتہ نہیں ہے۔ لہذا شیاطین نے اپنے ماننے والوں کو اختیار اور طاقت دی اور اپنے آپ کو پوجنے کی طرف راغب کیا۔۔ اسی لئے جب کوئی قوم ترقی کی انتہا کو پہنچتی تو بادشاہ خود کو خدا اور عوام بے راہ روی نفس پرستی اور زنا کی کثرت کی طرف راغب ہو جاتی۔
بابے نے مجھے گم صم دیکھا تو پوچھا تم بتاو نا یار۔۔ کہیں فرشتے درندوں ،مردار کھانے والے جانوروں دھوکہ دینے والے جانوروں کی شکل میں نمودار ہوتے ہیں یا ان کے آنے سے سکون ملتا ہے۔ تم تمام قدیم انوناکی دیکھ لو سب کی شکل مردار خور جانوروں ،درندوں سے ملتی ہے۔۔ کیونکہ یہ دھتکارے ہوئے لوگ پاک ہستیوں کی شکل میں ظاہر ہو ہی نہیں سکتے۔ بس صرف عجیب الخلقت شکل میں انسان کے وجود سے پیدا ہوتے ہین۔۔ اور تم جانتے ہو ان ک آج تک بادشاہی کی نسل بہن اور بھائی کے ملاپ سے پیدا ہونے والے بچے سے چلتی ہے۔۔ یعنی ہر گندہ کام کر کے یہ اپنے لوگوں کو ایک آزاد سوسائیٹی کی طرف ترغیب دیتے ہیں۔۔
حضرت احمد رضا بریلوی نے حضرت علی اور حضرت امام جعفر کے توسط سے طوفان نوح پر ایک تحقیق کی ہے جس کے مطابق طوفان نوح میں دو عمارتیں بچ گئی تھیں جنہیں جنات نے اپنے دور حکومت میں زمین پر بنایا تھا ۔۔ جو کم وبیش آدم علیہ السلام سے بھی 7700 سال پہلے زمین پر موجود تھیں۔۔ اور اس قوم کی نشانی تھیں جنہوں نے زمیں پر آدم علیہ السلام سے قبل 60 ہزار سال حکمرانی کی تھی۔۔۔ اگر یہ بات علمی لوگ نہ بھی مانیں تو اب جدید تحقیق کے مطابق انسانوں سے کہیں زیادہ عقلمند اور ترقییافتہ قوموں کے آثار آج سے 8 لاکھ سال سے ساٹھ لاکھ سال تک کے عرصے میں دریافت ہوئے ہیں۔ جس کی ایک مثال یہ ابوالہول کا مجسمہ ہے اور اہرام مصر کی تعمیر میں بھی جنات یا کسی بھی طاقتور ترین اور عقلمند ترین قوم کا ہاتھ فراموش نہیں کیا جا سکتا۔۔۔
کچھ جاہل مسلمان یہ بھی سمجھتے ہیں کہ انہی فالن اینجلز میں ھاروت اور ماروت بھی شامل ہیں جن کا ذکر قرآن میں موجود ہے۔۔ اور اسرائیلی واقعات کو توڑ مروڑ کر ہاروت اور ماروت جو دو فرشتے تھے انہیں اس میں شامل کر دیا گیا ہے کہ وہ بھی خاتون کی محبت میں پاگل ہو کر اپنے منصب سے گر گئے اور آج بھی بابل کے کنوئیں میں عذاب سہتے ہیں۔ جبکہ قرآن مین ایسی کوئی بات نہیں ہے ۔ بلکہ یہ کہنا زیادہ مناسب ہو گا کہ ہاروت اور ماروت دو فرشتے بابل کے شہر اس لئے بھیجے گئے کہ وہاں کے لوگوں کی آزمائش کریں اور ان کو عذاب سے متنبہ کر دیں کہ اگر وہ قوم باز نہ آئی تو انہیں بھی قوم لوط علیہ السلام کی طرح تباہ کر دیا جائے گا۔ تم جانتے ہو نا!!! قوم لوط کی بد اعمالیوں پر سزا کے لئے اللہ کریم نے دو فرشتے خوبصورت لڑکوں کی شکل میں بھیجے جس پر ان کا فتنہ اور بد اخلاقی مزید بڑھی اور ان فرشتوں نے پوری قوم کو تباہ کر دیا۔۔ قران میں ہاروت اور ماروت کا زکر سورہ بقرہ میں یوں ہے۔
ترجمہ۔۔اور انہوں نے اس چیز کی پیروی کی جو شیطان سلیمان کی بادشاہت کے وقت پڑھتے تھے، اور سلیمان نے کفر نہیں کیا تھا لیکن شیطانوں نے ہی کفر کیا لوگوں کو جادو سکھاتے تھے، اور اس (چیز) کی بھی جو شہر بابل میں ہاروت و ماروت دوفرشتوں پر اتارا گیا تھا، اور وہ کسی کو نہ سکھاتے تھے جب تک یہ نہ کہہ دیتے ہم تو صرف آزمائش کے لیے ہیں، تو کافر نہ بن، پس ان سے وہ بات سیکھتے تھے جس سے خاوند اور بیوی میں جدائی ڈالیں، حالانکہ وہ اس سے کسی کو اللہ کے حکم کے سوا کچھ بھی نقصان نہیں پہنچا سکتے تھے، اور سیکھتے تھے وہ جو ان کو نقصان دیتی تھی اورنہ کہ نفع، اور وہ یہ بھی جانتے تھے کہ جس نے جادو کو خریدا اس کے لیے آخرت میں کچھ حصہ نہیں، اور وہ چیز بہت بری ہے جس کے بدلہ میں انہوں نے اپنے آپ کو بیچا، کاش وہ جانتے۔
یہودیوں نے حضرت سلیمان علیہ السلام پر بھی یہ الزام لگایا ہے کہ وہ کوئی نبی نہیں تھے بلکہ جادو سیکھ کر بادشاہ بنے تھے اور جن اور ہوا ان کے تابع جادو کے زور سے تھی ۔۔جبکہ اس ایت میں واضح ہے کہ حضرت سلیمان علیہ السلام کے زمانے میں سرکش جن اور شیاطین یہ کام کرتے تھے جنہیں آزمانے کو ہاروت اور ماروت دو فرشتے بھیجے گئے۔۔ جبکہ حضرت سلیمان علیہ السلام کے واقعہ میں جب ملکہ بلقیس کا تخت اس کے آنے سے پہلے لانے کا مقابلہ ہوا تو اس میں قرآن کے مطابق وہاں موجود دیو ہیکل جن کی طاقت کے مقابلے میں حضرت سلیمان علیہ السلام کے صحابی حضرت آصف بن برخیا کی طاقت اور فضیلت کئی گنا زیادہ تھی اور جس تخت کے لانے کا وعدہ جن نے کیا تھا وہ چند گھنٹوں پر محیط تھا جبکہ حضرت آصف بن برخیا پلک جھپکتے میں لے آئے تھے ۔۔ اور قران نے انہیں صاحب علم الکتاب کہہ کر فضیلت دی ہے ۔۔جس سے انسان کی طاقت اور فضیلت جنات پر ظاہر ہوتی ہے ۔قران میں ارشاد ہے۔۔
ترجمہ۔۔"آپ نے فرمایا اے سردارو! تم میں سے کوئی ہے جو ان کے مسلمان ہو کر پہنچنے سے پہلے ہی اس کا تخت مجھے لا دے ۔ایک قوی ہیکل جن کہنے لگا آپ اپنی اس مجلس سے اٹھیں اس سے پہلے ہی پہلے میں اسے آپ کے پاس لا دیتا ہوں ، یقین مانئے کہ میں اس پر قادر ہوں اور ہوں بھی امانت دار ۔ جس کے پاس کتاب کا علم تھا وہ بول اٹھا کہ آپ پلک جھپکائیں اس سے بھی پہلے میں اسے آپ کے پاس پہنچا سکتا ہوں جب آپ نے اسے اپنے پاس موجود پایا تو فرمانے لگے یہی میرے رب کا فضل ہے ، تاکہ وہ مجھے آزمائے کہ میں شکر گزاری کرتا ہوں یا ناشکری ، شکر گزار اپنے ہی نفع کے لئے شکر گزاری کرتا ہے اور جو ناشکری کرے تو میرا پروردگار ( بے پروا اور بزرگ ) غنی اور کریم ہے ۔ " سورہ النمل
دنیا کے مخفی علوم اور خصوصا فارس کے علوم میں ایک واقعہ بڑی شد و مد سے بیان کیا جاتا ہے کہ جب حضرت سلیمان علیہ السلام تخت نشیں ہوئے اور جنوں کی قبائل اور گروہوں کو بلایا گیا تو ان سب نے پیش ہو کر اپنا تعارف کرایا کہ کس قبیلہ جن کے سردار کی کیا خصوصیت ہے۔۔ مین تمہیں چند کے نام اور کام بتاتا ہوں انہیں تم اکیڈین اور مصری انوناکی سے موازنہ کر کے دیکھنا کہ کیا یہ واقعی دیوتا تھے جو آسمان سے اترے تھے یا حضرت سلیمان کے دربار کے چند جنات سردار۔۔
حضرت سلیمان علیہ السلام کے سامنے ملائکہ ان کو بھیڑ بکریوں کی طرح ہنکیلتے ہوئے ذلیلانہ انداز میں حاضر کیا اس وقت اجنہ کےچار سو بیس گروہ تھے ۔
حضرت سلیمان علیہ السلام نےانکو عجیب و غریب شکلوں اور مختلف رنگوں میں دیکھا، ان میں سے بعض کو گھوڑوں کی شکل میں،
بعض کو درندوں کی شکل میں اور بعض کو لمبی دموں کے ساتھ اور بعض کو شاخوں کے ساتھ ، اسی طرح انکو مختلف شکلوں میں دیکھا۔حضرت سلیمان نےان کو دیکھ کر خداوند عالم کی عجیب خلقت پر حیران ہوکر سجدہ کیا ۔۔۔
حضرت سلیمان نےان سے ان کےقبیلہ اورفرقہ اور انکی محل سکونت اور ان کےخوراک کےبا رے میں سئوال کیا ؟ تو انہوں نےسوالوں کا جواب دیا ، حضرت سلیمان نےان سے پوچھا پھر آپ لوگوں کی شکلیں مختلف کیوں ہیں؟ جبکہ آپ سب ایک ہی باپ (جان ) کےاولاد ہیں۔
توانہوں نےکہا ہماری شکل اورظاہرکا اختلاف اس پرموقوف ہےکہ ہم کس قدر ابلیس کےمطیع ہیں یا کس قدرمخالفت میں ہیں یعنی ہماری شکلوں کامختلف ہونا اولاد ابلیس کےساتھ ہم بستری کرنے کی وجہ سےہے۔
ان کو عجیب و غریب شکل میں دیکھا کہ بعض اجنہ کا چہرہ سر کےپچہلے حصہ میں تھا اور ان کےمنہ سے آگ نکل رہی تھی ۔
ان میں سے بعض چار پایوں کی طرح چلتے تھے اور بعض دوسروالے تھے ان میں سے بعض کا سر شیر کی شکل میں اور بدن ہاتھی کی طرح تھا۔
حضرت سلیمان نےان میں سے ایک ایسے شیطان کو دیکھا کہ جس کی آدھا شکل کتے ، اور آدھی بلی کی شکل کی تھی اس کام جب پوچھا تو کہنے لگا:میرا کام یہ ہے کہ میں نغمے گاہتا ہوں اور دوسرا شراب بناتا ہوں اور پیتا اور پلاتا ہوں ،میں شراب خوری کو انسان کے سامنےزیبا جلوہ دیکر فریب دیتاہوں۔۔ ہم جانتے ہیں کہ انوناکی Pan اور ہندو مت کے کئی دیوتا ان کیفیات کے حامل ہین۔
اسی طرح سے حضرت سلیمان نےایک اور ایسے شیطان کو دیکھا جو بہت ہی بد شکل اور کالے رنگ کا تھا اور اس کےتمام بدن کےبالوں سے خون ٹپک رہا تھا۔۔ اس کا کام جنگ اور خون ریزی تھا ۔۔ یونانی خداؤں میں Ares اور مصری خداؤں میں Apophis اسی طرح کے کام سر انجام دیتے تھے۔
خدا وند تعالی نےپانچ قسم کےجنوں کو خلق کیا ہےسانپ کی شکل میں ،بچھو کی شکل میں ، حشرات کی شکل میں، آسمانی پرندوں کی شکل میں، اور انسانوں کی شکل میں ،لیکن جن ہمیشہ کتے کی شکل میں ظاہر ہونے کو پسند کرہے ۔۔ قدیم کہانیاں اور خصوصا برصغیر کی کہانیوں میں تو جنات کا خواتین سے محبت اور اولاد کے پیدا کرنے کے قصوں کی بہتات ہے ۔۔ کسی تم نے 1997 کی فلم devils advocate اور د 2005 میں انڈین فلم پہیلی نہی دیکھی۔۔ یہ ہماری اساطیری کہانیوں کا خاص مضمون رہا ہے۔۔ مگر یہ سب فرشتے نہیں تھے۔۔
رہی بات کہ یہ فالن اینجلز یا انوناکی کس طرح سے انسانی وجود سے کھیلے تو یہ کسی ترقی یافتہ اور علمیت کی انتہا پر ہونے والی قوم یا جنس کے لئے نہائت آسان کام ہے۔
وہ کیسے میں نے چونک کر پوچھا؟؟؟
جو قوم انسان کو ترقی کے منزل طے کرا سکتی ہے۔ عجب الخلقت عمارتیں اور علم سکھا سکتی ہے اور خود اپنے عروج کے بعد انسان کے ہاتھوں عرس پر پہنچ کر زوال کا شکار ہوئی ہو ۔۔تو کیا اس کے پاس یہ ٹیکنالوجی نہی ہو گی کہ ہائبرڈ ہیومن تیار کرے اور بنی نوع انسان سے بدلہ لے۔۔ ہم 15 ہزار سال میں اس مقام پر پہنچ چکے ہیں کہ کلوننگ کر سکیں ۔ ہائبرڈ انسان بناسکیں تو وہ جناتی اقوام جن کے سرکردہ لیڈر نے انسان کو بہکانے کی اجازت بھی لے رکھی ہو۔۔کیا وہ اپنے مقاصد کی تکمیل کے لئے ہائبرڈ ہیومن یا سپر ہیرو نہیں نا سکتے۔۔؟؟؟
ہائبرڈ ہیومن۔۔؟؟؟ بابا یہ کیا ہوتا ہے۔۔؟ میں چونک گیا۔۔
یہ Hybrids انسان ہیں۔۔ جس طرح آج کل سائنس DNA Mutations یعنی ڈی این اے میں تبدیلی کر کے چوہے کے جسم پر انسانی کان پیدا کر سکتی ہے۔۔ درخت کے تنے میں انسانی سیل خلیہ کو پروان چڑھا سکتی ہے۔۔ خرگوش اور اسٹار فش کے خلیوں کو ملا کر رات میں چمکنے والے خرگوش پیدا کر سکتی ہے اور رات کو روشنی دینے والے درخت پیدا کئے جا سکتے ہین۔۔ اسی طرح سے انسان کو کسی بھی جانور سے ملاپ کر کے ایک تندرست مضبوط اور ناقابل تسخیر لا فانی انسان پیدا کرنے کی تیاریاں ہو چکی ہیں۔۔ اور اس پراجیکٹ کو gilgamesh project کا نام دیا گیا ہے۔۔ جس پر پردہ تو یہ ڈالا گیا ہے کہ انسانی بیماریوں کے خلاف میڈیکل سائنس ایسے اعضاء بنائے گی جس میں بیماری نہیں ہو گی۔۔ مگر دراصل یہ Hybrids humans کی تیاری کا پراجیکٹ ہے۔۔اور ان کو فلموں میں زمین کا نجات دہندہ دکھانے کے لئے سپر ہیومنز یعنی سپر مین،تھور،اور ولویرین ٹائپ کے انسان جن میں انتہائی طاقت اور جانور کی صفات موجود ہوں گی زمین کو برے لوگوں سے نجات دلائی گے۔۔ ایسی فلموں کی گزشتہ 50 سال سے بھرمار ہو چکی ہے۔۔
پہلے کی کتابوں میں اساطیری (کہانی) کی شکل میں انسان اور دیوتا کے ملاپ سے محبت اور رومانس سے Hybrids پیدا کئے جاتے تھے۔۔ اب اس پیدائش کو سائنسی علم کا نام دے دیا گیا ہے۔۔ لیکن دراصل یہ اس دجال کی آمد کا میدان بنایا جا رہا ہے جو شیطان کا پجاری ہے اور اس کی نمائندہ تنظیم فری میسن اور الومناٹیز آج بھی انسانی جان کی قربانیاں دے کر اپنے انوناکی کو خوش کئے ہوئے ہیں۔۔
البتہ عالم اسلام میں ایک معرکہ ایسا ہوا ہے جس کے بعد انوناکی پس پردہ چلے گئے اور خفیہ حرکات کرتے رہیں گے جب تک دجال کا ظہور نہ ہو جائے۔۔
کیا کہا بابے عالم اسلام میں ؟؟ مین نے چونک کے پوچھا ۔۔
ہاں ہاں اسلام میں ۔۔۔بابا جلال میں اگیا۔۔
کب اور کیسے؟؟؟؟ مجھے شدید تجسس ہوا۔۔
جنگ بدر کے موقع پر ابلیس ایک سردار کی شکل میں آیا جو سراقہ بن مالک بن جعشم کی صورت میں ان کے سامنے کھڑا ہو کر کہہ رہا تھا کہ میں تو اس علاقے کا سردار ہوں بنو مدلج سب میرے تابع ہیں میں تمہارا حمایتی ہوں بے فکر رہو۔ یہ ایسا موقع تھا جب انوناکی دیوتاوں اور ان کے ہائیبرڈ ہیومن سرداروں کی سربراہی ابلیس خود کر رہا تھا۔۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہا کہتے ہیں بدر والے دن ابلیس اپنا جھنڈا بلند کئے سردار کی صورت میں اپنے لشکر سمیت پہنچا اور شیطان سراقہ بن مالک بن جعشم کی صورت میں نمودار ہوا اور مشرکین کے دل بڑھائے ہمت دلائی جب میدان جنگ میں صف بندی ہو گئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مٹی کی مٹھی بھر کر مشرکوں کے منہ پر ماری اس سے ان کے قدم اکھڑ گئے اور ان میں بھگدڑ مچ گئی۔۔۔
جبرائیل علیہ السلام شیطان کی طرف چلے اس وقت یہ ایک مشرک کے ہاتھ میں ہاتھ دیئے ہوئے تھا آپ کو دیکھتے ہی اس کے ہاتھ سے ہاتھ چھڑا کر اپنے لشکروں سمیت بھاگ کھڑا ہوا اس شخص نے کہا سراقہ تم تو کہہ رہے تھے کہ تم ہمارے حمایتی ہو پھر یہ کیا کر رہے ہو؟ یہ ملعون چونکہ فرشتوں کو دیکھ رہا تھا کہنے لگا میں وہ دیکھتا ہوں جو تم نہیں دیکھتے میں تو اللہ سے ڈرنے والا آدمی ہوں اللہ کے عذاب بڑے بھاری ہیں۔ اور اس شخص کے سینے پر مکا مار کر بھاگا۔۔یہ وہ آخری موقع تھا جب انوناکی ، شیاطین اور جنات کھلے عام نظر آئے۔۔ اس کے بعد تا قیامت یہ اپنی خفیہ چالیں چلتے رہیں گے۔۔
کاش تو اس لمحے کو روحانی انکھ سے دیکھ سکتا جب انوناکی ان کے Hybrids children سب ڈر گئے اور ان کی قیادت کے لئے خود ابلیس کو آنا پڑا۔۔ اور سامنے اللہ کریم نے تین ہزار فرشتوں کی فوج اتاری جس کی قیادت جبریل امین فرما رہے تھے۔۔ جن کا ہدف صرف اور صرف ابلیس تھا کاش وہ اس دن کھڑا رہتا۔۔ تو آج مذاہب کی تاریخ مختلف ہوتی۔۔ یاد رکھ اللہ کریم فرشتوں کہ زریعے مومنوں پر اطمینان نازل کرتا ہے۔۔ اور فرشتے نور ہیں۔ جبکہ یہ انوناکی یا دیوتا تمام آتش کی پیداوار اور اسی کائنات میں مقید۔۔ اسی لئے یہ ستاروں کی پوجا کرتے ہیں۔ تاکہ لوگ انہیں خدا سمجھیں۔۔ حدیث پاک میں ایسے بدنسلوں کو یا ہائیبرڈز کو "مغربون" کہا گیا ہے۔۔ یہ شیطان کی پیداوار ہیں۔۔
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کہتی ہیں کہ (ایک دن ) رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا کہ کیا تمہارے اندر (یعنی انسانوں میں ) میں مغربون دکھائی دیتے ہیں ؟ میں نے عرض کیا مغربون کون ہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ مغربون وہ لوگ ہیں جن کے ساتھ جنات یعنی شیاطین شریک ہوتے ہیں ؟ (ابوداؤد )
اسی طرح قران میں بھی شیطان کے چیلنج پر اللہ کریم کا جو جواب ہے اس سے بھی ظاہر ہوتا ہے کہ شیطان اپنا نطفہ بہت سے انسانوں میں شامل کرتا ہے ۔۔جنہیں پہلے ناپاک رہنے کی عادت ڈالتا ہے۔۔ پھر ان میں اپنا نطفہ شامل کر دیتا ہے۔۔
ترجمہ: اور ان کے اموال اور اولاد میں ان کا شریک بن جا اور انہیں (جھوٹے) وعدوں میں لگا رکھ اور شیطان سوائے دھوکے کے انہیں اور کوئی وعدہ نہیں دیتا۔ (سورہ اسراء)
یہی ابلیس کی اولاد انوناکی ہیں اور انوناکی نے جب انسانوں سے تعلق جوڑا تو Hybrids humans پیدا ہوئے۔۔ دجال ایک Hybrids Human ہے۔۔ اور خفیہ طور پر اس نے اپنی سلطنت قائم کر رکھی ہے ہر نفس پرست اسکا Hybrid غلام ہے۔۔ اس کے شر سے صرف وہی بچے گا جس کا نور سے تعلق جڑ جائے گا۔۔اور یہ دنیا تب تک چلتی رہے گی اور کوئی انوناکی اسے تباہ نہیں کر سکتا جب تک نور والے نبی کریمﷺسے لوگوں کا تعلق جڑا ہوا ہے۔ اور صلوات و سلام کی محفلیں سج رہی ہیں۔۔ انشاءاللہ
ضروری ہے نا یار۔۔ اگر ناری مخلوق Hybrid انسان پیدا کر رہی ہے تو اس جنگ کے لئے نوری ملکوتی Hybrid انسان بھی پیدا ہوں۔۔ اور یہ صرف غلامان مصطفیﷺ ہی ہیں۔۔۔ جنہیں تم درود پاک میں آل محمد ﷺ کہتے ہو۔۔۔ جو ان پاک جسموں سے پیدا ہوتے ہیں جن کا وظیفہ درود وسلام و تلاوت قران ہو۔۔
مجھے یوں لگا جیسے ایک نئی زندگی اور ایک تازہ روح مجھ میں پھونک دی اس بابے نے۔۔ میری زبان پہ اس شعر کی مٹھاس محسوس ہونے لگی۔۔
کی محمدﷺ سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیں
یہ جہاں چیز ہے کیا لوح و قلم تیرے ہیں۔۔