عنبریں عجائب نے یہ خوش خبری سنائی کہ ہماری مشترکہ کتاب ANOTHER WORLD IS POSSIBLE نہ صرف پاکستان میں چھپ چکی ہے بلکہ ان کے دوست اور مداح اس کتاب کی رونمائی کا انتظام و اہتمام بھی کرنے لگے ہیں۔ عنبرین عجائب کی خواہش ہے کہ میں اس تقریب کے لیے چند الفاظ بھیجوں۔
خواتین و حضرات!
یہ میرے لیے فخر کی بات ہے کہ میں نے عنبرین عجائب کے ساتھ مل کر عورتوں کی آزادی و خود مختاری کے موضوع پر ایک کتاب تخلیق کی۔ جب میں اس کتاب کے لیے تحقیق کر رہا تھا تو میرا بہت سی مغربی لکھاریوں اور دانشوروں سے تعارف ہوا۔ ان دانشوروں سے میں نے پچھلی دو صدیوں کی فیمینزم کی سماجی تحریک کے بارے میں بہت کچھ سیکھا اور یہ بھی جانا کہ فیمینزم کی تحریک کی سیکولر ازم ’سوشلزم اور ہیومنزم کی تحریکوں نے مدد کی۔ اس کتاب کے لیے میں نے جن مغربی دانشوروں پر مضامین لکھے ان میں سیمون دی بووا‘ بیٹی فریڈین ’اینائس نن‘ لو سیلوم اور ورجینیا وولف کے علاوہ اور بھی کئی خواتین شامل ہیں۔
میں نے عنبرین عجائب کے ساتھ مل کر کتاب لکھنے سے قارئین کو یہ بھی بتانے کی کوشش کی ہے کہ مرد اور عورت کسی مشترکہ مقصد کے لیے مل کر کام کر سکتے ہیں اور وہ مقصد ایک منصفانہ اور پرامن معاشرے کا قیام ہو سکتا ہے۔ ایسا معاشرہ اسی وقت ممکن ہے جب
۔ لڑکوں اور لڑکیوں ’مردوں اور عورتوں کو مساوی مواقع میسر ہوں۔
۔ جب سب شہریوں کے انسانی حقوق کا احترام کیا جائے
اور
سب انسانوں کو اپنی صلاحیتوں کے بھرپور اظہار کا موقع دیا جائے
یہی ہماری خواہش ہے
یہی ہماری آرزو ہے
یہی ہمارا آدرش ہے
اور یہی ہمارا خواب ہے
ہم سب کو مل کر یہ خواب دیکھنا ہے اور پھر اس خواب کر شرمندہ تعبیر کرنا ہے
میں انسانی ارتقا پر ایمان رکھتا ہوں اور یہ بھی جانتا ہوں کہ انسانی ارتقا ایک سست نہایت ہی سست رو عمل ہے جس میں سماجی تبدیلی لانے میں کئی نسلیں بیت جاتی ہیں۔
میں آپ کو ایک ہندوستانی بزرگ کی کہانی سنانا چاہتا ہوں جو نوے برس کی عمر میں اپنے باغ میں آموں کے درخت لگا رہے تھے۔ ان کے نوجوان ہمسانے کہا
’بابا جی آم کے درخت تو کئی سالوں کے بعد پھل دیتے ہیں۔ جب تک یہ درخت پھل دیں گے آپ اس دنیا سے رخصت ہو چکے ہوں گے‘
اس نوجوان کی بات سن کر بابا جی مشفقانہ انداز سے مسکرائے اور فرمایا
’بیٹا میں یہ درخت اپنے لیے نہیں اپنے نواسوں اور نواسیوں کے لیے لگا رہا ہوں۔ وہ برسوں بعد جب آم کھائیں گے تو مجھے یاد کریں گے۔ ‘
میں نے بھی یہ کتاب آئندہ نسلوں کے لیے لکھی ہے۔
میری نانی اماں کہا کرتی تھیں
ایک اور ایک دو نہیں گیارہ ہوتے ہیں
اگر مرد اور عورتیں مل کر سماجی اور تخلیقی کام کریں تو وہ ایک اور ایک گیارہ کے فلسفے کا عملی اظہار کر سکتے ہیں ْ۔ مل کر ایک منصفانہ اور پرامن معاشرے کا خواب دیکھ سکتے ہیں اور پھر اس خواب کو شرمندہ تعبیر کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں۔
میں نے اپنی مشترکہ کتاب کے آخری باب میں عرض کیا تھا۔
’انسانی تاریخ کا ایک وہ دور تھا جب عورتوں کو دوسرے درجے کا شہری سمجھا جاتا تھا اور انہیں انسانی حقوق سے محروم رکھا جاتا تھا۔
انہیں تعلیم حاصل کرنے کے لیے سکول اور کالج جانے کی اجازت نہ تھی
انہیں جائیداد حاصل کرنے کا حق نہ تھا
وہ اکیلے نہ رہ سکتی تھیں
انہیں گاڑی چلانے کی اجازت نہ تھی
وہ اکیلے سفر نہ کر سکتی تھیں
وہ پادری اور ربائی نہ بن سکتی تھیں
وہ اپنی شریک سفر اور شریک حیات نہ چن سکتی تھیں
وہ ووٹ نہ دے سکتی تھیں
وہ صدر اور وزیر اعظم نہ بن سکتی تھیں
وہ معاشی طور پر مردوں کی دست نگر تھیں
لیکن مغربی عورتوں نے جدوجہد کی اور مردوں کے برابر حقوق و مراعات حاصل کرنے کی کوشش کی اور کئی حوالوں سے کامیاب بھی ہوئیں
لیکن بدقسمتی سے مشرق میں اکیسویں صدی میں بھی ایسے ممالک اور معاشرے موجود ہیں جہاں عورتیں آج بھی دوسرے درجے کی شہری سمجھی جاتی ہیں اور وہ انسانی حقوق سے محروم ہیں۔
اب وقت آ گیا ہے کہ ہم سب مل کر عورتوں کی آزادی و خود مختاری میں ان کی مدد کریں تا کہ وہ ساری دنیا میں مردوں کے برابر حقوق و مراعات حاصل کر سکیں۔
ہم سمجھتے ہیں
مرد اور عورت ایک ہی گاڑی کے دو پہیے ہیں۔ اگر وہ برابر ہوں تو کتنا اچھا ہو کیونکہ پھر زندگی کی گاڑی ہچکولے نہ کھائے گی۔
میں ان دوستوں کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں جنہوں نے ہماری مشترکہ کتاب کی تقریب رونمائی کا اہتمام و انتظام کیا۔