سید علی گیلانی بابائے حریت یکم ستمبر 2021ء کو بارہ مولہ حیدر پور اپنے گھر میں تقریبا 92 سال کی عمر میں دنیا فانی سے رخصت ہوئے ، وہ ستمبر 1929,ء میں پیدا ہوئے تھے ، زندگی کے 75 سال مسلسل بھارتی تسلط کے خلاف توانا آواز کے ساتھ لڑتے رہے ، نیلسن منڈیلا کی جدوجہد اور آزادی کی خاطر قید و بند کی صوبعتیں اور جبر و تشدد ایک استعارہ ہے مگر کشمیری حریت پسندوں میں شبیر احمد شاہ ، یسین ملک اور سید علی گیلانی نے نیلسن منڈیلا کا بھی ریکارڈ توڑا ، سید علی گیلانی ابتدائی عمر سے ہی بھارتی مظالم کے خلاف اور کلمہ طیبہ کی بنیاد پر الحاق پاکستان کے سب سے بڑے حامی ریے ، وہ جماعت اسلامی کے اہم رکن ، رہنما ھونے کے ساتھ ساتھ موتمر عالم اسلامی کے رکن رہے ، ان کی اعلیٰ تعلیم اور تربیت کا زیادہ حصہ پنجاب یونیورسٹی اور لاھور کے علمی و ادبی حلقوں سے حاصل کیا ، اپنے آبائی علاقے سوپور سے سرینگر اور دہلی سے عالمی سطح پر سید علی گیلانی مرحوم کا ایک قائدانہ کردار تھا جو صدیوں یاد رہے گا ، انہوں نے شیخ عبداللہ ، سمیت بھارتی حکمرانوں کے خلاف منظم سیاست بھی کی اور حریت کانفرنس میں شامل ھو کر تحریک آزادی کشمیر کے لیے سخت بلکہ سب سے سخت حالات اور نظر بندی کا بھی سامنا کیا ، قائد اعظم محمد علی جناح کی لیڈرشپ اور دینی و فکری اعتبار سے مولانا مودودی صاحب سے متاثر تھے ، ساری زندگی جدوجہد اور تسلسل و استقامت کا ھمیشہ کے لئے استعارہ بن گئے ، 5 اگست 2019,ء کے بھارتی اقدام کے خلاف پیرانہ سالی کے باوجود علم اٹھایا اور نظر بندی کی تکلیفیں برداشت کیں ، اسی جدوجہد میں آخری وقت تک مصروف رہے اور آزادی کی تڑپ لے کر جان جان آفریں کے سپرد کی ، یکم ستمبر 2021ء کو اپنے خالق حقیقی سے جا ملے ،
سید علی گیلانی کی وفات بھارتی حکومت اور ظلم کے خلاف ایک نئی تحریک کا لہو تھا ، پورے کشمیر میں کرفیو لگا دیا گیا قریبی عزیزوں کو بھی جنازے میں شریک نہیں ھونے دیا ، مگر سید علی گیلانی صاحب کی جدوجہد تاریخ کا سرورق بن چکی ہے جو لوگوں کے دلوں میں محفوظ ہے ،" اپنی کتاب روداد قفس " میں انہوں نے تحریک آزادی کشمیر کے دوران برداشت کیے جانے والے مظالم کو اجاگر کیا ،
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ان شخصیات نے اور دو کشمیری نسلوں نے قربانی پیش کر دی ، مگر نتائج کیسے حاصل ھوں گے ؟ اس کے لیے کشمیری عوام ، قیادت اور ماہرین کو تاریخ کو عصر حاضر اور مستقبل کو سامنے رکھ کر فیصلہ کرنا ھوگا ، ھمارے سامنے ایک فارمولا 1947ء کا ہے ، جب عوام نے ڈوگرہ حکومت کے خلاف بغاوت کی اور اور فتح کا نقارہ بجاتے بارہ مولہ تک پہنچ گئے ، اور سیز فائر کا شکار ھو گئے ، جس سے بھارت کو فوری قبضے کا موقع اور بغاوت سے عالمی موقف مل گیا ، جس سے سات لاکھ فوج یہ جواز بناتے ہوئے کہ حملہ پاکستان نے کیا ہے ، سرینگر اتر گئی اور آج یہ تعداد دوگنا ھو گئی ، وہ وقت تھا کہ دانشمندی سے جدوجہد جاری رکھی جاتی تو کشمیر آزاد ہو چکا ھوتا ، لیکن تاریخ اس طرح کی غلطیوں پر معاف نہیں کرتی ، وہ لارڈ ماؤنٹ بیٹن کی سازش تھی یا نہرو ، ماؤنٹ بیٹن مشترکہ منصوبہ بندی ، لیکن ھماری طرف سے سیاسی اور عسکری بصیرت کا مظاہرہ نہ ہو سکا جس کے نتائج بھگت رہے ہیں،
دوسرا فارمولا ھماری تاریخ کا 1947ء میں بننے والی انقلابی حکومت کا جو سردار ابراہیم خان کی قیادت میں بنی تھی جس کے مقاصد ایک بیس کیمپ کی صورت میں جدوجہد جاری رکھنا تھا ، یہ بھی ایک اچھا فارمولہ ھے آج اگر آزاد کشمیر ، مقبوضہ کشمیر اور اورسیز کشمیری مل کر ایک شیڈو آزادی کابینہ بنا لیں تو بھی بھارتی ظلم و ستم اجاگر کرنے میں مدد مل سکتی ہے ، البتہ 1947ء میں بننے والی حکومت جلد اپنے مقاصد سے دور ہو کر اقتدار کی دوڑ میں مصروف ھو گئی جو آج تک جاری ھے ، چھوٹا سا آزاد کشمیر اور بڑی حکومت پچاس لاکھ افراد پر ایک بوجھ ھے ، جس میں تحریک آزادی کشمیر بس ایک تقریروں کا حصہ ہے ، صرف سات ھزار مربع کلومیٹر پر بننے والی حکومت وزیروں اور مشیروں کی نذر ہو گئی ، تنقید مقصد نہیں اس کو صرف مقبوضہ کشمیر یا آزادی کی تحریک کے طور پر سمجھا جائے ،
تیسرا فارمولا 1993ء میں شروع ھونے والی عسکری جدوجہد کا ھے جس کے نتیجہ میں ایک لاکھ سے زائد لوگ قربانی دے چکے ، خواتین ، نوجوان ، بچے اور ہر طبقہ اس کے لیے قربانیوں کی داستان رقم کر چکا ، مگر نتائج نہیں حاصل ھوئے ، نقصان یہ ہوا کہ عوام گروہوں میں اور نظریات مذھبی تفرقات میں بدل گئے ، علاؤہ ازیں ھم 71,ء اور 1965ء اور پھر کارگل میں بھی کشمیر کا بہت نقصان کر بیٹھے ، عسکری جدوجہد سے معاش اور معاشرت دونوں کو شدید دھچکا لگا ہے ، کشمیر کے حل کے لیے جنرل پرویز مشرف کے دور میں آگرہ میں بھی مذاکرات ھوئے ، راستے کھلنے کے کچھ معاشی اور معاشرتی فوائد ھوئے مگر کوئی بڑا بریک تھرو نہیں ھو سکا ، شملہ ، تاشقند اور اس سے قبل اقوام متحدہ کی قراردادیں ، بھی کشمیر پر موقف دے چکے ،
حل کہاں پوشیدہ ہے ، ان تمام فارمولوں کو سامنے رکھا جائے اور عصر حاضر اور مستقبل کے مطابق فیصلے کیے جائیں یہ کام کوئی اور نہیں کرے گا خود کشمیری قیادت اور عوام نے کرنا ہے ، دیکھیں سب سے پہلا زوال ھماری آزاد کشمیر کی قیادت کا ھے جہاں کوئی ایسی جماعت یا شخصیت موجود نہیں جو کوئی لائحہ عمل دے سکے ، محبوبہ مفتی ، آزادی کے مخالف ترین شیخ عبداللہ کا بیٹا ڈاکٹر فاروق عبداللہ آگے اس کا بیٹا عمر عبداللہ ، کشمیری پنڈت اور کئی دوسرے رہنما کہہ چکے ہیں کہ کشمیر کو کسی "جناح" کی ضرورت ہے ، اس لئے قیادت کو یہ منصب سمجھ کر تمام سیاسی اور مذہبی اختلافات اور نظریات کو پس پشت ڈال کر صرف آزادی کو اپنا منشور اور مشترکہ قیادت کا موقف بنا کر سیاسی جدوجہد اور عالمی سطح پر سفارتی کوششیں کی جائیں ، دنیا میں سیاسی اور سفارتی تحریکوں کے جتنے اثرات مرتب ھوتے ہیں عسکری جدوجہد کے نہیں ، یہی ایسا حل ھے جو فی الوقت قابل عمل ہے ، سید علی گیلانی ، یسین ملک ، شبیر احمد شاہ ، مسرت عالم ، اشرف صحرائی ، دیگر حریت رہنماؤں اور آزاد کشمیر کے نوجوانوں کی قربانیاں رنگ لا سکتی ہیں ، ھم خود مختاری ، الحاق اور دوسرے کئی طرح کے نظریات میں الجھے رہے تو مزید بھی کچھ حاصل ھونے کی توقع نہیں ہے ، یہ توانائیاں ضائع کرنے والی بات ہے ، آزادی اور صرف آزادی ، ورنہ سوچ لیں مقبوضہ کشمیر کی آبادی کا تناسب بدلنے، مذھب کی زبردستی تبدیلی اور ھندوؤں کی ابادی کاری کا عمل تیزی سے جاری ھے، جو 5 اگست 2019ء سے جاری ہے ، آپ ، ھم کچھ نہیں کر سکتے ، ھم سب کا اتحاد اور ایک مؤقف بہت کچھ کر سکتا ہے ، ھمیں علی گیلانی صاحب مرحوم جیسے مدبر لوگوں کی قربانیوں کو یاد رکھنا چاہیے ، انہیں آگے بڑھانا ہے ، یہی مستقبل کا فیصلہ ھے ، آج کے نوجوان اس کا سب سے بڑا سرمایہ اور وسیلہ ہیں
177