ہمارے ایم پی اے کا "رقصِ بسمل " ؟ 392

ہمارے ایم پی اے کا "رقصِ بسمل " ؟


گزشتہ روز اپنے ہوم گراؤنڈ ___میانوالی میں جلسہ ءعام سے عمران خان مایوس گئے یا خوش ‛ میں نہیں جانتا ؟
وزیراعظم پاکستان کی بارہا دہرائی گئی باتوں ‛ وعدوں‛ دعوٰوں ‛ خوابوں اور بڑھکوں سے میانوالی کے لوگوں کو کچھ حاصل ہُوا یا نہیں ‛ بدقسمتی سے میں یہ بھی نہیں جانتا ؟
سرکاری و غیرسرکاری چمچوں کھڑچوں کی طرف سے عمران خان کو ایک بارپھر ماموں بنایا گیا یا نہیں ‛ افسوس کہ میں اِس راز کی تہہ تک بھی نہیں پہنچ سکا ؟
اس جلسے کا مگر میرے لئے سب سے دلچسپ اور ماحاصل پہلو __وہ خبر ہے جس کیمطابق وزیراعظم کی آمدپر PTI کی ریلی میں پارٹی کے کارکنوں و راہنماؤں اور عمران خان کے پرانے ساتھیوں نے امین اللہ خان ایم پی اے کی معیت میں والہانہ رقص کیا اور بیخودی کے عالم میں عمران خان کے نعرے بھی لگائے _
سچی بات ہے یہ خبر مجھ تک پہنچی تو عجیب بات یہ ہوئی کہ مجھ جیسے سُست الوجود اور بُڈھے کھوسٹ پر بھی وَجد کی سی کیفیت طاری ہوگئی _ اور اندر اک دھمال کا وبال اٹھا مگر شکر ہے اپنے پوتے اشہد خٹک پر نظر پڑی تو یہی سوچ کر خود پر قابو پایا کہ وہ کیا سوچے گا ؟ تاہم کچھ ٹھنڈ پڑی تو یاد آیا کہ ایک بہت بڑا " یوتھیاء" کِسی زمانے میں میرے اندر بھی پایا جاتا تھا جو اپنے عظیم لیڈر کی ہربات کو آسمانی صحیفہ سمجھ کر آمناً صادقاً کا وِرد شروع کردیا کرتا تھا ____ راز کی ایک بات یہ بھی بتاؤں کہ جنابِ عطاءاللہ عیسٰی خیلوی کے ترانوں پر ___ خوفِ فسادِخلق کی وجہ سے اندر سے پوری طرح کُنڈی چڑھا کر کمرے میں مابَدولت نے بھی کئی بار رقص فرمایا تھا _____ اور نئے پاکستان کے بارے میں جتنے بھی خوبصورت و رنگین خواب دِکھائے گئے تھے ___ ان کی سرشاری و مستی کی کیفیت اُس وقت تک طاری رہی جب تک کپتان صاحب نے وزارتِ عظمیٰ کا حلف نہیں اٹھالیا ______ اب یہ تو ہماری یعنی اِس قوم کی بدقسمتی ہے کہ اُدھر خان صاحب وزیراعظم ہاؤس میں قدم رنجہ ہوکر حقیقی دُنیاء میں داخل ہوئے اور اِدھر ہمیں دِکھائے گئے سارے خواب ایک ایک کرکے ٹوٹنے لگے _ میرا خیال ہے کہ کپتان کو وزیراعظم بننے کے بعد حقیقی دنیاء کے تلخ حقائق کا جلد ہی احساس ہوگیا تھا جس کی وجہ سے انہوں نے خواب فروش عمران خان کو اپنے ہی ہاتھوں سے مار کر " یوٹرن خان" کا لبادہ اوڑھ لیا __ جس پر کسی شرمندگی کی بجائے الٹا فخر بھی کرنے لگے یعنی ~

وہ تیرگی جو مرے نامہ سیاہ میں تھی
تمہاری زُلف میں پہنچی تو حُسن کہلائی
صدیوں سے غلامانہ خُوبو رکھنے والے ہم لوگ جو سینکڑوں بار کئی لشکروں کی راہ میں روندے گئے بلکہ زیادہ تر تو مزاحمت کی بجائے خدمت کا استعارہ بن گئے _____ کاش ¡ غلامی کی اِس "جینیاتی بیماری " کی کوئی ویکسین آزادی کے بعد ہی سہی کہیں کوئی کافر سائنسدان ایجاد کرتا اور کورونا کی طرز پر اِس مسلمان قوم کی ویکسینیشین کرائی جاتی ؟ اس لئے کہ یہ بیماری کورونا سے کہیں زیادہ مہلک اور چھوتی ہے جِس نے حقیقی آزادی کے ثمرات سے آج تک ہمیں محروم رکھا ہے اور نہ جانے کب تک غلامی کی یہ اَن دیکھی زنجیریں گلے کا طوق بنی رہیں گی ؟
شخصیت پرستی کا شمار بھی درحقیقت غلامانہ مائنڈ سیٹ کے " ذیلی اثرات " میں ہوتا ہے ___ ماشاءاللہ ‛ جس میں ھم گوڈے گِٹوں تک دھنسے ہوئے ہیں _______ اب یہی دیکھ لیں کہ کپتان صاحب تو الحمدللہ ‛ وزیراعظم ہاؤس میں قدم رکھتے ہی زمینی حقائق سے روشناس ہوکر یوٹرن پر یوٹرن لے رہے ہیں جبکہ ہمارے منتخب عوامی نمائندے اور پارٹی راہنماء و بیچارے ورکرز انہی گِھسے پٹے خوابوں میں مدہوش _ عمران خان کے نعرے لگاتے ہوئے رقص کرتے دکھائی دیتے ہیں ____ پتہ نہیں مجھے ان سب کا یہ رقص _ " رقصِ بسمل " کیوں دکھائی دیتا ہے جو طربیہ نہیں بلکہ ماتمی دُھنوں پر ہمیشہ کیا جاتا ہے ¡¡¡

بشکریہ اردو کالمز