احسان شاہد کو حکومت برطانیہ سے برٹش ایمپائر میڈل کی مبارک باد مگر حضرت شاہ،بریڈفورڈ کاایک شاعر مر گیا ہے۔ ایک رات گئے تک جاگنے والے نے اپنی آنکھیں بند کر لی ہیں۔ اب بے وقت میرے گھر کی گھنٹی نہیں بجے گی۔اب میں کسی کی گفتگو سے لوک دانش کے موتی نہیں چُن سکوں گا۔اب کون مجھے کہے گا کہ منصور! تم کچھ نہیں جانتے تم کچھ بھی نہیں جانتے۔وہ رات کے دکھ بانٹنے والا۔وہ صبح کی پر نورنواؤں سے بھرا ہوا مسافر۔وہ میرا شاعر، وہ میرا حضرت شاہ کسی خوبصورت نظم کا تعاقب کرتے ہوئے کہیں بہت دور چلا گیا ہے، وہاں چلا گیا ہے جہاں سے کوئی صدا پلٹ کر نہیں آتی۔میں گلے لگ کے عطاالحق قاسمی،طارق مرزا اور صابر رضا سے کہہ رہا ہوں۔حضرت شاہ مر گیا ہے، وہ شاعری کا بدن تابوت میں لیٹا ہوا ہے دیکھو۔دیکھو۔اس کے خاموش لبوں سے اس گیت کی گنگناہٹ سنائی دے رہی ہے۔
موت ملائم ریشم جیسی اور سبک ہے اتنی
جیسے مرغابی کے پر
جیون کاٹھ کباڑ مکاں کا اور دکھوں کا گھر
موت ملائم ریشم جیسی اور سبک ہے اتنی
جیسے خوشبوؤں کا کھوج
جیون ایک پہاڑ سے بوجھل، کون اٹھائے بوجھ
موت ملائم ریشم جیسی
ہاں ہر شخص نے موت کا ذائقہ چکھنا ہےکوئی ہے جو اسے ٹوک سکےاور میرے قریب پڑی ہوئی حضرت شاہ کی کتابوں سے آواز آئی۔ہاں! ہمارے اندر موتیوں کی طرح چنے ہوئے لفظ۔موت کے مد مقابل کھڑے ہیں ۔ فنا ایک عریاں حقیقت سہی مگر یہ علم و قلم کی روشنی۔ یہ زندگی پہ سایہ فگن روشنی۔اس کی قسمت میں فتح و نصرت کا لمحہ ہی تحریر ہے۔کیونکہ آسمانوں سے آتی ہوئی یہی روشنی بقا ساز ہے۔مگر موت موت ہے، ہمیشہ کیلئے کسی کے بچھڑ جانے کا دکھ بہت سفاک ہے کلیجہ چیر دیتا ہے۔ وہ کل تک جس کی آواز،جس کے انداز، رنگ اور خوشبو کا جادو لئے ہوئے تھے آج صرف اس کی یاد کی کپکپاتی ہوئی لوکھڑکی سے اندر آر ہی ہے۔
حضرت شاہ کون تھا؟ کیا تھا؟ کب پیدا ہوا؟ کیوں مر گیا؟میں کچھ بھی نہیں جانتا اور نہ ہی جاننا چاہتاہوں ،میرے لئے یہی بہت ہے کہ وہ ایک شاعر تھا۔ اس کی دوستی سے میرے دل میں پھول مہکتے تھے اس کے سینے میں ایک دھڑکتا ہوا دل تھا۔ ہمدرد دل۔ وہ انسانیت کے زخم زخم بدن کو دیکھ کر چیخ اٹھتا تھااور اس کی چیخ ایک لے کی صورت میں بدل جاتی تھی ایک ایسی لے جس میں گداز تھا جو اس کے مصرعوں میں پروئے ہوئے لفظوں کو نرم و ملائم بنا دیتی تھی۔ طبیعت کی سادگی اور فقیرانہ مزاج نے شہر ِ سخن میں شہرت کی ہوس کو اس کے قرب و جوار میں کبھی آباد نہیں ہونے دیا تھا۔وہ جاوید اختر بیدی کے ساتھ دیر تک اس کٹیا میں بیٹھ کرشراب رنگ پسینوں کی گفتگو کرتا رہتا تھا جس کٹیا کے ماتھے پرلکھا ہوا ہے ”سب مایا ہے“جس کا دروازہ توصیف وتنقیص کی چاپ سن کر کبھی نہیں کھلا۔جس کی دیواروں پر جھوٹی شان و شوکت کی کوئی پینٹنگ موجود نہیں جس کے کچے فرش سے صرف مٹی کی سچی خوشبو آتی ہے۔ سچائی کی خوشبو...جو اِن دنوں مٹی سے بھی آنی بند ہوگئی ہے اور اب تو پورے بریڈفورڈ میں اسد ضیا کے علاوہ اور کون رہ گیا ہے جس کے نواح میں حرف کی خوشبوکی فراوانی ہو۔ حرف کی خوشبو نے مجھے زندگی کا مرثیہ نہیں لکھنے دیا جب بھی عطاالحق قاسمی سے کہتا ہوں کہ موت ایک آفاقی حقیقت ہے تو ادھرسے جواب آتا ہے ہمارا تو زندگی پر ایمان ہے۔ نیکیوں کے موسم میں گلابوں کی طرح مہکتی ہوئی زندگی پر۔یہیں زندگی سے بھرپور برطانیہ کے خوبصورت شاعر احسان شاہد کو مبارک باد کہ جس کی انسان دوستی کے سبب حکومت ِ برطانیہ نے اسے برٹش ایمپائر میڈل دیا ہے۔ احسان شاہد کو یہ اعزاز اسلئے دیا گیا کہ وہ زندگی تقسیم کرتا رہا۔ لندن جیسے شہرمیں سینکڑوں لوگوں کو مفت کھانا کھلاتا رہااور اس کا وہ انگریزی لنگر کئی برسوں سے کھلا ہوا ہے۔ کبھی بند نہیں ہوا۔ آندھی ہو طوفان ہو،کوئی مرجائے،احسان شاہد کا لندن میں لنگر کبھی بند نہیں ہو سکتا۔یقیناً احسان شاہد کو بھی حضرت شاہ کی موت کا بہت دکھ ہو گا۔ حضرت شاہ تقریباًمیرا ہم عمر ہی تھا۔پتہ نہیں اس کو جانے کی اتنی کیا جلدی تھی دس بیس سال اور زندہ رہ جاتا تو قضا کا کیا جاتا۔ اس سے قضا کو کیا دشمنی تھی وہ تو خواب لکھنے والا شخص تھا گیت بُننے والے ہاتھوں پر زندگی کی اتنی مختصر لکیر نہیں ہونی چاہئے۔
جب جاوید اختر بیدی فوت ہوا تھا تو حضرت شاہ نے مجھ سے کہا تھامجھے تو اس پارسے آتی ہوئی کشتیوں سے آنسوؤں بھرے گیت سنائی دیتے ہیں سنا ہے ان آنسوؤں کے موتیوں میں کوئی جنت چھپی ہوئی ہے مگر اس جنت تک پہنچنے کیلئے آنکھ کے نمکین پانیوں کا سمندر عبور کرنا ضروری ہے۔