توہینِ مذھب و رسالت _ ایک سوال ؟ 352

توہینِ مذھب و رسالت _ ایک سوال ؟


سانحۂ خانیوال میں ذہنی مریض مشتاق احمد ___ توہینِ مذھب کے الزام میں جس طرح ایک ہجوم کے ہاتھوں ماراگیا __ ایسا پہلی بار ہوا ہے اور نہ ہی یہ آخری دلخراش واقعہ ہوگا _ جِس تیزی کیساتھ ھم آگ اور خُون کے ایک خوفناک دریا میں اُتر رہے ہیں ____ لگتا یہ ہے کہ وُہ قیامت ‛جس کا نقشہ قُران کریم میں متعدد مقامات پر کھینچا گیا ہے __ جلد ہی ہم اپنے ہی ہاتھوں برپا کرنیوالے ہیں ___ ایسے میں وُہ لوگ ‛ جو یہ سمجھتے ہیں کہ خاموشی و مصلحت کی چادر اوڑھ کر زندگی کی دوچار سانسیں بچا لینے میں کامیاب ہوجائیں گے __ پرلے درجے کی خوش فہمی بلکہ غلط فہمی میں مبتلا ہیں کیونکہ یہ ایک ایسی زہر آلود ہَوا ہے جو آخرِکار ہرایک کی زندگی کا چراغ گُل کر دے گی ____ تاہم توہینِ مذھب اور گُستاخیٔ رسول کے تقریباً ہر ایسے واقعہ کے بعد عموماً کچھ سوالات مجھے بہت تنگ کرنا شروع کردیتے ہیں مگر اس خوف کے پیشںِ نظر زبان یا نوکِ قلم پر لانے کی بجائے اندر ہی اندر کڑھنے پر اس لئے ترجیح دینے لگتا ہوں کیونکہ ___ ~
کیا خبر کون مجھے مار دے کافر کہہ کر
اب تو اس شہر کے ہرشخص سے ڈر لگتا ہے
میرا ایمان ہے کہ جس دل میں حرمت ِ رسول (ص) اور دینِ مبین کا احترام نہیں _ وہ کچھ بھی ہوسکتا ہے مگر مسلمان کہلانے کا مستحق ہرگز نہیں مگر سوال یہ ہے کہ جس قران مجید میں احکاماتِ خداوندی کی تعمیل پر بار بار زور دیا گیا ہے _______بحیثیتِ مسلمان‛ کیا ان پر عدم تعمیل ‛ قران کریم کی توہین نہیں ؟
وہ رسولِ کریم (ص) جس کا اُسؤہ حسنہ ____ قُرانِ کریم کی عملی تفسیر اور ہمارے لئے مشعلِ راہ ہے ___ اُس پر عمل پیرا ہونے کی بجائے کسی دُوسرے راستے کا مُسافر بننا ____ کیا توہینِ رسالت نہیں ؟
حیرت ہے انسان اور انسانیت کی فلاح و نجات کے عظیم لائحہ عمل پر مبنی قران مجید جیسے آسمانی تحفہ کو چومنے چاٹنے __ تعویذ وگنڈے اور حلف و صفائی سمیت مُردوں کی بخشش اور کاروبار و گھروں میں محض خیروبرکت تک محدود کردیا گیا ہے مگر ان تمام عوامل میں کہیں بھی ہمیں کسی طرح کی بے حرمتی و توہین کا کوئی پہلو دکھائی نہیں دیتا ؟
حضور (ص) کی اُسؤہِ حسنہ کا آخر کون سا ایسا پہلو ہے جِس کو کسی مسلمان سے بغرضِ اصلاح و فلاح پوشیدہ رکھا گیا ہے مگر اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر بتائیے کہ آج ھم میں سے کون اور کتنے خوش بخت ہیں جو اِس صراطِ مستقیم کے مسافر ہیں ؟ جِن باتوں سے منع فرمایا گیا ہے _ اُن سے پرہیز یا جِن کا حکم دیا گیا ہے _____ اُن پر عدم تعمیل کیا توہینِ رسالت نہیں ؟
اس دُنیا میں ایک عام سی عدالت کے کسی چھوٹے موٹے سے فیصلے پر اختلاف کو اگر کسی کو توہینِ عدالت کا مجرم قرار دیا جاسکتا ہے تو سوال یہ ہے کہ قران مجید اور حضوراکرم صلیٰ اللہ ہو علیہ وسلم کے احکامات و ہدایات کی عملی انکار و اختلاف کو آپ کیا کہیں گے ؟ یہ فیصلہ میں آپ اور آپ کے ایمان و ضمیر پر چھوڑتا ہوں ۔
الحمدللہ __ آج ہم ایمان کے اُس "اعلیٰ مقام " پر فائز ہوچکے ہیں کہ مبینہ طور پر ایک ذہنی مریض کے ہاتھوں قرآن کریم کی بظاہر بے حرمتی اور توہین مذھب کا عمل تو نظر آجاتا ہے اور "مجرم " کو فوری طور پر " واصلِ جہنم " کرنے کیلئے کسی تحقیق و تجسس کا تکلف بھی گوارا نہیں کرتے مگر قرانی ہدایات و احکامات پر عمل درآمد نہ کرنے کی صورت میں _ جس حقیقی توہین و بے حُرمتی کے ھم دن رات مرتکب ہورہے ہیں __ افسوس ‛ وہ کسی کو کیا ہمیں بذاتِ خود بھی نظر نہیں آتا؟
بیشک ایک مُسلمان کی زندگی میں قران کریم اور نبیِ مکرم (ص) کا اُسؤہ سب سے قیمتی و مقدس اثاثہ ہے جِس کے بغیر اُس کے ایمان کی تکمیل تک ناممکن ہے ___ اس لئے اسکی توہین و بے حُرمتی کسی بھی مسلمان کیلئے ناقابلِ برداشت ہے مگر کبھی ٹھنڈے دل کیساتھ سوچئے کہ عمل کے اعتبار سے اجتماعی سطح پر کیا ہم سب توہینِ مذھب و رسالت کے مرتکب نہیں ہورہے ہیں ؟
کبھی آپ نے یہ سوچا ہے کہ وہ مسجد جو مسلمانوں کے اتحاد و یگانگت کی علامت تھی _ آج انتشار و فرقہ واریت کا مرکز کیوں بن گئی ہے ؟
وہ دین جس کو امن و آشتی اور دونوں جہانوں میں کامیابی و کامرانی کا ضامن قرار دیا گیا ہے ___ آج اسی کے نام پر وحشت و بربریت پھیلائی جارہی ہے ؟
بڑا واضح سا جواب یہ ہے کہ قانونِ قدرت کا عمل اس کائنات میں مسلسل کارفرما رہتا ہے ____ وہ جو فرمایا گیا تھا کہ میں تمہارے درمیان ایک رسی ( قران مجید) چھوڑ کر جارہا ہوں تم نے اگر اس کو مضبوطی سے تھامے رکھا تو کبھی گمراہ نہیں ہوگے __ افسوس آج ہم نے دنیاوی اغراض و مفادات کی غرض سے اسی رسی کو ایسا پھندا بنا لیا ہے جو ایکدوسرے کے گلے میں ڈال کر مارنے ‛ جلانے اور گھسیٹنے کے کام آنے لگا ہے ___ ظاہر ہے قدرت خداوندی کی طرف سے یہ تیزی کیساتھ جہنم کے دریا میں اترنے کا سفر___ درحقیقت ہمارے اُن اعمال کا ردِعمل ہے جو ہم اللہ _ رسول اور دین کے نام پر بغیر سوچے سمجھے ___ اپنے آپ کو خدائی ٹھیکہ دار قرار دیکر اندھا دھند کئے جارہے ہیں اور جواب میں اللہ تعالیٰ اپنا کام کئے جارہا ہے ۔

بشکریہ اردو کالمز