یونان کشتی سانحہ، لمحہ فکریہ 252

یونان کشتی سانحہ، لمحہ فکریہ

گزشتہ دنوں یونان کے ساحلی مقام کے قریب غیرقانونی تارکین وطن سے بھری کشتی ڈوبنے کے نتیجے میں بیسیوں پاکستانیوں کی موت نے ہر پاکستانی کو دکھ اور صدمے سے دوچار کردیا ہے، پورا ملک سوگوار ہے۔ حالیہ سانحہ کو تارکین وطن کو پیش آنے والے سانحات میں بدترین سانحہ قرار دیا جا رہا ہے۔ ماہی گیری کیلئے استعمال ہونے والی اس بدقسمت کشتی میں 300پاکستانیوں سمیت افغانستان، شام، مصر اور فلسطین سے تعلق رکھنے والے 750سے زائد غیر قانونی تارکین وطن سوار تھے جو لیبیا سے اٹلی کی طرف جا رہے تھے۔ اطلاعات ہیں کہ حادثے سے قبل کشتی کے عملے نے انجن کی خرابی کی اطلاع یونانی کوسٹ گارڈز کو دی مگر کوئی مدد کو نہ آیا اور کشتی 7 گھنٹے تک ایک ہی مقام پر کھڑے رہنے کے بعد تیز ہوائوں اور طوفانی لہروں کے باعث حادثے سے دوچار ہوکر ڈوب گئی۔ حادثے میں بچ جانے والوں نے انکشاف کیا ہے کہ کشتی میں پینے کا پانی ختم ہونے کے باعث 6 افراد حادثے سے پہلے ہی مرچکے تھے جبکہ حادثے کے بعد یونانی کوسٹ گارڈ، حکام انہیں ڈوبتا دیکھتے رہے، ریسکیو کرنے نہ آئے۔

غیر قانونی تارکین وطن کی کشتی ڈوبنے کا یہ پہلا واقعہ نہیں بلکہ گزشتہ کئی برسوں سے تسلسل کے ساتھ ایسے افسوسناک واقعات رونما ہورہے ہیں جن میں غیر قانونی طور پر یورپ جانے کی کوشش میں متعدد افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ کچھ ماہ قبل بھی اٹلی میں کشتی ڈوبنے کے واقعے میں متعدد پاکستانیوں سمیت 100 افراد جاں بحق ہوگئے تھے اور کئی روز تک اس واقعے کی گونج اخبارات اور ٹی وی چینلز پر سنائی دیتی رہی تھی، حکومت یہ دعویٰ کرتی رہی کہ انسانی اسمگلنگ میں ملوث ایجنٹوں کو گرفتار کرلیا گیا ہے مگر کچھ ماہ بعد ہی پیش آنے والے حالیہ سانحہ سے یہ بات ثابت ہوگئی ہے کہ غیر قانونی طور پر بیرون ملک جانے والوں کے رجحان میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے جس کی وجہ ملک میں امن و امان کی خراب صورتحال، بڑھتی ہوئی غربت اور بیروزگاری ہے۔ یہ نوجوان بہتر مستقبل اور حصول روزگار کی غرض سے غیر قانونی طور پر بیرون ملک جانے کیلئے اپنی جانیں خطرے میں ڈال رہے ہیں۔

ان میں سے اکثریت کا تعلق گجرات، جہلم، بہاولپور، منڈی بہائو الدین اور دیگر شہروں سے ہوتا ہے۔ ان علاقوں کے لوگ یہ دیکھ کر کہ محلے کے کسی خاندان کے نوجوان کے بیرون ملک جانے سے اس خاندان کے معاشی حالات بہتر ہوگئے ہیں، تو وہ بھی اپنے نوجوان بیٹوں کو بیرون ملک جانے کی ترغیب دیتے ہیں اور یہ نوجوان انسانی اسمگلنگ میں ملوث ایسے ایجنٹوں کے ہتھے چڑھ جاتے ہیں جو انہیں بہتر مستقبل کا خواب دکھا کر غیر قانونی طریقے سے بیرون ملک لے جانے کا جھانسہ دے کر ان سے بھاری رقوم بٹورتے ہیں۔ اطلاعات یہ بھی ہیں کہ بدقسمت کشتی میں سوار پاکستانیوں سے ایجنٹوں نے 25لاکھ روپے فی کس وصول کئے اور انہیں یورپ پہنچانے کا وعدہ کیا تھا۔ ایک اندازے کے مطابق انسانی اسمگلنگ کے اس گھنائونے دھندے سے ایک ہزار سے زائد کریمنل نیٹ ورک منسلک ہیں جن کا یہ غیر قانونی کاروبار ایک ارب ڈالر سے تجاوز کرچکا ہے۔

جرائم پیشہ انسانی اسمگلرز سرعام سادہ لوح نوجوانوں کو اپنے جال میں پھنسا کر اُن سے بھاری رقوم بٹور رہے ہیں۔ غیر قانونی طور پر بیرون ملک جانے کے خواہشمند ان نوجوانوں میں سے کچھ خوش نصیب نوجوان ہی اپنی منزل تک پہنچ پاتے ہیں جبکہ بیشتر سمندری لہروں کا شکار ہوجاتے ہیں یا انہیں گرفتار کرکے ڈی پورٹ کردیا جاتا ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق گزشتہ سال صرف یورپ سے 33ہزار سے زائد غیر قانونی تارکین وطن کو ڈی پورٹ کیا گیا۔

انسانی اسمگلنگ سے جہاں بین الاقوامی سطح پر پاکستان کی بدنامی ہورہی ہے، وہاں غیر قانونی طور پر بیرون ملک جانے والوں کی بڑی تعداد اپنی قیمتی جانیں گنوا رہی ہے مگر افسوس کہ حکومت اور انسانی اسمگلنگ کی روک تھام کے متعلقہ ادارے کرپشن کی وجہ سے جرائم پیشہ افراد کے سامنے بے بس ہیں۔ حالیہ سانحہ کے بعد حکومت کا دعویٰ ہے کہ پاکستانیوں کو غیر قانونی طور پر بیرون ملک بھجوانے والے درجنوں ایجنٹوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔ حکومت کو چاہئے کہ انسانی اسمگلنگ میں ملوث ایجنٹوں اور جرائم پیشہ افراد کے خلاف سنگین مقدمات چلاکر انہیں عبرتناک سزائیں دے تاکہ آئندہ کوئی انسانی جانوں سے نہ کھیل سکے۔ اگر انسانی اسمگلرز کیخلاف سخت اقدامات نہ کئے گئے تو یہ معاشی بیماری وبا کی صورت اختیار کرکے پورے ملک کو اپنے لپیٹ میں لے لے گی۔

بشکریہ نایٹی ٹو نیوز کالمز