سیاسی انہونیوں کا نظام ……(2) 309

سیاسی انہونیوں کا نظام ……(2)

سیاسی رہنما پارلیمنٹ اور ٹی وی شوز میں بھانت بھانت کے دلائل پیش کر رہے تھے۔وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا کہ نواز شریف کو اراکین پارلیمنٹ کی بھرپور حمایت حاصل ہے۔ انہیں کوئی غیر آئینی طریقے سے نکال نہیں سکتا‘ شازیہ مری نے اسے پارلیمنٹ پر حملہ قرار دیتے ہوئے دھرنے والوں کو آئین کی توہین کا مرتکب قرار دیا۔ ڈاکٹر طاہر القادری نے کہا کہ انہیں انصاف نہ ملا تو وہ لوگوں کو پارلیمنٹ میں داخل ہونے سے روک نہ پائیں گے۔مولانا فضل الرحمن بولے کہ آئین کی حفاظت کے لئے تمام جماعتیں متحد ہیں۔ مذاکرات کے لئے رابطے‘ سیاسی بیانات‘ انتظامی اقدامات اور پلٹنے جھپٹنے کے واقعات تیزی سے رونما ہو رہے تھے۔ ایکس سروس مین ایسوسی ایشن بھی اس صورت حال میں کود پڑی۔ انہوں نے نگران حکومت کے قیام‘ انتخابی اصلاحات اور آزادانہ نئے انتخابات کا مطالبہ کیا۔یہ عمران کے موقف سے ہم آہنگ تھے۔ 16دسمبر 2014ء کو پشاور میں آرمی پبلک سکول پر دہشت گردوں نے حملہ کر دیا۔ڈیڑھ سو سے زائد اساتذہ ‘ طلبا اور ملازمین جاں بحق ہوئے۔سیاسی مطالبات منوانے کے لئے جو مواقع تحریک انصاف اور اس کی اتحادی جماعتوں اور گروپوں نے پیدا کئے تھے وہ یکایک ختم ہو گئے۔ پوری قوم دھاندلی‘ انتخابات اور حکومت ہٹانے کی بجائے اپنے بچوں کے تحفظ کے لئے فکر مند دکھائی دینے لگی۔سکولوں کی چار دیواری بلند کر دی گئی، گارڈ رکھنا لازمی قرار دیدیا گیا ۔گھروں کے باہر کیمرے لگ گئے ۔امراء نے محافظ رکھ لئے ،کئی ایک نے بلٹ پروف گاڑیاں منگوا لیں۔ان حالات میں ایک آل پارٹیز کانفرنس بلائی گئی۔ جو سیاسی حریف پارلیمنٹ کے اندر‘ مذاکرات کے میز اور ٹیلی فون پر ایک دوسرے کے سامنے آنے پر آمادہ نہ تھے۔ وہ ایک ہی چھت تلے بیٹھ گئے۔یہ الگ بات کہ کچھ لوگ ایک دوسرے سے نظریں چرائے دیکھے گئے۔ جن سانحات کا خدشہ ظاہر کر کے جھگڑالو سیاست دانوں کو مل بیٹھنے کا مشورہ دیا جاتا ہے۔ اے پی ایس کا واقعہ ایسا ہی تھا۔اس آل پارٹیز کانفرنس میں تحریک انصاف خود کو اجنبی سمجھتی رہی لیکن اس کی شرکت کو سراہا گیا۔ یہ وہ موقع تھا جب دہشت گردی کے خلاف نیشنل ایکشن پلان کے ساتھ سیاسی اخلاقیات اور اصلاحات کے ضمن میں فوری نہ سہی کچھ وقت کے بعد ایک دوسرے سے رابطے کئے جاتے۔ دھرنے پر بیٹھی پی ٹی آئی کے لئے یہ آسان نہ تھا کہ وہ اپنے مطالبات منوائے بنا ڈی چوک سے چلی جاتی۔ انہونیوں کو ہونی میں بدلنے کا اختیار جن قوتوں کے پاس ہے وہ اس صورتحال سے پوری طرح واقف تھیں۔ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کے اندر سے کچھ آوازیں بھی اس بات کے حق میں تھیں کہ روٹھے ہوئے عمران خان کو بھلے کچھ نہ دیا جائے لیکن جمہوریت میں ایک دوسرے کو منانے کی روایت ضرور زندہ رہنی چاہیے۔ ان ہی لوگوں کی کوشش سے حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان ایک معاہدہ طے پا گیا۔ اس وقت کے وزیر خزانہ اسحق ڈار نے مسلم لیگ ن اور پی ٹی آئی کے درمیان معاہدے کا اعلان کیا۔ مسلم لیگ ن نے 2013ء کے عام انتخابات میں مبینہ دھاندلی کے الزامات کی تحقیقات کے لئے جوڈیشل کمیشن بنانے پر آمادگی ظاہر کی۔معاہدے کا اعلان تحریک انصاف کے رہنما شاہ محمود قریشی کے ساتھ پریس کانفرنس میں کیا گیا۔اس معاہدے کے مطابق جوڈیشل کمیشن دھاندلی کے معاملے کی 45روز کے اندر تحقیقات کرے گا‘ وزیر اعظم نواز شریف نے جوڈیشل کمیشن قائم کرنے کے معاہدے کی منظوری دی۔ 19مارچ 2015ء کو اس معاہدے کا اعلان کیا گیا تو شاہ محمود قریشی نے میڈیا کے نمائندوں کو بتایا کہ ان کی جماعت نے زیادہ سے زیادہ لچک کا مظاہرہ کیا۔شاہ محمود قریشی نے اس امر کی تصدیق کی کہ جوڈیشل کمیشن بنانے کے مطالبہ کو پیپلز پارٹی کی حمایت بھی حاصل تھی۔ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا کہ تحریک انصاف ایک ایسا نظام تشکیل دینا چاہتی ہے جس میں سب فریق ایک دوسرے کا احترام کریں۔ جوڈیشل کمیشن نے تحقیقات کے بعد آگاہ کیا کہ 2013ء کے عام انتخابات میں منظم دھاندلی کے ثبوت نہیں ملے۔ جوڈیشل کمیشن کے سربراہ چیف جسٹس سپریم کورٹ جسٹس ناصر الملک تھے۔جوڈیشل کمیشن نے 39اجلاس کئے۔شواہد کا جائزہ لیا اور 3جولائی کو اپنی رپورٹ پیش کر دی۔کمیشن نے سرکاری اہلکاروں‘ عدالتی افسران‘ سیاست دانوں اور صحافیوں سمیت 69افراد کو بطور گواہ سنا۔ اگست 2015ء میں الیکشن ٹربیونل نے دھاندلی کیس میں قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 154کے انتخاب کو کالعدم قرار دیدیا۔ یہاں سے مئی 2013میں آزاد امیدوار صدیق خان بلوچ نے پی ٹی آئی کے جہانگیر ترین کو شکست دی تھی۔ اس حلقے میں 20ہزار ووٹوں کے کائونٹر فائل پر شناختی کارڈ نمبر نہیں تھے یا پھر غلط درج تھے۔الیکشن ٹربیونل نے لاہور میں این اے 122سے سپیکر ایاز صادق اور این اے 125سے سعد رفیق کے انتخاب کو بھی کالعدم قرار دیا کہ یہاں بھی بے ضابطگی پائی گئی۔چوتھا حلقہ خواجہ آصف کا تھا جہاں تمام امور تسلی بخش بتائے گئے۔ سعد رفیق نے اپنے انتخاب کو کالعدم قرار دیے جانے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کئے رکھا۔تحریک انصاف اور عمران خان نے بطور قائد ایک مضبوط مخالف نظام میں شگاف ڈال کر کئی خرابیوں کی نشاندہی کی۔ضمنی انتخاب میں جہانگیر ترین جیت گئے۔ ایاز صادق بمشکل 500ووٹ سے دوبارہ جیت پائے۔ جزوی طور پر سبھی نے خرابی کو دھاندلی ‘ غیر منظم دھاندلی‘ بے ضابطگی اور انتظامی نااہلی کا نام دے کر تسلیم کر لیا۔یہ دوسرا موقع تھا جہاں پی ٹی آئی کو سیاسی امور میں دیگر جماعتوں کے ساتھ بٹھایا جا سکتا تھا۔عمران خاں کو اپنی مقبولیت میں اضافہ نظر آ رہا تھا،وہ سیاسی مخالفین کے لئے جارحانہ زبان اور لہجہ استعمال کر رہے تھے ۔سیاست کو مکالمے کے دائرہ سے نکال کر ہاتھا پائی اور ویڈیو ریکارڈنگ تک لانے کا کام شروع ہو چکا تھا۔(جاری ہے )

 

بشکریہ جنگ نیوزکالم